انڈیا میں باپ بننے پر چھٹی: ’ماں بچے کو دودھ پلائے گی، تمہارا وہاں کیا کام ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہVINEETA AGARWALA/TWITTER
اگر دیکھا جائے تو ایک بچے کی پرورش کے لیے کبھی واقعتاً ایک پورا گاؤں درکار ہوتا تھا۔ 35 سال کے ریحان خان آپ کو بتا رہے ہیں کہ وقت یا تجربے کے ساتھ اس میں آسانی یا افراتفری میں کمی نہیں ہوئی۔
جنوبی انڈیا کے شہر بنگلور میں مقیم ایک مارکیٹنگ مینیجر ریحان خان نے سنہ 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران اپنے تیسرے بچے کا خیر مقدم کیا۔
اس بار ان کا والد بننے کا تجربہ واضح طور پر مختلف تھا۔ وہ جس ٹیک کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہیں اس کمپنی نے پیٹرنٹی کے لیے دی جانے والی چھٹی کو ایک سے تین ہفتوں تک بڑھا دیا تھا جبکہ ان کی بیوی، جو کہ امریکہ میں قائم ایک ٹیک کمپنی کے لیے کنٹریکٹ ورکر ہیں، وہ 15 ہفتوں کی چھٹی لینے کی اہل تھیں۔
مسٹر خان بتاتے ہیں کہ پہلا مہینہ سخت تھا کیونکہ بچے کو مسلسل توجہ کی ضرورت تھی اس لیے سونے کے اوقات اور انداز بدل گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’میری بیوی صبح ساڑھے تین بجے تک بچے کے ساتھ رہتی اور پھر میں اس کی ذمہ داری سنبھال لیتا۔ اسے لے کر چلنا، اس کے ساتھ کھیلنا اور اسے خوش کرنا یہ سب میرا کام رہتا۔‘
ان کا یہ انتظام کارگر رہا کیونکہ وہ اور ان کی بیوی دونوں گھر سے کام کر رہے تھے، ان کے والدین مدد کرنے کے لیے ان کے ساتھ تھے اور وہ مالی طور پر کافی بہتر تھے کہ ایک بڑے اپارٹمنٹ میں چلے جائیں۔
مسٹر خان نے اس تجربے کو انتہائی ’خوشگوار‘ قرار دیا لیکن انھوں نے فوری طور پر اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ان کی طرح کی کہانیاں نایاب ہیں اور ایسا ہونا ایک اعزاز ہے کیونکہ بہت ہی کم انڈین کمپنیاں ایک جوڑے کی بچوں کی دیکھ بھال کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرا مینیجر انڈین نہیں اور میری بیوی کا باس امریکی ہے۔ اس سے فرق پڑتا ہے کیونکہ وہ اس بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی مرکزی اور زیادہ تر ریاستی حکومتیں شادی شدہ مرد ملازمین کو بچے کی پیدائش کے وقت یا اس کے چھ ماہ کے اندر صرف پندرہ دن کی چھٹی لینے کی اجازت دیتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والی انڈین خواتین تنخواہ کے ساتھ 26 ہفتوں کی چھٹی کی حقدار ہیں اور دنیا بھر میں یہ طویل ترین تنخواہ والی چھٹیوں میں سے ایک ہے تاہم اب بھی پیٹرنٹی چھٹی کے لیے کوئی ملک گیر پالیسی نہیں۔

،تصویر کا ذریعہHIMANSHU DHANDA
بہرحال کچھ نجی کمپنیوں نے باپ بننے، گود لینے والے والدین اور ایل جی بی ٹی جوڑوں کے لیے پیٹرنٹی چھٹی کی سہولت شروع کر دی ہے۔ ٹیک کمپنیاں با صلاحیت افراد کو بھرتی کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے پیٹرنٹی چھٹی کے لیے معقول رقم بھی دیتی ہیں۔
مشروبات کی بڑی کمپی ’ڈیاگو‘ اپنے ملازمین کو جنس یا جنسی رجحان سے قطع نظر 26 ہفتے کی پیٹرنیٹی لیو کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
پچھلے مہینے ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو پراگ اگروال نے اعلان تھا کہ وہ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد چند ہفتوں کی چھٹی پر جا رہے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا میں پیٹرنٹی لیو کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔
انڈیا کی ٹیک کمپنیاں اور سٹارٹ اپس جو اس طرح کی فراخدلانہ پیش کر رہی ہیں وہ اپنی پالیسیوں میں اس کا بطور خاص ذکر کر رہی ہیں۔
انڈیا میں مشترکہ خاندان کا رواج رہا ہے اور متعد نسلیں ایک ساتھ رہتی آ رہی ہیں۔ اس طرح کے خاندان اب تک بچوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اس میں اب تبدیلی آ رہی ہے کیونکہ اب نیوکلير خاندان کا رواج عام ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کی مرکزی حکومت کے ایک ملازم ہمانشو ڈھنڈا نے کہا کہ ان کے موجودہ کام کی جگہ پر ثقافتی تبدیلی نظر آ رہی ہے جہاں سینیئر مرد ساتھیوں نے انھیں ’خوش قسمت‘ کہا کیونکہ وہ اپنے بچے کی پیدائش کے لیے چھٹی لے سکے جو ان کے بقول ان کے زمانے میں دستیاب نہیں تھی۔
مسٹر ڈھنڈا کے والد اب ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں۔ تین دہائی قبل جب انھوں نے پیٹرنٹی چھٹی لینے کی کوشش کی تھی تو ان کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
مسٹر ڈھنڈا اپنے والد کی بات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انھوں (میرے والد) نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ یہ ماں ہے جو بچے کو دودھ پلائے گی۔ تمہارا وہاں کیا کام ہے؟‘
ان کے والد اس وقت صرف سات دنوں کی چھٹی لے سکے تھے۔
مسٹر ڈھنڈا نے کہا کہ ایک والد کے لیے ایک ماہ کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے تو اس سے انھیں بہت مدد ملے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’خاص طور پر ہم جیسے لوگوں کے ساتھ جن کے پاس کوئی تجربہ نہیں کیونکہ یہ بہت چیلنجنگ ہے۔ بہت سی غیر متوقع چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ صرف بچے کی نیند، ماں کی جسمانی اور جذباتی صحت جیسی چیزوں کے آگے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔‘
انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کی فلیم یونیورسٹی میں سماجیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سریپرنا چٹوپادھیائے کا خیال ہے کہ انڈیا میں سویڈن کی طرح والدین کی چھٹی کی قانونی حیثیت کی حامل مشترکہ پالیسی ہونی چاہیے، جس میں سب شامل ہوں اور وہ صرف حیاتیاتی والدین تک محدود نہ ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کے پاس قانونی طور کی کوئی چیز نہیں تو واقعی اس پر عمل کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں، ٹھیک ہے؟ اور (اپنی موجودہ پالیسی کے ساتھ) ریاست اس بات کو تسلیم کرتی نظر آتی ہے حقیقتا بچے کی پرورش والدین کی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘


























