آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ممبئی میں سردی اور سوشل میڈیا پر میمز: ’20 ڈگری پر سردی محسوس کرنا لازمی ہے، ہمارے جذبات سمجھو‘
انڈیا کے تجارتی مرکز ممبئی میں اس برس اس دہائی کا اب تک کا سب سے شدید موسمِ سرما رہا ہے جس کے سبب سوشل میڈیا پر مزاحیہ میمز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
جیسے ہی ساحلی شہر ممبئی میں موسم کا پارہ غیر معمولی طور پر نیچے گرا ویسے ہی سردی کے لطیفوں کے ساتھ ہیش ٹیگ ممبئی وِنٹر ٹرینڈ کرنے لگا۔
یہ شہر عام طور پر اس کے برعکس موسم کے لیے جانا جاتا ہے جہاں ہوا میں نمی اور مون سون بارشوں کی جھڑی لگی رہتی ہے۔
لہٰذا درجہ حرارت میں اچانک کمی نے شہر کے اپنے ہی لوگوں میں مزاح کی حِس کو چھیڑ دیا۔
ممبئی کے ایک شہری نے ٹویٹ کی کہ ’ممبئی کی سردی کا مذاق اڑانا بند کریں۔ جو لوگ یا تو چھ مہینے تک 40 ڈگری میں رہتے ہیں یا پانچ مہینے تک مسلسل بارش میں، ان کے لیے 20 ڈگری پر سردی محسوس کرنا لازمی ہے ہمارے جذبات کو سمجھو۔‘
ممبئی کی سردی پر کچھ لوگوں نے دوسرے ممالک کے برف سے ڈھکے ریلوے سٹیشنوں اور منجمند دریاؤں کی تصاویر بھی شیئر کر ڈالیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ممبئی کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہونے والا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ ممبئی انڈیا کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ اور فیشن کا گھر ہے تو ماضی میں موسمِ سرما کے دوران اس شہر کے لوگوں کے چمڑے کے بوٹس اور جیکٹس پر خوب لطیفے بنائے گئے لیکن اس مرتبہ ان کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اس بار یقیناً شہر کے بہت سے لوگوں کو شدید سردی لگ رہی ہے۔
ملک کے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی اس مذاق میں شامل ہوتے ہوئے ممبئی کے لوگوں کی شکایت کو طنز و مزاح کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس ٹھنڈے موسم کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
فلم ساز اور مصنف پریتیما ووہرہ نے روزنامہ مڈ ڈے میں لکھا کہ ’ہاں ہمیں سردی لگ رہی ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ کوٹ اور سوئیٹر پہن رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے ان تمام لوگوں کو ’خبردار‘ کیا جنھوں نے ان کی فیس بک پوسٹ پر موسم سرما کے بارے میں مذاق کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جب یہ لوگ معمولی بوندا باندی پر شکایت کریں گے تو تب وہ جواب دیں گی۔
ممبئی میں ابھی مزید چند روز تک موسم شدید سرد رہنے کی پیشگوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا کا دباؤ بنیادی طور پر ہمسایہ ملک پاکستان سے آنے والے دھول کے طوفان کی وجہ سے کم ہے، مشرق وسطیٰ میں بننے والے شمالی انڈیا میں موسم سرما کی بارش اور برف باری لاتے ہیں۔
اس کا اثر بعض اوقات وسطی انڈیا کے کچھ حصوں اور یہاں تک کہ مغربی ساحل تک بھی ہوتا ہے۔
کم درجہ حرارت نے ہوا میں آلودگی کے ارتکاز میں بھی اضافہ کیا۔ ممبئی کے کچھ علاقوں میں آلودہ ترین ہوا کا ریکارڈ بھی دیکھا گیا۔