آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کابل میں ایئرپورٹ کو جانے والی ’آزادی‘ سڑک پر موجود خطرات
- مصنف, ویژول جرنلزم ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہزاروں افغان شہری اور غیر ملکی ملک سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کابل میں ایئرپورٹ پر ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں لوگ اپنی جان جوکھوں میں ڈال رہے ہیں۔
طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد تمام زمینی سرحدی راستے بند کر دیے ہیں، اور دارالحکومت کا ایئرپورٹ ہی ملک سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
لیکن طالبان نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک چھوڑ کر جائے۔ انھوں نے ایئرپورٹ روڈ پر ناکے لگائے ہوئے ہیں جو نیچے دیے گئے نقشے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہاں لوگوں پر حملوں کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایئرپورٹ روڈ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جانے والا اہم راستہ ہے۔
ایک نامعلوم طالبان ذرائع نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اتوار سے اب تک اس علاقے میں فائرنگ اور بھگدڑ کے واقعات میں 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایئرپورٹ کی جانب سفر خطرے سے خالی نہیں ہے۔
ایئرپورٹ کی دیواروں کے اندر عارضی کنٹرول چار ہزار سے زیادہ امریکی فوجیوں کے پاس ہے۔ ادھر ایئرپورٹ کے باہر مسلح طالبان کے گھیرے نے خوف کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق طالبان ایسے افغان شہریوں کو بھی اندر جانے نہیں دے رہے جن کے پاس کسی دوسرے ملک کا ویزہ ہے۔
اور عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی لوگوں پر راستے میں ہی حملے کیے جا رہے ہیں۔
ایل اے ٹائمز کے نامہ نگار کے مطابق انھوں نے ملک سے بھاگنے کی کوشش کرنے والوں کو ڈرانے کے لیے درجنوں طالبان کی جانب سے ہوائی فائرنگ ہوتے دیکھی ہے، اور انھیں شہریوں پر لاٹھیاں برساتے اور رسیوں سے مارتے دیکھا ہے۔ مارکس یام کی جانب سے لی گئی تکلیف دہ تصاویر میں کم از کم ایک خاتون کو زخمی اور ایک بچے کو بظاہر سر پر آنے والی چوٹ کے نتیجے میں خون میں لت پت دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس بی ایس کی جانب سے شائع کی گئی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک افغان مترجم کا گولی لگنے کے بعد علاج کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران شہر کے شمال کی جانب واقع ایئرپورٹ کے حصے کے قریب بھی لوگ جمع ہو رہے ہیں، جہاں بھگدڑ سے بدھ کو 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کئی افراد نے خاردار باڑوں کو پار کرنے کی کوشش کی اور اطلاعات ہیں کہ وہاں گولیاں بھی چلائی گئیں۔
وہاں موجود صحافیوں کے مطابق ہجوم میں ایسے خاندان ہیں جن میں بچے بھی ہیں، جن کی کئی دن سے خوراک یا پانی تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچوں کو دیوار کے اوپر سے غیر ملکی فوجیوں کو پکڑایا جا رہا ہے اس امید میں کہ شاید وہ بچ سکیں۔
ان ویڈیوز میں گلابی رنگ کی جیکٹ میں ملبوس ایک بچی کو سیڑھی پر چڑھے ایک فوجی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
کابل میں پھیلی افراتفری کے دوران یورپی حکومتیں اپنے شہریوں اور افغان ساتھیوں کو ملک سے نکالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
جہاں ایک جانب طالبان نے کہا ہے کہ افغانوں کو اپنے ملک میں رہنا چاہیے، وہیں ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کی بحفاظت ملک سے جانے میں مدد کر رہے ہیں۔ ایک طالبان ترجمان کا کہنا تھا ’ہم ایئرپورٹ پر غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کا طالبان سے کسی بھی قسم کے پرتشدد تصادم کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
طالبان کی جانب سے تشدد اور عوام کو ہراساں کرنے کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب بی بی سی کی جانب سے اقوام متحدہ کا ایک ایسا خفیہ دستاویز دیکھا گیا ہے جس کے مطابق طالبان نیٹو اور امریکی افواج کے ساتھ کام کرنے والوں کی تلاش میں تیزی لائے ہیں۔
اہم راستوں پر ٹریفک جام
اس سیٹلائٹ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں گاڑیوں میں ایئرپورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔
افغان جان جھوکوں میں ڈال کر رن وے ر پہنچے
پیر کو منظرعام پر آنے والی تصاویر میں دیکھا گیا تھا کہ طالبان کے شہر پر کنٹرول کے بعد لوگ ایئرپورٹ میں داخل ہوگئے تھے اور افراتفری کا عالم تھا۔