ایک ہی حکمت عملی بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی توقع درست نہیں: انڈین آرمی چیف

وقت اشاعت

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ چند برسوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تناؤ کے بعد تعلقات میں سردمہری کی برف پگھلنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں، اور اسی تناظر میں انڈیا کی برّی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نراونے کا بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی چیز کے نتائج نہیں مل رہے تو ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی کام یا حکمت عملی بار بار دہراتے رہیں اور مختلف نتائج کی توقع کریں۔

گذشتہ ماہ دونوں ملکوں کی جانب سے سیزفائر معاہدے پر اتفاق کرنے کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی حکمت عملی بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی توقع درست نہیں ہے اور مختلف حکمت عملی اپنا کر کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

یہ بات انھوں نے انڈیا کے مشہور میڈیا ہاؤس ٹائمز ناؤ کے زیر اہتمام ہونے والے انڈیا اکنامک کانکلیو کے ایک سیشن میں بات کرتے ہوئے کہی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

دونوں ممالک کی فوج کے ڈی جی ایم اوز کی جانب سے 25 فروری کو سیز فائر کے مشترکہ اعلامیہ جس کے مطابق سنہ 2003 کے سیز فائر کے معاہدے کی تحت جنگ بندی ہو گئی ہے اور اس بارے میں انڈین آرمی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد گذشتہ پانچ چھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔

'مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد سے ابتک لائن آف کنٹرول پر ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔'

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک حالیہ بیان، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا، کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے جنرل منوج نے کہا کہ کافی عرصے سے سرحد پار سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی نہ ہی سرحد پر دخل اندازی کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔

'اس کا مطلب سرحد پار سے دخل اندازی کی کوئی کوشش نہیں ہے اور یہی ایک بڑی وجہ ہے مستقبل میں اس معاہدے کی پاسداری پر پرامید رہنے کی۔'

واضح رہے کہ اس سال فروری میں پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے اور ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر ہوئی جب رواں برس فروری میں انڈین فضائیہ کے طیاروں کی پاکستان کے شمالی علاقے بالاکوٹ میں حملے کی کوشش کو دو برس ہو گئے ہیں۔

گذشتہ کئی برسوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اور دونوں ممالک سرحدی سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

انڈین اکنامک کاکنلیو میں جنرل منوج مکند نراونے نے مزید کیا کہا؟

اس سوال پر کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہے کیا، جنرل منوج مکند نراونے کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک طویل عرصے سے سرحد کے پار اس سلسلے میں بات چیت کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایسا مجبوری کے تحت کیا ہے۔

'میرے خیال میں ان کے اپنے چند اندرونی مسائل تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ جو حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں اس کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں۔ اتنے برسوں کے دوران پاکستان کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اب اس حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور اسی وجہ نے انھیں سرحد پر سیز فائر کے لیے قدم بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔'

تاہم جنرل منوج نے دعوی کیا کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور لانچ پیڈ موجود ہیں۔

'دہشت گرد آج بھی وہاں موجود ہیں اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ معاہدہ قائم رہے گا۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان نے یہ معاہدہ مجبوری کے تحت کیا ہے تو انھوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل ممکن ہے لیکن اس کے لیے ہمیں تحمل سے جائزہ لینا ہو گا۔

'جب برف پگھلے گی، اور راستے کھلیں گے اور اگر پھر صورتحال ایسے ہی پر امن رہتی ہے تو یہ مستقبل کے لیے خوش آئند ہے لیکن اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔'

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انڈین فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال، 'ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی لٹکتی تلوار' اور ملک کے اندرونی حالات کے باعث مجبور ہے۔

دونوں ممالک کے مابین پیشرفت اور دیگر شعبوں میں ہونے والے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والا معاہدہ صرف عسکری سطح پر ہے اور ہم نے ان سے دیگر معاملات پر کوئی بات نہیں کی ہے۔

'ان کے بنیادی مسائل کیا ہیں، میں اس پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن جہاں تک ہمارے بنیادی نکات کی بات ہے تو وہ یہ ہیں کہ انھیں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت کرنا چھوڑنا ہو گی اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتے معاملات معمول پر نہیں آ سکتے۔'

’ہمارے پاس ان کے خفیہ مراکز کی تمام معلومات ہیں‘

جنرل منوج مکند نراونے نے دعوی کیا کہ انڈیا نے پاکستان میں جن جن مراکز کی نشاندہی کی ہے وہ اب بھی قائم ہیں اور انڈین فوج کے پاس ان کی تفصیلی معلومات ہیں۔

'ہمارے پاس ان مراکز کی تمام تفصیلی خفیہ معلومات ہیں۔ ان کیپموں کی لوکیشن، وہاں موجود افراد کی ممکنہ تعداد، وہاں دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی تفصیلات۔ اسی لیے میں نے آپ سے کہا ہےکہ ہمیں ان پر نظر رکھنا اور انتظار کرنا ہو گا۔'

معاہدے کی پاسداری کرنے پر پاکستان کی سنجیدگی کے بارے میں سوال پر جنرل منوج مکند نراونے کہتے ہیں کہ پاکستان کو سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہو گی، اپنے ملک میں موجود دہشتگردی کے کیپموں کو ختم کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے جو کہ انڈیا کا بنیادی مطالبہ ہے اور 'ڈرونز کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے علاقے اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں گولہ بارود پھینکنے کو بھی روکنا ہو گا۔'

کشمیر کے بارے میں کیے گئے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوانوں کے بندوق اٹھانے اور انتہاپسندی کے راستے پر جانے کے رحجان پر تشویش ہے۔

'ہم وہاں کے مقامی لوگوں کے دل جیتنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ہمارے وہاں مختلف پروگرام جاری ہیں جن کے ذریعے ہم ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ سب انھیں ریاست جموں کشمیر سے باہر روزگار اور تعلیم کے مواقع مہیا کر کے انھیں بندوق کلچر سے دور کرے گا۔'

لداخ بارڈر پر چین کے ساتھ کشیدگی و مذاکرات

اسی سیشن میں انڈیا اور چین کے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ شمالی بارڈر اور لداخ پر کشیدگی تھی تاہم دونوں ملک اس سلسلے میں مذاکرات کے متعدد دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔

'میں یہ کہوں گا کہ اس عمل میں نہ صرف ہم نے عسکری سطح پر مذاکرات کیے بلکہ سیاسی و سفارتی سطح پر بھی بات چیت جاری رہی۔ میں اس حوالے سے کہوں گا کہ خطرہ ضرور ٹلا ہے مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔'