مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے کا واقعہ اور سوشل میڈیا بحث: ’یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ رات سے چند ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو لندن کی ’ایجویئر سٹریٹ‘ پر مرد و خواتین کا ایک گروہ ہراساں کر رہا ہے۔ اس گروہ میں شامل افراد مریم اورنگزیب کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتے، اُن پر آوازیں کستے اور انھیں نازیبا ناموں سے پکارتے سُنے اور دیکھے جا سکتے ہیں۔

ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اِن افراد نے تحریک انصاف کے پارٹی پرچم گلے میں پہنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اپنے موبائل فونز سے اس واقعے کی ویڈیو بنا رہے ہیں۔ ایک، دو افراد کے ہاتھوں میں میگا فون بھی موجود ہیں جن پر وہ سیاسی نوعیت کی نعرے بازی اور نازیبا الفاظ کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔

مریم اورنگزیب بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے ایک کیفے میں داخل ہوتی ہیں مگر یہ گروہ اپنے میگا فون، کیمروں اور نعروں کے ساتھ اُن کا وہاں بھی پیچھا کرتا ہے۔ کیفے کے اندر بھی یہ گروہ اپنا کام جاری رکھتا ہے مگر مریم اورنگزیب جواباً مسکراتے ہوئے کوک پیتی رہتی ہیں اور ان کے اس ردعمل کو بھی وہاں موجود ایک خاتون شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب وزیراعظم شہباز شریف کے اس وفد کے حصہ ہیں جو مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات و مشاورت کے لیے فی الوقت لندن میں موجود ہے۔ یہ سرکاری وفد امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کے بعد لندن پہنچا تھا۔

ایسی ہی ایک اور وائرل ویڈیو میں وہ اِسی کیفے میں کھڑی تحمل سے ایک نوجوان لڑکی کے سوالات کے جواب دے رہی ہیں اور اسے سمجھا رہی ہیں کہ ’احتجاج آپ کا حق ہے لیکن اس کا بہتر طریقہ ووٹ ہے۔‘

مریم کو یہ بھی کہتے سُنا جا سکتا ہے کہ ’آپ کا حق بھی ہے اور آپ کا ملک بھی ہے، جس کی ہم عزت کرتے ہیں۔ لیکن ہر چیز کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی اپنی بہن یا والدہ کو اس طرح سڑک پر ہراساں کرے گا تو کیا آپ کو اچھا لگے گا؟‘

وہ کہتی ہیں ’10 منٹ پہلے یہاں پی ٹی آئی کے 20 لوگ مائیک لے کر میری تحقیر کر رہے تھے، مجھے ناموں سے پکار رہے تھے، اور میں نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔‘

مریم یہ بھی کہتی ہیں کہ ’آپ لوگ اس طرح مجھے ہراساں کرتے ہیں تو اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا بلکہ اس کے سامنے میں جس صبر کا مظاہرہ کرتی ہوں اس سے میرے قد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ طریقہ کار ہمارے ملک کے تشخص کے لیے خراب ہے۔‘

یہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس کی مذمت یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ ’مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر جو ردِعمل دکھایا اس سے ان کی متانت جھلکتی ہے۔ اپنے پُرسکون اور باوقار طرز عمل سے انھوں نے ہراساں کرنے والوں اور ایسے رویے کو فروغ دینے والوں کے بدصورت چہروں کو بے نقاب کیا ہے۔‘

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں مریم اورنگزیب پر فخر ہے۔‘

مریم اورنگزیب نے خود ان واقعات کے بعد ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’نفرت اور تفرقہ بازی کی سیاست کے ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر زہریلے اثرات دیکھ کر دُکھ ہوا۔ میں رُکی رہی اور اُن کے ہر سوال کا جواب دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ عمران خان کے پراپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ہم عمران کی زہریلی سیاست کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘

ان وائرل ویڈیوز پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

سیاستدانوں سے لے کر عام افراد تک سبھی مریم اورنگزیب کو اس طرح لندن کی سڑکوں اور کیفے میں ہراساں کرنے کی مذمت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’یہ احتجاج نہیں سراسر ہراسانی ہے۔‘

یاد رہے یہ پہلا واقعہ نہیں جب مریم اورنگزیب یا ن لیگ کے کسی رہنما کو سیاسی کارکنوں کی جانب سے بیرونِ ملک ہراساں کیا گیا ہو۔

رواں سال اپریل کے اواخر میں جب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل وفد سعودی عرب کا دورہ کر رہا تھا تو چند افراد نے مسجد نبوی کے احاطے میں انھیں ہراساں کیا، اُن سے بدسلوکی کی اور ان کے خلاف ’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔

سعودی عرب کی ایک عدالت نے مسجد نبوی میں پیش آنے والے اس واقعے پر ایک پاکستانی شہری کو تین سال قید اور 10 ہزار ریال جرمانے کی سزا سُنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سینئیر صحافی مبشرر زیدی نے لکھا کہ ’مریم نے جس طرح لندن میں ہراساں ہونے کے باوجود غنڈوں کو ہینڈل کیا، وہ دیکھ کر میرے دل میں ان کے لیے احترام کئی گنا بڑھ گیا ہے۔‘

صحافی ماہم نے ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کیا برطانیہ کے قوانین کے مطابق یہ ہراسانی نہیں ہے؟‘

صحافی طلعت حسین کا کہنا تھا کہ ’مریم نے دلیرانہ انداز میں اس کا مقابلہ کیا۔ ہراساں کرنے والوں کے لیے شرم کا مقام ہے۔ یہ رجحان دوسروں کے لیے ناقابل تلافی ہو گا۔ جلد ہی پی ٹی آئی کی خواتین یا خود عمران کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں تب بھی اس کی مذمت کروں گا لیکن یاد رہے کہ جو بوتا ہے وہ کاٹتا بھی ہے۔‘

واحد ضیا لکھتے ہیں کہ چند ہی منٹوں کے اندر اندر بدتمیزی برداشت کرنے سے لے کر لوگوں کے ساتھ سلفیاں لینے تک، مریم اورنگزیب نے 20 لوگوں کو اکیلے نمٹا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اطلاعات کی وزارت قابل ہاتھوں میں ہے اور ہمیں سیاست میں مزید خواتین کی ضرورت ہے۔

علینا شگری نے لکھا کہ انھیں خواتین کے منھ سے ایک خاتون کے لیے ایسی زبان اور ان کی ہراسانی دیکھ کر افسوس ہوا۔

اس بحث میں جہاں ایک جانب چند افراد کے اس عمل کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں مسلم لیگ ن کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور یہ نکتہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ کہاں ختم ہو گا۔

سلمان شہباز کی اہلیہ زینب سلمان نے جب مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے والی خواتین میں سے ایک کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا پتہ مانگا کہ ’چلو مسلم لیگ لندن ان کا اگلا اتوار خوشگوار بناتے ہیں‘ تو ٹویٹر صارفین نے اس رویے کی بھی مذمت کی۔

صحافی اور اینکر اجمل جامی کا کہنا تھا کہ ’یہ بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا مریم کو ہراساں کرنا غلط تھا۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’بس یہیں ختم کریں۔‘ انھوں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی اس رویے کی مذمت کرنے کو کہا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون عطا اللہ تارڑ کی ٹویٹ کی بھی مذمت کی گئی جس میں انھوں نے مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے والوں کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے اور پاکستان پہنچنے پر انھیں گرفتار کرنے کی بات کی تھی۔

بیشتر صارفین کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’آج آپ ان کے پاسپورٹ کینسل کریں اور کل کوئی اور حکومت میں آئے گا تو وہ آپ کے حمایتوں کے ساتھ یہی سلوک کریں گے اور یہ سلسلہ کبھی نہیں ختم ہو گا۔‘