انڈیا: ایک ہی ہسپتال میں 49 بچوں کی ہلاکت کی تفتیش

وقت اشاعت

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں گورکھپور کے بعد اب فرخ آباد کے ایک ہسپتال میں درجنوں بچوں کی موت کی جانچ کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ایک ماہ کے دوران 49 بچوں کی موت ہو گئی ہے۔ ان میں سے کم از کم 30 بچے پیدائش کے بعد دم گھٹنے سے مر گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت آکسیجین کی کمی کے سبب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔

اس سے قبل اگست کے مہینے میں گورکھپور کے ایک ہسپتال میں کم از کم 160 بچوں کی اسی حالت میں موت ہو گئی تھی۔ ان میں سے بعض اموات کی ذمہ داری ہسپتال میں آکسیجن کی کمی بتائي گئی تھی۔

تازہ ترین جانچ کے بعد جاری ایک سرکاری رپورٹ میں طبی اہلکار کو کم از کم 30 بچـوں کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گيا ہے جس کے بعد پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

انڈیا کی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 30 بچوں کی موت بظاہر آکسیجین کی کمی سے ہوئی کیونکہ انھیں رام منوہر لوہیا ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے شعبے میں رکھا گیا تھا۔ باقی 19 بچوں کی پیدائش کے ساتھ ہی موت ہو گئی۔

ایجنسی کے مطابق یہ تمام اموات 21 جولائی اور 20 اگست کے درمیان ہوئی۔

12 اگست کو گورکھپور کے بابا راگھو داس ہسپتال سے کم از کم 60 بچوں کی موت کی خبر آئی جن میں سے 30 کی موت دو دنوں میں ہوئی تھی اور اس کی وجہ آکسیجن کی کمی بتائی گئی تھی۔ 16 اگست تک اموات کی تعداد 100 سےتجاوز کر گئی۔

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 60 لاکھ روپے بقایہ نہ ادا کرنے کی وجہ سے ہسپتال کو آکسیجن کی سپلائی بند کر دی گئی تھی۔

پھراسی ہسپتال سے 29-27 اگست مزید 60 بچوں کی موت کی خبر آئی جن میں 31 نوزائیدہ تھے۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے اس بار آکسیجن کی کمی کے بجائے بیماری کی شرح کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

بہر حال گذشتہ روز چار ستمبر کو پولیس نے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ہونے والی اموات کے سلسلے میں جانچ شروع کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ فرخ آباد کے معاملے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال نے پیدائش کے بعد بچوں کو آکسیجن فراہم نہیں کرائی تھی۔