چین: پانچ دن میں پورے شہر کے کورونا ٹیسٹ کا ٹارگٹ

،تصویر کا ذریعہBarcroft media
چین کے شہر کنگڈاو کی نوے لاکھ افراد پر مشتمل تمام کی تمام شہری آبادی کا کووڈ 19 وائرس ٹسیٹ کیا جا رہا ہے اور یہ کام پانچ دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔
کووڈ 19 کے اجتماعی ٹیسٹ اس لیے کروائے جا رہے ہیں کہ شہر کے ایک ہسپتال میں بیرون ملک سے آنے والے ایک درجن سے زیادہ مریضوں کے کرورنا وائرس کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
اس سال مئی میں چین کے حکام نے ووہان شہر کی، جو اس وباء کا مرکز تصور کیا جاتا تھا، تمام ایک کروڑ دس لاکھ آْبادی کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ کیا تھا۔
چین نے بڑی حد تک اس وباء پر قابو پا لیا ہے۔
چین کی صورتحال دوسرے ملکوں سے بالکل برعکس ہے جہاں لاک ڈاؤن اور مختلف سختیوں کے باوجود اب بھی کورونا وائرس کی وباء پر قابو نہیں پایا جا سکا اور مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
چین کی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ وائبو پر کنگڈاو کے مقامی صحت کے مونسپل حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے چھ نئے مریضوں سامنے آئے ہیں اور چھ دیگر میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں بیماری کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ تمام کے تمام مریض ایک ہی ہسپتال میں پائے گئے۔
اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے اجتماعی ٹیسٹنگ کی حکمت عملی اپنائی ہے حالانکہ نئے کورونا وائرس کے مریضوں کے چھوٹے ’کلسٹر‘ سامنے آئے ہیں۔
کس طرح تمام آبادی کی ٹیسٹنگ کی جائے گی؟
نیشنل ہیلتھ کمیشن نے پیر کو ایک اعلان میں کہا کہ پورے شہر کی ٹسیٹنگ صرف پانچ دن میں مکمل کی جائے گی۔
کنگڈاو کے ہیلتھ کمیشن نے مزید کہا کہ 11 لاکھ 48 ہزار 62 افراد جن میں طبی عملے کے اہلکار اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریض بھی شامل ہیں ان کے ٹیسٹ منفی آ گئے ہیں۔
گلوبل ٹائمز نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے اتوار کے روز شہری اپنا ٹسیٹ کروانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ اخبار کے مطابق کچھ ٹیسٹنگ مراکز صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک کھلے رہے۔
یہ مریض چین میں چھٹیوں کے ہفتے کے بعد سامنے آئے جس دوران لاکھوں کی تعداد میں چینی شہری سیاحت اور سیر و تفریح کے لیے ملک بھر میں سفر کرتے ہیں۔
گلوبل ٹائمز نے کنگڈاو میونسپل بیورو کے ثقافت اور سیاحت کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اس ہفتے کے دوران ان کے ساحلی شہر میں 44 لاکھ ستر ہزار افراد سیاحت کے لیے آئے۔
اسی اخبار میں شائع ہونے والی ایک اور خبر کے مطابق کنگڈاو صوبے کے ایک اور شہر جینان میں کہا گیا ہے جو لوگ بھی 23 ستمبر کے بعد سے شہر میں آئے ہیں ان کو اپنا ٹسیٹ کروانا چاہیے۔
گزشتہ ماہ کے اوائل میں کنگڈاو نے اعلان کیا تھا کہ گودیوں پر کام کرنے والے دو مچھلیاں بیچنے والوں کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے کسی اور کو بھی وباء منتقل کی ہو۔
چین میں روزانہ سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور ملک میں اس وباء پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چین میں فی الوقت 91 ہزار تین سو پانچ مریض ہیں اور 4746 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ووہان میں اجتماعی ٹیسٹ کیسے کیے گئے؟
اس سال کے شروع میں چین نے دعویٰ کیا تھا کہ ووہان شہر کے ایک کروڑ دس لاکھ افراد کے ٹیسٹ دس دن میں مکمل کر لیے گئے۔
بی بی سی کے حقائق کی تصدیق کے تحت یہ تعداد نوے لاکھ کے قریب پائی گئی تھی جو کہ اپنی جگہ ایک بڑی تعداد ہے۔
سینکڑوں کی تعداد میں ٹیسٹنگ مراکز قائم کئے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں طبی اہلکار اس میں تعینات کیے گئے تھے۔
عمر ریسدہ اور بزرگ شہریوں یا معذور افراد کا ٹسیٹ کرنے کے لیے گشتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے گھروں پر جا کر ان کے ٹیسٹ کیے۔
ایک طریقہ کار جو اتنی بڑی تعداد میں کم وقت میں لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کے لیے اپنایا گیا وہ 'پول ٹیسٹنگ یا بیچ ٹیسٹنگ ' کہا جاتا ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت پانچ سے دس شہریوں کا ایک گروپ بنا کر ٹسیٹنگ کی گئی۔ اس گروپ میں سے اگر کسی ایک کا ٹیسٹ مثبت آ گیا تو پھر اس گروپ میں شامل تمام کے تمام افراد کا انفرادی طور پر معائنہ یا ٹیسٹ کیا گیا۔






















