جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت
وقت اشاعت

انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بپن راوت بدھ کے روز ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حادثے میں جنرل راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت بھی ہلاک ہو گئی ہیں۔

مدھولیکا راوت انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر شہڈول کی رہنے والی تھیں اور اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی شہڈول بھی غم میں ڈوب گیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے بعد سے ہی مدھولیکا راوت کے خاندان کے لوگ اپنی بیٹی اور داماد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور پھر انھیں جنرل راوت اور ان کی اہلیہ کی موت کی خبر ملی۔

جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت اپنے خاندان کے ساتھ

خاندان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت کی ساس جیوتی پربھا سنگھ ابھی بھی شہڈول میں ہیں اور انھیں اہلخانہ کے ساتھ دلی بلایا گیا ہے۔ ان کے بھائی یشوردھن سنگھ دلی روانہ ہو گئے ہیں۔

بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت کا تعلق شہڈول کے علاقے سوہاگ پور سے تھا۔ مدھولیکا راوت کے والد مرگیندر سنگھ کانگریس پارٹی سے انڈیا کی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے ہیں لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔

جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت

خاندان کا کہنا ہے کہ بپن راوت آخری بار سنہ 2012 میں شہڈول آئے تھے۔

مدھولیکا راوت نے اپنی ابتدائی تعلیم شہڈول میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گوالیار چلی گئیں اور پھر انھوں نے دلی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔

سنہ 1986 میں ان کی شادی بپن راوت سے ہوئی تھی اور اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی شادی شدہ جبکہ چھوٹی بیٹی ابھی زیر تعلیم ہیں۔

مدھولیکا راوت اپنے دو بھائیوں ہرش وردھن سنگھ اور یش وردھن سنگھ کی اکلوتی بہن تھیں۔

جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت اپنی بیٹیوں کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنجنرل بپن راوت اور مدھولیکا راوت کی شادی سنہ 1986 میں ہوئی تھی اور اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں

یہ بھی پڑھیے

وہ آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی سابق صدر بھی تھیں۔

آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ تنظیم فوجی اہلکاروں کی بیویوں، بچوں اور زیر کفالت افراد کے لیے کام کرتی ہے۔

جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت

آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا قیام سنہ 1966 میں عمل میں آیا تھا اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی این جی اوز میں سے ایک ہے۔

مدھولیکا راوت فوجی اہلکاروں کی بیواؤں، کینسر کے مریضوں اور معذور بچوں کے لیے کام کرنے والی سماجی مہمات کا بھی حصہ تھیں۔