’موت کی وجہ کرنٹ نہیں بلکہ دوا تھی‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہکڑا گاؤں میں جس لڑکی کو کرنٹ لگا کر ہلاک کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، اس نے ممکنہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کی ہے۔
یہ واقعہ بہاولپور کے نواحی گاؤں ہکڑا میں چند دن قبل پیش آیا تھا اور پولیس نےاس لڑکی والدین اور رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
لڑکی کے لواحقین بھی اس واقعہ کو خودکشی ہی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےاس واقعہ کا نوٹس لیا تھا اور پنجاب پولیس کے آئی جی کو ہدایت کی تھی وہ فوری طور پر اس واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔
پیر کو سامنے آنے والی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کے جسم میں کیڑے مار دوا پائی گئی اور بظاہر ہلاکت کی وجہ یہی ہے۔ تاہم رپورٹ میں نہ تو اسے خودکشی قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اسے قتل کہا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ لڑکی کی گردن اور جسم کے دیگر حصوں پر تشدد کے نشان تھے مگر یہ نشان ہلاکت کی وجہ نہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی لڑکی کے جسم پر ایسے کوئی اندرونی یا بیرونی زخم موجود نہیں تھے جن سے یہ لگے کہ اسے کرنٹ لگا کر مارا گیا ہے۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد خاتون کی لاش تفصیلی جائزے لے لیے لاہور روانہ کر دی گئی ہے۔
بہاولپور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر بابر بخت قریشی نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہکڑا گاؤں کی رہائشی بائیس سالہ خاتون اسی بستی کے ایک نوجوان کے ساتھ پیار کرتی تھی لیکن لڑکی کے خاندان والے اس کے مخالف تھے۔
انھوں نے کہا کہ خاندان والوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ لڑکی ایک مہینے پہلےاس لڑکے ہمراہ کراچی فرار ہوگئی تھی اور ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق لڑکی کے خاندان والے یہ وعدہ کر کے اسے گھر واپس لے آئے کہ اس کی شادی پسند کے لڑکے کے ساتھ کرائی جائے گی۔ لیکن بعد میں انھوں نے ایسا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لڑکے کا تعلق کمتر ذات سے ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق لڑکی کے انکار کے بعد والدین اور رشتہ داروں نے پنچایت کا انعقاد کیا جس میں مبینہ طور لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔



















