مرزا صائب بیگ: کشمیری طالبِ علم جنھوں نے اپنی محنت سے آکسفورڈ یونیورسٹی تک کا راستہ بنایا

    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
  • وقت اشاعت

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کب خراب ہوں اور معمول کی زندگی کب تھم جائے کسی کو نہیں معلوم۔ ہڑتال اور کرفیو کی وجہ سے سکولوں کا بند ہونا اور انٹرنیٹ کا معطل ہونا عام سی بات ہے جس کی وجہ سے کشمیری طلبا کے لیے معمول کی تعلیم حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

مگر اسی ماحول میں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے 30 سالہ مرزا صائب بیگ نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

صائب بیگ کے مطابق وہ پہلے کشمیری ہیں جنھیں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ’کوفی عنان مینسفیلڈ اور وائڈنفیلڈ ہوفمین‘ سکالرشپ ملی ہے جس کی کُل مالیت 75 ہزار پاؤنڈ ہے۔

مرزا بیگ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں۔

انڈیا کی معتبر ’نالسار یونیورسٹی‘ سے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کرنے اور چھ برسوں تک ممبئی میں وکالت کرنے کے بعد اُنھوں نے سنہ 2019 میں برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا۔ ان کی دلچسپی پبلک پالیسی میں تھی اس لیے انھوں نے ایک اور ماسٹرز کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پبلک پالیسی میں ایم اے کی درخواست دی۔

یہ بھی پڑھیے

چونکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایم اے کی فیس بہت زیادہ ہے، اس لیے مرزا نے کوفی عنان سکالرشپ کے لیے درخواست دی۔ سکالرشپ کے طور پر اُنھیں 75 ہزار پاؤنڈ ملے ہیں جس سے ان کے کورس کی فیس اور روز مرّہ کے اخراجات کی ادائیگی ہو گی۔

مرزا بیگ کا پس منظر

مرزا صائب بیگ کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے ہے۔ ان کی پیدائش سرینگر میں ہوئی اور وہاں سے ہی انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے۔ مرزا کے گھر میں ان کے والدین کے علاوہ ان کی ایک چھوٹی بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہیں۔ دونوں والدین ڈاکٹر ہیں۔

مرزا بتاتے ہیں کہ اُن کا بچپن اُن کے نانا نانی کے ہاں گزرا ہے۔

’میرے نانا غلام محمد واعظ نے مجھے ابتدائی تعلیم اردو اور انگریزی میں دی۔ نانا مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی پڑھاتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مباحثوں اور تقاریر کے لیے بھی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ ان کی تربیت اور رہنمائی کی وجہ سے ہی میری ان چیزوں کی طرف دلچسپی بڑھنے لگی۔ زندگی میں میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ان کی تربیت کی وجہ سے ہی حاصل کیا ہے۔‘

مرزا کا کہنا ہے، '' میں بہت چھوٹی عمر سے ہی بہترین انگریزی بولنے لگا تھا اس کے پیچھے میری ماں کی محنت تھی وہ مجھے روزانہ انگریزی پڑھاتی تھیں''۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں پیدا ہونے کی وجہ سے گھر میں سیاست پر گفتگو عام بات تھی۔ روزانہ شام کی چائے کے وقت جب بھی نانا کو موقع ملتا تھا وہ مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتے تھے۔ اُنھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’موت کو سمجھتے ہیں غافل اختتامِ زندگی، ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوام زندگی۔‘

مرزا کا کہنا ہے کہ کشمیر کے ماحول کی وجہ سے ان کا زیادہ تر وقت گھر پر پڑھنے لکھنے میں گزرتا تھا۔

وہ مزید کہتے ہیں ’دنیا میں کسی بھی بچے سے اگر آپ پوچھیں گے کہ اُنھیں سب سے زیادہ کیا یاد ہے تو شاید وہ اپنے کسی کھلونے کی بات کریں گے، لیکن اگر کشمیر کے بچوں سے پوچھیں گے تو میں بتا دوں کہ ہمیں یہ رعایت میسر نہیں ہوتی۔ جنگ کے علاقوں میں سیاست پر باتیں ہوتی ہیں۔ وہی ہماری روز مرّہ کی زندگی ہے۔‘

کشمیر سے حیدرآباد کی نالسار یونیورسٹی کا سفر

مرزا صائب بیگ نے سرینگر کے اقبال میموریل انسٹیٹیوٹ سے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ وکالت کی تعلیم کے لیے حیدرآباد کی نالسار یونیورسٹی چلے گئے۔

نالسار یونیورسٹی انڈیا کا ایک نامور تعلیمی ادارہ ہے۔

مرزا بتاتے ہیں کہ ’کشمیر میں بارہویں کلاس کے بعد یہ مسئلہ ہے کہ وہاں اعلیٰ معیار کی کوئی نجی یا سرکاری یونیورسٹی نہیں ہے۔ جو ٹیلنٹڈ ٹیچر ہوتے ہیں وہ باہر کے ملکوں میں چلے جاتے ہیں. یہ ایک وجہ تھی کہ میں نے کشمیر سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔‘

قانون کی تعلیم کا فیصلہ کیوں کیا؟

مرزا بتاتے ہیں کہ ’کشمیر سے باہر جانے کی ایک بڑی وجہ وہاں مسلسل جاری شورش اور تنازع تھا۔ بچپن سے ہی میں نے دیکھا جو قوانین عوام کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے ان کو ان ہی کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان قوانین میں تبدیلی لانے اور ان کے صحیح نفاذ کے لیے میں قانون سازی کی طرف مائل ہوا۔

’نالسار یونیورسٹی میری اولین پسند تھی۔ نالسار انڈیا میں قانون کی پڑھائی کے لیے سرِفہرست یونیورسٹی مانی جاتی ہے۔ داخلے کے لیے جو قومی سطح کا امتحان ہوا تھا اس میں میری آل انڈیا رینکنگ اتنی اچھی آئی تھی کہ نالسار میں میرا انتخاب ہو گیا تھا۔‘

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ممبئی میں ملازمت

نالسار یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرنے کے بعد مرزا بیگ نے دلی میں انٹرن شپ کی لیکن ملازمت کے لیے ممبئی کا رخ کیا۔ ممبئی میں کام کرنے کا اُن کا تجربہ دلچسپ رہا۔

’ممبئی میں لوگ بہت پروفیشنل ہیں۔ وہاں ہر شخص کام کرنے کے لیے آتا ہے تو وہاں کسی کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ یہ دیکھے آپ کہاں سے آئے ہیں اور آپ کا تعلق کس جگہ سے ہے۔‘

’لیکن ہاں ایک بات ضرور ہے کہ ممبئی میں آپ کو کشمیری ہونے کے ناطے رہائشی جگہ حاصل کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے روزانہ آپ کو آپ کی شناخت کا احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ میں اور ہم میں فرق ہے۔‘

کشمیر سے باہر کشمیریوں کو تفریق کا سامنا

مرزا کا کہنا ہے کہ کشمیری طلبا کو کشمیر میں رہ کر ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے اور کشمیر سے باہر انڈیا کے مختلف حصوں میں جب وہ تعلیم یا روزگار کے لیے جاتے ہیں تو شناخت سے متعلق تعصب اور تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’انڈیا میں کشمیری ہونا اور خاص طور پر کشمیری مسلمان ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ آپ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہرجگہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ جو اعلیٰ معیاری ادارے ہیں وہاں یہ تجربہ کم ہوتا ہے۔ لیکن باقی اداروں اور علاقوں میں یہ شکایات آتی ہیں کہ کشمیری طلبا کو تفریق کا نشانہ بنایا گیا ہے یا ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘

ملازمت چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ

مرزا ممبئی میں ایک بہترین فرم میں ملازمت کر رہے تھے لیکن ان کی منزل صرف ملازمت کرنا نہیں تھی بلکہ کچھ ایسا کرنا تھا جس کی بنیاد پر وہ عالمی سطح پر کشمیر کے سیاسی مسئلے کی وکالت کر سکیں، اس لیے انھوں نے ممبئی میں اپنی ملازمت کو الوداع کہہ کر سنہ 2019 میں ایل ایل ایم کرنے کے لیے برطانیہ کا رخ کیا۔

آکسفورڈ کی سکالرشپ کے لیے تیاری کیسے کی؟

مرزا جب برطانیہ میں ایل ایل ایم کر رہے تھے تبھی ان کے نالسار یونیورسٹی میں ان کے ایک سینیئر نے انھیں آکسفورڈ میں ایم اے پبلک پالیسی اور اس سکالرشپ کے بارے میں بتایا۔

’یہ سکالرشپ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کسی بھی ایم اے کے کورس کی پوری فیس ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ یہاں رہنے کے سارے اخراجات پورا کرتی ہے۔‘

’اس فیلو شپ کا ایک مقصد ہے کہ پوری دنیا میں ہمہ گیر لیڈرشپ تیار کریں۔ اس کے لیے وہ ہمیں اخلاقیات، بول چال اور دیگر تربیت دیتے ہیں۔ ہر ہفتے ٹرسٹ کی طرف سے ہمیں مختلف ٹریننگز دی جاتی ہیں تاکہ ہم دنیا میں امن و امان اور سماجی ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ سکالرشپ صرف ایک فنڈنگ پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ ایک لیڈرشپ پروگرام بھی ہے۔‘

’جب میں نے ٹرسٹ کے بارے میں تفصیل سے پڑھا تو میں یہ دیکھ کر کافی متاثر ہوا تھا کہ وہ طلبا پر کتنی بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں اور کتنی محنت کر رہے ہیں۔ اگر میری کہانی پڑھ کر کشمیر کا کوئی طالب علم اس سکالرشپ کے لیے درخواست دینا چاہتا ہے تو میں اس کی خوشی سے مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

سکالرشپ کی معلومات کیسے حاصل ہوں؟

مرزا کا کہنا ہے کہ صرف یہ معلومات کافی نہیں کہ اس نام کی ایک سکالرشپ ہے۔ بلکہ ’جب سٹوڈنٹس اس سکالرشپ یا کسی بھی سکالرشپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو یہ بات دھیان میں رکھنی ہو گی کہ ساری معلومات ایک ویب سائٹ پر نہیں ملتیں۔‘

’آپ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جائیں، وہاں آپ کو سکالرشپ کا نام مل جائے گا، پھر آپ اس ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر جائیں ان کے بارے میں تحقیق کریں اور پھر ان لوگوں سے بھی رابطہ اور بات کرنے کی کوشش کریں جن کو ماضی میں یہ سکالرشپ مل چکی ہے۔ ان سے پوچھیں کہ انھوں نے تیاری کیسے کی تھی۔ ایک سوال کا جواب دینے کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں لیکن وظیفہ دینے والوں کے بعض اصول و ضوابط ہوتے ہیں اور آپ کے جواب ان کے مطابق ہوں تو بہتر ہے۔‘

کشمیریوں کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے

مرزا ایک واقعہ بتاتے ہیں کہ ’ایک دن ہمارے سکول کی اسمبلی میں علامہ اقبال کی ایک غزل گائی گئی تھی جس کے بعد فوج کے بعض لوگوں نے اعتراض کیا۔‘

اس طرح کے ماحول میں طلبا کے لیے بیرونی ممالک تو بہت دور کی بات خود انڈیا کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے بارے میں سوچنا مشکل ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے ’جب ہم بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے لیے جاتے ہیں تو جس طرح کے حالات کا کشمیر کے بچے سامنا کرتے ہیں مثلاً مہینوں تک سکولوں کی بندش، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی خوف و ہراس کا ماحول، ان سب وجوہات کی وجہ سے ہمارا مقابلہ باہر کے بچوں سے بہت مشکل ہو جاتا تھا۔‘

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد طلبا کے لیے مزید مشکلات

مرزا کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات ہمیشہ سے خراب تھے لیکن اب صورتحال سنگین ہے۔

’آرٹیکل 370 کا خاتمہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ چاہے آپ اسے کسی بھی قانون یا خود انڈیا کے قانون کی روشنی میں دیکھیں تو حکومت نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر پوری طرح سے انڈیا میں ضم ہو جائے۔ ضم کیے جانے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن یہ عمل کشمیروں کی مرضی اور ان کی اجازت کے بغیر ہورہا ہے۔ اس کے بارے میں کشمیروں سے کچھ نہیں پوچھا گیا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’جب بھی کسی ملک کا جبراً انضمام کیا جاتا ہے۔ تو اس کو مقبوضہ خطہ کہا جاتا ہے۔ اس کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ سیاسی حیثیت تب آتی ہے جب عوام اس فیصلے کا حصہ بنی ہو۔‘

تعلیم کے لیے ماحول ناسازگار

مرزا کا کہنا ہے کہ ’جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ خبر نہیں ملتی تھی کہ کشمیر کے دوسرے علاقوں میں کیا ہو رہا ہے۔ آج انٹرنیٹ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ خبر مل جاتی ہے، بیداری زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ سرکار بار بار سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دیتی ہے۔ کشمیر کے بچوں کو نہ سکول کے اندر نہ سوشل میڈیا کے ذریعے اُن حالات سے واقفیت مل پا رہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔‘

کشمیر کا مسئلہ حل ہو، یہی خواہش ہے

مرزا صائب بیگ کشمیر کے مسئلے پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر کشمیر سمیت سبھی متنازع خطوں کے مسائل پر سنجیدگی سے بات چیت ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہ بھی کہوں گا کہ کشمیر اس طرح کے ادوار سے گزرا ہوا ہے۔ کشمیری کہیں جانے والے نہیں ہیں۔ کچھ وقت کے خاموشی ہو سکتی ہے لیکن ہم پہلے بھی یہیں تھے اور آئندہ بھی یہیں رہیں گے۔‘

مرزا صائب بیگ کا خیال ہے کہ صحیح تعلیم اور صحیح سوچ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے آپ کو ایک آواز اور مواقع دیتی ہے۔ اس لیے طلبا کو تعلیم حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔