آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا نے فلپائن کو برہموس میزائل فروخت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
- مصنف, رجنیش کمار
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
جنوبی امریکی ملک ایکواڈورنے سنہ 2009 میں انڈیا سے پانچ اور سنہ 2011 میں دو، دھرو ایڈوانس لائٹ ہیلی کاپٹر خریدے۔ یہ معاہدہ 452 ملین ڈالر کا تھا۔
لیکن جب ان میں سے چار ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گئے تو ایکواڈور نے یکطرفہ طور پر انڈیا ایروناٹکس لمیٹڈ کے ساتھ سنہ 2015 میں معاہدہ توڑنے کا فیصلہ کیا۔ ایکواڈور نے حادثے کے بعد باقی تین دھرو ہیلی کاپٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایکواڈور نے دھرو ہیلی کاپٹر کے معیار کے بارے میں شکایت کی تھی۔ جب 8 دسمبر کو انڈین فضائیہ کا Mi-17V5 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا اور اس میں انڈیا کے پہلے سی ڈئ ایس جنرل بپن راوت سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے، تو چینی اخبارات نے طنز کیا اور انڈیا کی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔ واضح رہے کہ Mi-17V5 ہیلی کاپٹر روس میں بنایا گیا تھا۔
اب انڈیا نے پہلی بار فلپائن کے ساتھ برہموس سپرسونک کروز میزائل فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ فلپائن کے وزیر دفاع ڈیلفن لورنزانا کی جانب سے 31 دسمبر کو ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
اس نوٹس میں برہموس ایرو سپیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ 374 ملین ڈالر کے معاہدے کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ انڈیا میں بنائے جانے والے سکیورٹی آلات کی سب سے بڑی ڈیل ہو گی۔
انڈیا کی دفاعی درآمد برآمد
انڈیا میں دفاعی ساز و سامان کی تیاری کے بڑے مراکز کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق تحقیقی ادارے بھی ہیں۔ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) بھی ان میں سے ایک ہے۔ لیکن انڈیا عالمی دفاعی منڈی میں دفاعی سپلائر کے طور پر نہیں ابھرا۔
یہاں تک کہ انڈیا کی ملکی دفاعی صنعت انڈین فوج کی بھی ضروریات کو پورا نہیں کر رہی ہے۔ انڈین فوج اب بھی دفاعی ہتھیاروں کی درآمد پر منحصر ہے۔ کئی دہائیوں سے انڈیا ہتھیاروں کی درآمد کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اس وقت ہے جب انڈیا نے سنہ 1960 کی دہائی میں ایشیا کا پہلا داخلی طور پر لڑاکا جیٹ بنایا تھا، اور سنہ 1950 کی دہائی سے انڈیا ملکی دفاعی تحقیق اور ترقی کے لیے پر عزم ہے۔ انڈیا کی دفاعی صنعت بہت بڑی ہے، لیکن زیادہ تر آلات غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے لائسنس کے تحت تیار کیے جاتے ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں سے انڈین حکومت نے پھر سے قومی دفاعی تحقیق، پیداوار اور برآمدات پر زور دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انڈیا کی دفاعی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور انڈین حکومت نے 2025 تک دفاعی برآمدات کے لیے پانچ ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انڈیا دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی شراکت داری کی بھی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
گذشتہ سال پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں انڈیا کی دفاعی برآمدات میں اضافے کی اطلاع دی تھی۔
اجے بھٹ نے کہا تھا ‘انڈیا کی دفاعی برآمدات سنہ 2016-17 میں 1,521 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2020-21 میں 8,434.84 کروڑ روپے ہوگئی ہیں۔‘ سنہ 2018-19 میں برآمد کی مالیت 10,745 کروڑ روپے تھی۔ حکومت نے سنہ 2025 تک انڈیا کی دفاعی برآمدات کے لیے پانچ ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔
21 دسمبر کو اتراکھنڈ کے دھرچولا اور پتھورا گڑھ میں بی جے پی کی ‘سنکلپ یاترا‘ سے خطاب کرتے ہوئے اجے بھٹ نے کہا تھا ‘انڈیا نریندر مودی کی قیادت میں دفاعی ساز و سامان کا برآمد کنندہ بن گیا ہے۔ پچھلے سات سالوں میں انڈیا نہ صرف دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں خود کفیل ہونے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ ہم 72 ممالک کو ہتھیار بھی فروخت کر رہے ہیں۔ ہم فی الحال 209 دفاعی آلات تیار کر رہے ہیں، جو پہلے دوسرے ممالک سے خریدے جاتے تھے۔‘
انڈیا میں تین کمپنیاں
سویڈش تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، تین انڈین کمپنیاں سنہ 2020 میں بڑی 100 دفاعی کمپنیوں میں شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں انڈیا ایروناٹکس لمیٹڈ، آرڈیننس فیکٹری بورڈ اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ ہیں۔
دسمبر کے مہینے میں، تنظیم نے رپورٹ جاری کی اور کہا کہ ان کے ہتھیاروں کی کل فروخت 6.5 ارب ڈالر ہے۔ سنہ 2019 کے مقابلے 2020 میں فروخت میں 1.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کل 100 کمپنیوں کے دفاعی ساز و سامان کی فروخت میں ان تینوں کمپنیوں کا حصہ 1.2 فیصد رہا۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2011 سے 2015 اور 2016 سے 2020 کے درمیان انڈیا کی اسلحے کی درآمدات میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم اس کے باوجود بھارت اسلحے کی درآمد کے حوالے سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا کو دنیا کے 25 اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں بھی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے گذشتہ سال ہندوؤں کے تہوار دسہرے کے موقعے پر سات نئی دفاعی کمپنیوں کو ملک کے نام وقف کرتے ہوئے کہا تھا ‘آزادی کے بعد پہلی بار دفاعی اصلاحات کی گئی ہیں۔ پالیسی میں تبدیلی کا اثر یہ ہوا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات میں 325 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انڈیا نے روس کی مدد سے برہموس بنایا ہے۔ یہ روسی پی 800 یاکونٹ کروز میزائل پر مبنی ہے۔ برہموس کی رینج فی الحال 500 کلومیٹر ہے لیکن برآمد کیے جانے والے برہموس کی رینج 290 کلومیٹر ہے کیونکہ میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر) کے پاس اس حد کو 300 کلومیٹر کے اندر رکھنے کی پابندی ہے۔
برہموس کا پہلا تجربہ سنہ 2004 میں کیا گیا تھا اور اسے سنہ 2007 میں انڈیا کی فوج میں شامل کیا گیا تھا۔ آرمی، فضائیہ اور بحریہ کے لیے اس میزائل کے مختلف ورژن ہیں۔ فلپائن نے برہموس کا نیوی ورژن خریدا ہے۔ انڈیا کے ساتھ برہموس معاہدے کے بارے میں فلپائنی وزیر دفاع لورنزانا نے لکھا ‘میں نے حال ہی میں فلپائنی بحریہ کے لیے اینٹی شپ میزائل کے حصول کے منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔ اس میں تین بیٹریاں، ٹریننگ آپریٹرز، مینٹینرز اور ضروری لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔‘
انڈیا کی ساکھ پر سوال
فلپائن کو برہموس دینے کے پس پشت انڈیا کی حکمت عملی کو چین کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا جنوب مشرقی ایشیا کو میزائل فراہم کر رہا ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کو جن کے چین کے ساتھ سمندری یا سرحدی تنازعات ہیں۔
انڈیا اس علاقے میں کئی ممالک کی دفاع میں مدد کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ویتنام، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ بھی اس علاقے میں برہموس خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
فلپائن کو برہموس بیچنے کا کیا فائدہ؟ اس کے جواب میں انڈیا میں دفاعی امور کے ماہر راہل بیدی نے کہا ‘ظاہر ہے یہ ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن برہموس میزائل میں 50 فیصد روسی ٹیکنالوجی ہے۔ انڈیا اسے یہاں اسمبل کرتا ہے۔ انڈیا نے فلپائن کو فروخت کرنے سے پہلے روس سے انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے بارے میں بات کی ہوگی۔ اس میں روس کا بھی کردار ہوگا اور اسے بھی منافع میں حصہ ملا ہوگا۔ انڈیا اسلحہ برآمد کر رہا ہے، یہ اچھی بات ہے لیکن انڈیا کی دفاعی صنعت ابھی بہت نئی ہے۔ اس کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔‘
راہل بیدی کہتے ہیں 'ایکواڈور نے انڈیا کا دھرو ہیلی کاپٹر خریدنے کے بعد اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا اور اس پر کافی تنازع بھی ہوا۔ اس سے انڈیا کی ساکھ بھی خراب ہوئی۔ ایکواڈور نے یہ فیصلہ چار دھرو ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کیا۔ ہماری میزائل انڈسٹری میں اس وقت بہت سی خامیاں ہیں۔ مودی حکومت کے دور میں دفاعی ساز و سامان کی برآمدات غیر ملکی لائسنس سے تیار کردہ ہتھیار ہیں۔‘
‘ہم ابھی چین والا کام کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ لاک ہیڈ مارٹن کا مقابلہ کس حد تک کر پائیں گے؟ چین نے ریورس انجینیئرنگ کے ذریعے اپنی دفاعی صنعت کو بہت جدید بنایا ہے۔ ریورس انجینیئرنگ کا مطلب ہے کہ اگر چین کو ہیلی کاپٹر یا لڑاکا طیارہ مل جائے تو وہ اس کی نقل کو اصل سے زیادہ جدید بنا دیتا ہے۔‘
راہل بیدی کا کہنا ہے کہ انڈیا نے سات سال قبل ویتنام کو برہموس دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ بیدی کہتے ہیں کہ جب انڈیا فلپائن کو دے سکتا ہے تو ویتنام کو دینے میں کیا پریشانی ہے۔
انڈونیشیا کے ہاتھوں برہموس میزائل فروخت کرنے کی بھی بات ہو رہی ہے۔ جون سنہ 2020 میں انڈیا کے وزیر دفاع اور انڈونیشیا کے وزیر دفاع کے درمیان اس معاہدے کے بارے میں بات ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ویتنام کے ساتھ انڈیا کا دفاعی تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ انڈیا نے ویتنام کو انڈین دفاعی ساز و سامان خریدنے کے لیے لائن آف کریڈٹ فراہم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ لائن آف کریڈٹ کے تحت ویتنام کی ایک کمپنی کے ساتھ 12 تیز رفتار محافظ کشتیاں بنا رہا ہے۔