آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رشتے کروانے والے میچ میکرز: ’میں کسی کی شکل صورت پر کبھی بات نہیں کرتی لیکن کم از کم ان میچ میکرز کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے‘
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
‘شادی کرنے اور چلانے کے لیے بہت سی باتوں پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔‘
یہ وہ جملہ ہے جو زیادہ تر لڑکے اور لڑکیوں کو سننا پڑتا ہے، کبھی گھر والوں سے، کبھی باہر والوں سے مگر زیادہ تر رشتہ کروانے والی آنٹیوں سے۔
ہمارے معاشرے میں لڑکی جیسے سے بیس سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو زیادہ تر والدین اس کا رشتہ تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
تاہم لڑکے کے لیے رشتہ ڈھونڈنا ہو تو خاص عمر کا تعین نہیں کیا جاتا۔ لیکن لڑکے اور لڑکی کا رشتہ ڈھونڈنے کے لیے ایک چیز جو عام ہے، وہ ہے رشتے کروانے والی آنٹی یا انکل۔
پاکستان اور انڈیا میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے رشتے ڈھونڈنے کے لیے انھیں ‘میچ میکرز‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔
مریم اور ان کے گھر والے بھی گذشتہ کئی سالوں سے انھیں میچ میکرز کے ذریعے رشتہ تلاش کر رہے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مریم کا کہنا تھا کہ ’اب تک میرے 46 رشتے آچکے ہیں اور نہ جانے کتنے لاکھوں روپے ہم ان میچ میکرز کو دے چکے ہیں۔‘
‘یہ لوگ پیسے لے جاتے ہیں لیکن زیادہ تر عجیب رشتے دیکھاتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ مجبوری میں اس لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے گھر والے زیادہ سوشل نہیں کہ جان پہچان کے لوگوں سے کہہ سکیں۔ اس لیے میچ میکرز کی طرف جانا پڑتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا آپ کو کبھی میچ میکرز کی طرف سے کسی پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباو ڈالا گیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مریم کا کہنا تھا کہ ایک رشتہ ہو تو بتاؤں۔
‘ایک دفعہ رشتے والی آنٹی کا فون امی کو آیا کہ لڑکا بہت خوبصورت ہے۔ بس آپ فوراً ہاں کر دیں۔ انھوں نے کافی سبز باغ دیکھائے۔ جب وہ لڑکا گھر آیا تو میں نے اسے دیکھ کر کہا کہ کہاں ہے خوبصورت لڑکا۔ اوپر سے وہ اندرون شہر میں دکان چلاتا تھا۔‘
‘میں کسی کی شکل صورت پر کبھی بات نہیں کرتی کیونکہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن کم از کم ان میچ میکرز کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ میری صرف دو خواہشات ہیں کہ لڑکا عادت کا اچھا ہو اور پڑھا لکھا کمانے والا ہو۔ تاہم مجھے شکل صورت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن اگر میچ میکر یہ کہے کہ آپ میٹرک پاس سے شادی کر لیں جس کا اپنا خرچہ اس کے گھر والے اٹھاتے ہوں تو میں ایسے شخص سے شادی کیسے کر لوں۔ اوپر سے میچ میکرز آپ کو یہ نصیحت کرتی ہیں کہ فکر نہ کریں آپ کو اپنے نصیب کا مل جائے گا۔‘
‘ابھی میرے کیس میں میری امی کچھ چیزوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں جب ان کا دل زیادہ تکلیف میں ہوتا ہے۔ لیکن میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘
مریم کی والدہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ والدین صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی زندگی میں اپنے گھروں میں بس جائیں۔ ‘اس لیے وہ کبھی کبھی سمجھوتہ کرنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ تاہم اگر بات کی جائے ان میچ میکرز کی تو یہ تو پورے پورے گینگ بن چکے ہیں۔ اب ایک میجر صاحب ہیں جنھیں میں نے رشتہ تلاش کرنے کے لیے پچیس ہزار روپے دیے۔ انھوں نے پہلے تو رشتے دیکھائے نہیں جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے پیسے لیے ہیں تو پھر انھوں دو تین رشتے بتائے جو فون پر بات کرنا چاہتے تھے۔ جب ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ انھون نے چند لڑکے رکھے ہوئے ہیں جو لوگوں کے گھروں میں جاتے ہیں اور لڑکیوں کو ریجیکٹ کر کے آتے ہیں۔ اس لیے ہم لوگ بہت دیکھ بھال کر رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
مگر کیا صرف لڑکیوں کو ہی اس سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ نہیں! بہت سے لڑکے بھی اس عمل سے گزرتے ہیں۔ لاہور کے رہائشی عدنان بھی ایک ایسے لڑکے ہیں جو اس عمل اس گزر رہے ہیں۔
عدنان کو ابھی تک اپنا جیون ساتھی نہیں ملا ہے۔ ان کے مطابق وہ بھی کئی لاکھوں روپے میچ میکرز کی نظر کر چکے ہیں۔
بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ مجھے تو پیسوں کے ساتھ ساتھ رشتے والی آنٹی ایزی لوڈ کروانے کو بھی کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بیلنس کروا دو کیونکہ ہم نے لڑکی والوں کو فون کرنا ہے۔
‘اصل میں ہم نے خود شادی مشکل چیز بنا لی ہے۔ آپ کو تب تک اچھا رشتہ نہیں مل سکتا جب تک آپ اچھے علاقے میں نہ رہتے ہو، لاکھوں نہ کما رہے ہوں، خوبصورت نہ ہو، اچھی گاڑی نہ ہو۔ ہم نے رشتہ کرنے کے پیمانے بہت عجیب کر دیے ہیں۔ میرے اندر یہ تمام خوبیاں نہیں ہیں اس لیے اب تک میرا رشتہ نہیں ہوا ہے۔‘
آج کل جب اس سلسلے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے گلے ملتے جلتے ہی ہیں، تو مسئلہ ہے کہاں؟
اس بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسیات مریم سہیل کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سمجھوتہ کرنے کا کہتے ہیں۔ ‘اس کے علاوہ ہم رشتے سے پہلے بچوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتے۔ والدین بھی پریشر ڈالتے ہیں۔ جس کی وجہ سے زیادہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘
کیا رشتہ کروانے کے لیے میچ میکرز کی سروسز کا استعمال ضروری ہے؟ آج کل میچ میکرز کے علاوہ بہت سے لوگ آن لائن پیلٹ فارمز کا بھی رخ کر رہے ہیں۔
ان پلیٹ فارمز میں میں ‘سکیپ دا رشتہ آنٹی‘ یا آن لائن میرج بیورو وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں لوگ اپنی پسند کے مطابق اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔
ایسے پلیٹ فارمز کے بارے میں ہم نے ایک میچ میکر مسیسز خان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ تو جو بھی رشتہ کرواتے ہیں وہ دیکھ بھال کر کرواتے ہیں۔ ‘تاہم ایسے پلیٹ فارمز پر کون سچ بتاتا ہے کون جھوٹ آپ یہ نہیں جان سکتے ہیں۔ لوگ انٹرنیٹ پر دیکھاتے کچھ ہیں لیکن وہ نکلتا کچھ اور ہے۔‘
بی بی سی سے کئی ایسے سے جوڑوں نے بات کی جن کی شادی کامیابی سے چل رہی ہیں اور وہ آن لائن ہی ملے تھے۔
ایسے ہی ایک جوڑے نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے۔ ‘ہم نے میچ میکرز کے بجائے ایک دوسرے کا انتخاب خود کیا اور ہم خوش ہیں کہ ہمارے درمیان کوئی نہیں ہے۔ صرف گھر والے ہیں اور ہم سب اپنے اس فیصلے سے خوش ہیں۔‘