#DelhiRiots: عطیہ کرنے والے ہاتھ آج خود امداد کے منتظر

وقت اشاعت

دلی میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بعد مصطفیٰ آباد کی عیدگاہ میں پناہ لینے والے افراد میں سے بعض کا کہنا ہے کہ جو ہاتھ کبھی عطیہ کیا کرتے تھے آج وہ ریلیف کا سامان لینے کے لیے اٹھے ہیں۔ تصاویر: شِب شنکر چٹرجی

دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشندلی میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بعد مصطفیٰ آباد کی عیدگاہ میں متاثرین کے لیے پہلاریلیف کیمپ کھولا گیا ہے۔ دو دن میں فسادات سے متاثرہ پناہ گزینوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنرضاکار تنظیموں نے متاثرین کے لیے کپڑے، دواؤں اور دیگر اشیا کا انتظام کیا ہے۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے پاس کے کچھ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے بھی رضاکارانہ طور پر یہاں اپنا کیمپ لگا رکھا ہے۔
622دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنریلیف کیمپ میں ہر جانب اجڑی ہوئی بستیوں کے سہمے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی گذشتہ ہفتے کی خوفناک واقعات سے گزر کر آیا ہے۔
دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنفسادات کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی بعض علاقوں میں کشیدگی ہے۔ فسادات میں ہلاک ہونے والوں میں ہندو بھی ہیں لیکن زیادہ اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنبعض متاثرین کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران لوگوں نے جو مناظر دیکھے وہ ان کے ذہنوں سے نکل نہیں پا رہے اور وہ انتہائی خوفزدہ ہیں۔
دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنکیمپ میں پناہ لینے والے افراد میں سے ہر کسی کی اپنی درد بھری آپ بیتی ہے۔
دہلی ریلیف کیمپ
،تصویر کا کیپشنوہاں موجود باز پناہ گزینوں کے مطابق جو ہاتھ کبھی عطیات دینے کے لیے اٹھتے تھے آج وہ ریلیف کا سامان لینے کے لیے اٹھے ہیں۔