بنگلہ دیش: خواتین کے لیے مخصوص ساحل کا منصوبہ سوشل میڈیا تنقید کے بعد منسوخ

وقت اشاعت

بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار میں ساحل سمندر کے ایک حصے کو صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا تو کئی خواتین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن صرف چند ہی گھنٹوں کے بعد اس فیصلے کو حکام کی جانب سے واپس لے لیا گیا جب ان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے شہر چٹا گانگ سے 150 کلومیٹر دور واقع کاکس بازار کے ساحل کا ایک حصہ صرف خواتین اور بچوں کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ مقامی حکام نے چند خواتین کی درخواست پر جمعرات کے دن لیا تھا۔

مقامی حکام کے مطابق اس فیصلے کے تحت ساحل سمندر کا صرف 150 میٹر حصہ ہی الگ کیا گیا تھا جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہوتا لیکن چند ہی گھنٹوں بعد یہ فیصلہ واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش مسلم اکثریتی ملک ہے جس کی آبادی کی بڑی تعداد آج بھی قدامت پسند ہے۔

’خواتین خود کو بھیڑ میں غیر محفوظ سمجھتی ہیں‘

کاکس بازار کے سینئر افسر ابو سفیان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’خواتین نے درخواست کی تھی کہ ان کے لیے ساحل کا ایک حصہ مختص کر دیا جائے کیوںکہ وہ بھیڑ میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔‘

اس فیصلے سے کچھ ہی عرصہ قبل کاکس بازار میں ایک خاتون سے گینگ ریپ کا واقعہ بھی ہوا تھا جس کے بعد پورے ملک میں تشویش کی لہر پھیل گئی تھی اور خصوصا کاکس بازار میں خواتین کی حفاظت پر کافی بحث ہوئی۔

لیکن ساحل سمندر کے ایک حصہ کو خواتین کے لیے مختص کرنے کے فیصلے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شور مچ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’حکومت انتہا پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک رہی ہے‘

تنقید کرنے والوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ انتہا پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ کچھ عرصے میں انتہا پسندوں نے خواتین اور مردوں کو کام کرنے کی جگہوں پر علیحدہ علیحدہ کرنے کے مطالبے کے حق میں مظاہرے بھی کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ہونے والی تنقید میں ایک صارف نے اسے ملک کو ’طالبستان‘ بنانے کے مترادف قرار دیا جن کا اشارہ افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی جانب تھا جس نے خواتین کے حقوق پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ کاکس بازار کا ساحل سمندر صرف بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سب سے طویل قدرتی ساحل مانا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں اس علاقے میں سیاحت کو کافی فروغ ملا ہے اور لاکھوں افراد گھومنے پھرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔