وجے مالیا: برطانیہ کی ہائی کورٹ نے معروف کاروباری شخصیت کی انڈیا کی تحویل میں جانے کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی

،تصویر کا ذریعہLEON NEAL
- مصنف, گگن سبھروال
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
برطانیہ کی ہائی کورٹ نے معروف کاروباری شخصیت اور کنگ فشر ایئر لائنز کے سابق مالک وجے مالیا کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ انھوں نے یہ اپیل دسمبر 2018 کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں انھیں انڈیا کی تحویل میں دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
64 سالہ تاجر کے خلاف انڈیا میں جعل سازی اور منی لانڈرنگ (غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل) کے مقدمات درج ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ان پر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔ انڈیا میں ان کی کمپنی کنگ فشر ایئر لائنز اب غیر فعال ہوچکی ہے۔
لندن میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی بدولت برطانوی ہائی کورٹ کا فیصلہ لارڈ جسٹس سٹیفن ارون اور جسٹس الیزبتھ لینگ نے ای میل کے ذریعے جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عدالت نے لکھا کہ: ’ایک لحاظ سے سینیئر ضلعی جج کے فیصلے کا دائرہ کار انڈیا کے الزامات سے وسیع تھا لیکن بظاہر کیس میں عائد الزامات سات اہم پہلوؤں میں انڈیا کے الزامات سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواں سال فروری کے دوران وجے مالیا نے اپنے خلاف فیصلے کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
اب ان کے پاس 14 دن ہیں کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی درخواست جمع کرائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر وہ یہ اپیل دائر نہیں کرتے تو یہ فیصلہ برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کے پاس چلا جائے گا جن کے پاس 28 دن ہوں گے کہ وہ اس پر دستخط کریں اور وجے مالیا کو انڈیا کے حوالے کرنے کی منظوری دیں۔ اس طرح وجے مالیا کو انڈیا کے حوالے کر دیا جائے گا۔
لیکن ممکنہ طور پر وجے مالیا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے لیے ہمیں ان کی درخواست پر عدالت کے جواب کا انتظار کرنا ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وجے مالیا کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ کا فیصلہ انڈیا کے لیے بڑی فتح ہے اور ’کنگ آف گڈ ٹائمز‘ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
وجے مالیا کون ہیں؟
وجے مالیا، جن کے پاس کنگ فشر ایئر لائنز سمیت اربوں روپے کے کاروبار تھے، انڈیا سے سنہ 2016 میں تقریباً ایک ارب ڈالر کے قرضے ادا کیے بغیر برطانیہ آگئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا سے فرار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جلد تمام کا تمام قرضہ ادا کردیں گے۔
وجے مالیا نے اپنے پیسے انڈین کرکٹ اور فارمولہ ون کار ریس میں لگانے سے پہلے اپنا کاروبار کنگ فشر بیئر کے ذریعے شروع کیا تھا۔ انھوں نے کنگ فشر کے نام کی ایک ایئر لائن بھی شروع کی جو اب غیر فعال ہو چکی ہے۔
انھیں کنگ فشر ایئر لائنز میں مالیاتی بد عنوانی کے کئی ایک الزامات کا سامنا ہے۔ انڈیا میں مالیاتی معاملات اور بے ضابطگیوں کے ادارے سی بی آئی اور ای ڈی اس سلسلے میں چھان بین کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMARK THOMPSON
وجے مالیا نے سنہ 2012 میں اپنی کمپنی یونائیٹڈ گروپ کے کافی حصص برطانیہ کی مشروبات بنانے والی ایک کمپنی کو فروخت کیے تھے۔
اس سودے کے ذریعے وجے مالیا کو اتنی رقم مل سکتی تھی کہ وہ یونائیٹڈ گروپ کے قرضے اتار سکیں اور کنگ فشر میں سرمایہ کاری کر سکیں۔
لیکن کنگ فشر ایئر لائنز سنہ 2012 میں ہی بیٹھ گئی تھی۔ اگلے برس اس کا لائسنس بھی ختم ہوگیا۔
اس طرح ایئر لائن کمپنی نے مسلسل پانچ برس تک نقصان اٹھایا اور آخر کار بینکوں نے انھیں مزید قرضہ دینے سے انکار کر دیا۔
وجے مالیا کے کُل قرضے بشمول واجب الادا تنخواہیں سب ملا کر تقریباً ایک ارب ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔
وہ اپنی پُرتعیش طرزِ زندگی کی وجہ سے انڈیا میں ایک معروف بزنس مین اور ’کنگ آف گُڈ ٹائمز‘ کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔























