انڈیا میں آئی فون کے پلانٹ میں توڑ پھوڑ اور گرفتاریاں

وسٹرون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور کے قریب تائیوان کی سرپرستی میں چلنے والی آئی فون فیکٹری میں پولیس نے ہنگامہ برپا کرنے والے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں چار ماہ سے پوری تنخواہ نہیں دی گئی ہے اور اسی کے خلاف وہ مظاہرہ کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر نظر آنے والے فوٹیج میں آئی فون بنانے والی وسٹرون انفوکیم کی فیکٹری میں ٹوٹے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے اور شیشے کے پینل، ٹوٹی ہوئی بتیاں اور آتشزدہ ایک کار دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مزدوروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں چار ماہ سے پوری طرح تنخواہ نہیں دی جارہی ہے اور انھیں اضافی شفٹ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

ویسٹرون کا کہنا ہے کہ وہ 'مقامی لیبر (قوانین) پر عمل کرنے کا پابند ہے۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک بیان میں کمپنی نے براہ راست کارکنوں کی شکایات کا حوالہ نہیں دیا لیکن کہا ہے کہ 'یہ واقعہ باہر کے نامعلوم افراد کی وجہ سے ہوا ہے جو غیر واضح ارادوں سے ان کے احاطے میں گھس آئے اور ان کی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔'

اس میں کہا گیا ہے کہ وہاں جلد از جلد دوبارہ کام شروع ہو جائے گا۔

بنگلور انڈیا میں ٹکنالوجی کا مرکز کہا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق نرساپورہ کی عمارت میں تشدد اس وقت شروع ہوا جب سنیچر کے روز نائٹ شفٹ سے قریب دو ہزار کارکن نکل رہے تھے۔

سینکڑوں لوگوں نے سینئر ایگزیکٹو افسران کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور راڈ سے فرنیچر، اسمبلی یونٹ اور شیشوں کے پینل اور دروازوں کو توڑ دیا۔

ریاست کرناٹک کے نائب وزیر اعلی سی این اشوتھ نارائن نے 'غیر ضروری' تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صورتحال 'تیزی سے حل ہوجائے'۔

انھوں نے ٹویٹ کیا: 'ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام مزدوروں کے حقوق کو قانونی طور پر تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے تمام واجبات ادا کیے جائیں۔'

ٹریڈ یونین کے ایک رہنما نے دی ہندو اخبار کو بتایا کہ پلانٹ میں 'وحشیانہ استحصال' ہو رہا تھا۔

صرف ایک ہی نام استعمال کرنے والے ستیانند نے کہا کہ 'ریاستی حکومت نے کمپنی کو بنیادی حقوق پامال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔'

مقامی میڈیا کے مطابق فیکٹری میں تقریبیا 15 ہزار لوگ ملازمت کرتے ہیں جن میں زیادہ تر لوگ بھرتی کرنے والی کمپنیوں سے معاہدے کے تحت لیے گئے ہیں۔

ایپل نے بی بی سی کی جانب سے روانہ کی جانے والی درخواست پر فوری طور پر جواب نہیں دیا لیکن اس نے ماضی میں کہا ہے کہ وہ سپلائی کرنے والے مقامات پر کام کرنے کے حالات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔