سرینگر کے سینٹ لوکس چرچ میں تین دہائیوں بعد پھر عبادت گزار لوٹ آئے

- مصنف, مختار ظہور
- عہدہ, سرینگر
- وقت اشاعت
تقریباً تین دہائیوں تک بند رہنے کے بعد سرینگر کے علاقے بچھواڑا میں سینٹ لوکس چرچ ایک بار پھر مذہبی گیتوں، جھنکار اور کرسمس کی گھنٹیوں سے گونج اٹھا جب عبادت گزاروں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے اس تاریخی عمارت میں عبادت کا فریضہ انجام دیا۔
ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کشمیر کی قلیل مسیحی برادری کا مرکز رہنے کے بعد 1990 کی دہائی میں اس خطے میں مسلح عسکریت پسندی کے پھوٹ پڑنے کے بعد یہ چرچ بند کر دیا اور پھر یہ کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا۔
حالیہ دنوں میں ایک صبح مسیحیوں کے ایک چھوٹے لیکن پُرجوش گروپ نے چرچ میں گانا گایا، جو کرسمس کے سلسلے کی تیاری ہے۔


دعاؤں کی آواز سرینگر کی رش والی سڑکوں پر گونجتی ہے اور چرچ کے قریب رہنے والے مقامی لوگوں کو پرانی یادوں کی طرف لے جاتی ہے جب چرچ عبادت گزاروں سے بھرا رہتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں لوگ اپنے عقیدے سے قطع نظر اپنے مسیحی بھائیوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کے لیے چرچ کے اندر جمع ہو گئے۔
تعمیراتی جگہ پر کام کرنے والے ایک مقامی مزدور ناصر احمد اپنی پرانی یادوں میں کھو جاتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے بچپن میں اور اس کے دوست خوبصورت لباس پہنے نن کو عبادت کے لیے چرچ جاتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ ’کبھی کبھی، وہ ہمارے پاس رک کر کیتھولک پمفلٹ (مذہبی کتابیں) دیتی تھیں‘۔
یہ عمارت جلد ہی خوشی اور جذبات کے مرکز میں بدل گئی کیونکہ کارنیس پر دو بیانات درج تھے: ’خدا کے جلال کے لیے‘ اور ’کشمیر کے گواہ کے طور پر‘۔


یہ چرچ ڈاکٹر ارنسٹ اور ڈاکٹر آرتھر نیو نے سنہ 1896 میں قائم کیا تھا اور اسے لاہور کے بشپ نے وقف کیا تھا۔
گذشتہ چند دہائیوں سے یہ چرچ بند پڑا تھا اور اسے ویران حالت میں ایسے چھوڑ دیا گیا تھا کہ جس کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوّے کی دہائی تک یہ چرچ کشمیر کی قلیل لیکن باہم متحد مسیحی برادری کے لیے عبادت کی ایک بڑی جگہ تھی۔ لیکن ایک بار جب وادی میں بندوقوں کی گھن گرج کا دور عروج پر تھا تو ایسے میں یہ عمارت مکمل طور پر بے یار و مددگار ہو گئی اور اس چرچ کو مکمل طور پر قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔


لیکن کشمیر کی مسیحی برادری کی کافی کوششوں کے بعد چرچ کو مقامی حکومت نے دوبارہ تعمیر کیا اور اب اسے عبادت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
اس تاریخی چرچ کے کھلنے سے مسیحی برادری میں امید کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے جو اب آنے والی کرسمس کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے منتظر ہیں جیسے کئی دہائیوں پہلے ہوا کرتا تھا۔



























