آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حامد خان: تحریک انصاف کے رہنما کی عمران خان سے دوری اور دوبارہ قربت تک کا سفر
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں جمعرات کے دن پیشی سے چند گھنٹے قبل تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے ایک انٹرویو کا حصہ نشر ہوا جس میں انھوں نے کہا ’عمران خان صاحب کو کوئی بولنے ہی نہیں دیتا۔۔۔ کبھی حامد خان کھگو گھوڑا بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، کبھی کوئی وکیل منھ اٹھا کر آ جاتا، یہ توہین عدالت کا معاملہ جج اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے۔‘
تاہم اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد توہین عدالت کیس میں عمران خان کی جانب سے مشروط معافی کی پیشکش کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حامد خان اُن (عمران خان) کے لیے عدالتی ریلیف لینے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ اس بیان حلفی کی بنیاد پر ہو گا جو عدالت نے سابق وزیر اعظم کو اِس کیس کی آئندہ سماعت سے قبل جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
فواد چوہدری اور حامد خان کے درمیان تنازع کی تاریخ تو پرانی ہے تاہم تحریک انصاف کے بانی رکن اور سینیئر وکیل، جو کچھ عرصہ قبل پارٹی اور عمران خان دونوں سے ہی نالاں تھے، ایک بار پھر سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف کے قریب نظر آ رہے ہیں۔
اس کا ایک ثبوت توہین عدالت کے ایک اہم کیس میں عمران خان کی جانب سے اُن کا چناؤ تھا اگرچہ کہ تحریک انصاف کی قانونی ٹیم میں متعدد سینیئر وکلا شامل ہیں۔ یہ انتخاب اس تناظر میں زیادہ اہم ہو جاتا ہے جس میں حامد خان اور عمران خان کے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔
حامد خان اور عمران خان کے درمیان تعلق کا اُتار چڑھاؤ ایک طرح سے پی ٹی آئی کے اندر ان تبدیلیوں کا بھی مظہر ہے جو 1996 میں قائم ہونے والی جماعت کے اقتدار کے ایوانوں تک کے سفر کے دوران وقوع پذیر ہوئیں۔
یہ تعلق کیسے شروع ہوا اور اب کس نہج پر ہے؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے حامد خان سے رابطہ کیا جنھوں نے توہین عدالت کیس کے حوالے سے بھی بات کی۔
’عمران خان سے جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس پر اختلاف ہوا‘
حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ملنے والی ’کامیابی‘ پر خوش ہیں اور خدا کے شکر گزار بھی ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کے تحریری حکمنامہ میں عمران خان کی جانب سے معافی پر ’مطمئن‘ ہونے کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اُن کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل عمران خان نے عدالت سے کہا تھا کہ ’اگر عدالت سمجھتی ہے کہ میں نے حد پار کی تو میں خاتون جج سے جا کر معافی مانگنے کو تیار ہوں۔‘
جمعرات کی شام جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے عدالت میں کہا کہ ان کے بیان کا مقصد توہین عدالت نہیں تھا تاہم اگر عدالت یا خاتون جج سمجھتے ہیں کہ کوئی ریڈ لائن کراس کی گئی ہے تو وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اسے ’غیر مشروط معافی‘ نہیں کہا جا سکتا۔
حامد خان کی اس کیس میں کامیابی اب آئندہ پیشی پر عدالت کے حتمی فیصلے سے جڑی ہے تاہم ان کے اور عمران خان کے درمیان اختلافات ایک اور عدالتی کیس سے ہی شروع ہوئے۔
حامد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا ہمیشہ اصولی مؤقف رہتا ہے۔ ’عمران خان سے جو سب سے بڑا اختلاف ہوا تھا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر ہوا تھا۔‘
حامد خان کے مطابق جب عمران خان نے حکومت گرنے کے بعد ان سے ملاقات کی تو انھوں نے کُھلے دل سے تسلیم کیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر ہونے دینا غلطی تھی جبکہ ’آپ کا مشورہ درست تھا۔‘
واضح رہے کہ تحریک انصاف حکومت نے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اپنے خاندان کے برطانیہ میں موجود اثاثے چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر اس صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
’پارٹی میں خوشامدی کلچر آ گیا ہے‘
سنہ 1996 میں تحریک انصاف کا حصہ بننے والے حامد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عمران خان کی ذاتی دعوت پر پارٹی کی تشکیل کے عمل کا حصہ بنے اور خود اپنے ہاتھوں سے پارٹی کا پہلا آئین اور مقاصد بھی لکھے۔
حامد خان کے مطابق وہ دوسری جماعتوں سے تنگ آ کر تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے اور وہ اب بھی عمران خان اور تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں سے بہتر تصور کرتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق انھوں نے بانی رکن ہونے کے باوجود ’کبھی عمران خان سے ذاتی تعلق بنانے کی کوشش نہیں کی۔‘
حامد خان کے مطابق ان کا عمران خان سے ایک اختلاف یہ بھی رہتا تھا کہ ’وہ مشاورت کے لیے پارٹی رہنماؤں کو اپنے ذاتی گھر نہ بلایا کریں بلکہ اس مقصد کے لیے پارٹی سیکریٹریٹ کا انتخاب کیا کریں کیونکہ ذاتی گھر تو ذاتی دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ وہ نکتہ تھا جس پر ان کی اور جہانگیر ترین اور علیم خان کی بحث بھی ہوتی تھی۔
حامد خان کہتے ہیں کہ ’لیڈر کو ہمیشہ اچھا مشورہ دیں تاکہ ان کی رہنمائی ہو سکے۔‘ ان کے مطابق ’اب پارٹی میں ایسا خوشامدی کلچر آ گیا ہے کہ لوگ پہلے لیڈر کے رویے کو دیکھتے ہیں اور پھر اس کی پسند کا مشورہ دیتے ہیں۔‘
ان کے خیال میں اس کلچر کا بعد میں پارٹی اور اس کے لیڈر کو نقصان ہوتا ہے۔
حامد خان کی جب ایک عرصے کے بعد عمران خان سے براہ راست ملاقات ہوئی تو انھوں نے بعد میں میڈیا پر بیان دیا تھا کہ عمران خان نے تسلیم کیا کہ علیم خان اور جہانگیر ترین نے منفی کردار ادا کیا اور ’انھوں نے مانا کہ علیم خان اور جہانگیر ترین سے متعلق میرے تحفظات ٹھیک تھے۔‘
حامد خان کا کہنا تھا کہ ’لگتا ہے خان صاحب کو احساس ہو گیا کہ پرانے لوگ ہی ٹھیک تھے۔ پارٹی کو دوبارہ اسی نعرے سے آگے بڑھائیں گے، جس طرح بنائی گئی تھی۔‘
حامد خان پر ہونے والی تنقید اور اُن کا جواب
حامد خان کا تحریک انصاف سے تعلق تنازعات سے بھرپور رہا ہے۔ حال ہی میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے ان پر ہونے والی تنقید بھی اسی ماضی کا حصہ ہے جس کا آغاز سینیئر وکیل کی جانب سے تحریک انصاف رہنما پر لگائے جانے والے ایک الزام سے ہوا تھا۔
حامد خان نے سنہ 2018 میں الزام عائد کیا تھا کہ فواد چوہدری کے چچا جب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تھے تو وہ لوگوں سے ’پیسے لے کر فیصلے کراتے تھے۔‘
واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے چچا جسٹس (ر) افتخار حسین چوہدری 7 ستمبر 2002 سے 31 دسمبر 2007 تک چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی کتاب میں فواد چوہدری کا نام لیے بغیر یہ الزام عائد کیا تھا تاہم بعد میں جب مسلم لیگ ن رہنما رانا ثنا اللہ نے فواد چوہدری کا نام لیا تو حامد خان نے بعد میں اس کی تصدیق کی۔ فواد چوہدری ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
تاہم یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ حالیہ تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نکتہ آغاز تھا۔
جب توہین عدالت کیس کی گذشتہ سماعتوں کے دوران ایک پیشی پر عدالت نے حامد خان سے فواد چوہدری کے عدالت سے متعلق بیانات کا تذکرہ کیا، تو انھوں کہا کہ ان کی جماعت ’فواد چوہدری کے ان بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے اور فواد چوہدری سے اچھے کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔‘
حامد خان کا یہ بیان سُن کر عمران خان کمرہ عدالت میں مسکرائے تھے۔
اس کے بعد فواد چوہدری نے حامد خان کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کا ’بزنس پارٹنر‘ کہہ کر پکارا۔
بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں حامد خان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ان کا کبھی کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ ایک اصولی مؤقف تھا کہ ایک فوجی آمر کسی چیف جسٹس اور ججز کو گھر نہیں بھیج سکتا۔
’تحریک انصاف کسی صورت نہیں چھوڑوں گا‘
سنہ 2016 میں حامد خان سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قائم مقدمات میں عمران خان کے وکیل کے طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہو رہے تھے کہ ان کی جماعت نے انھیں ہٹا کر نعیم بخاری کو وکیل مقرر کر دیا۔
اس کے بعد حامد خان پس منظر میں چلے گئے مگر اپنی آزادانہ رائے کے اظہار کے معاملے میں انھوں نے کبھی بھی سمجھوتے سے کام نہیں لیا۔
پانامہ مقدمے میں نہ صرف نواز شریف نااہل ہوئے بلکہ سنہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف حکمراں جماعت بن کر سامنے آئی۔
مگر حامد خان اپنی جماعت کے دور اقتدار میں زیادہ وقت زیر عتاب ہی رہے۔
دسمبر 2019 میں تحریک انصاف نے اس بنیاد پر حامد خان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی تھی کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیانات کے ذریعے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اس شوکاز نوٹس میں حامد خان کو سات روز میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔
پارٹی کے سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی کی جانب سے جاری اس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ حامد خان کا مذکورہ رویہ خود پارٹی چیئرمین عمران خان نے نوٹ کیا۔
اس کی وجہ ان کا 18 نومبر کا وہ بیان تھا جس میں پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی کئی سیاسی شخصیات اور اس میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا تھا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے اس بیان کی تائید کی تھی کہ انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کئی رہنماؤں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا۔
حامد خان نے اس شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے جماعت کے ان نظریاتی کارکنوں کے لیے آواز اُٹھائی ہے جنھیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
9 صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں حامد خان نے کہا کہ 'مفاد پرست، زمینوں پر قبضے کرنے والے شوگر مافیا اور دیگر کرپٹ مافیا مجھے پارٹی سے زبردستی باہر نہیں نکال سکتے'۔
حامد خان نے اپنی جماعت کے دور حکومت کے اقدامات کا تمسخر اڑاتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت کا قانونی عملہ آرمی چیف (قمر جاوید باجوہ) کی تقرری کا صحیح ڈرافٹ تیار نہ کر سکے جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے بھی کی، تو پھر ایسے حالات میں اُنھیں شوکاز نوٹس صحیح طریقے سے جاری نہ کرنے پر وہ عامر کیانی کو بالکل بھی ذمے دار قرار نہیں دیتے۔‘
انھوں نے پارٹی کی جانب سے ان کی رکنیت معطل کیے جانے کے شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا کہ وہ اس جماعت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے کیونکہ اس جماعت کے لیے اُنھوں نے دن رات کام کیا۔
’جمہوریت پسند وکیل جو سیاست میں فوج کے کردار کے مخالف رہے‘
بی بی سی نے متعدد قانونی ماہرین سے حامد خان کے قانونی اور سیاسی سفر پر بات کی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ حامد خان گذشتہ کئی دہائیوں سے وکلا سیاست میں سب سے زیادہ متحرک ہیں۔
وہ فوجی حکومتوں کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں بھی پیش پیش رہے اور فوج کے سیاست میں مداخلت اور کردار پر کُھل کر تنقید بھی کی۔
حامد خان ہمیشہ سے ہی جمہوریت پسند خیالات کے مالک تھے اور زمانہ طالب علمی سے ہی فوجی صدر ایوب خان کے خلاف احتجاج میں بھی شامل رہے۔
حامد خان نے وکالت میں آنے کے بعد وکلا کی سیاست میں بھی قدم رکھا اور سنہ 1978 میں ضیا الحق دور میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری منتخب ہوئے۔
بعد میں وہ پنجاب بار کونسل کے رکن اور پھر اسی تنظیم کے وائس چیئرمین بھی بنے۔
سنہ 1992 میں حامد خان لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے اور سنہ 2001 میں مشرف کے دور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر چنے گئے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے حامد خان ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے اور اسی پاداش میں ان سے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ کا عہدہ واپس لیا گیا۔
حامد خان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔
سنہ 2007 کی وکلا تحریک میں بھی حامد خان کا اہم کردار رہا اور وکلا سیاست کے بعد حامد خان ملکی سیاست میں بھی سرگرم ہوئے۔ وہ تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں میں ہی جماعت میں شامل ہو گئے تھے اور انھوں نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے طور پر فائض بھی سر انجام دیے۔
سنہ 2013 میں حامد خان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے سے انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ حامد خان کا انتخابی حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جن کے نتائج کو ’ری اوپن‘ کرنے کا مطالبہ عمران خان کی جانب سے سامنے آیا تھا۔