آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ضلعی انتظامیہ کے عدالتی اختیارات ختم کرنے کا بِل پارلیمان سے منظوری کے بعد ’لاپتہ ‘، ایوان صدر کا بل کے مسودے سے اظہار لاعلمی
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی ایوان زیریں اور ایوان بالا سے منظوری کے باوجود ضلعی انتظامیہ کے عدالتی اختیارات ختم کرنے کا بل آج تک قانون کی شکل اختیار نہیں کرسکا ہے۔ اس بل کو قانون کا درجہ دینے کے لیے اسے ایوان صدر بھجوایا گیا لیکن اس بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس بل کی فائل کہاں پڑی ہوئی ہے۔
اس سے قبل بھی جبری گمشدگیوں سے متعلق پارلیمنٹ سے منظوری کے باوجود بل 'لاپتہ' ہوگیا تھا اور اب تک قانون کا درجہ حاصل نہیں کرسکا ہے۔
صدر عارف علوی کے ترجمان قمر بشیر کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد جو بھی بل صدر کے پاس منظوری کے لیے آتا ہے وہ براہ راست صدر کے سیکرٹری کے پاس جاتا ہے۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سےعدلیہ کے اختیار لینے کے بارے میں جو بل پارلیمنٹ سے پاس ہوکر ایوان صدر آیا ہے اس کے بارے میں انھیں علم نہیں ہے۔
صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر اگر کسی بل کو پاس کرتے ہیں یا اس کو مسترد کرتے ہیں اور یا پھر اس پر اعتراضات لگا کر واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیتے ہیں تو صرف اسی کے بارے میں ہی انھیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق جو بل پارلیمنٹ سے منظور ہوکر صدر مملکت کو منظوری کے لیے بھیجا جائے تو صدر مملکت دو ہفتوں میں اس بل کو منظور کرنے یا اس پر اعتراض لگا کر واپس کرنے کے پابند ہیں۔
انتظامیہ کو عدلیہ سے الگ کرنے کا بل حکمراں اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اس سال سینیٹ میں پیش کیا تھا اور بعد ازاں یہ بل داخلہ امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں اس قائمہ کمیٹی نے بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود اس بل کو متفقہ طور پر منظور کرنے کے بعد اسے سینیٹ میں پیش کیا تھا جہاں اسے منظور کرلیا گیا۔
جس کے بعد اس سال 8 جون کو یہ بل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا گیا اور وہاں سے بھی اس بل کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد 21 جون کو اس بل کو وزیر اعظم آفس سے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔
بل ہے کیا؟
اس بل کو ضابطۂ فوجداری ترمیمی ایکٹ سنہ 2022کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے ضابطۂ فوجداری کے 125 سال پرانے قانون میں ترمیم کی گئی ہےجس کے تحت انتظامیہ کو حاصل عدالتی اختیار سلب کرلیے گئے ہیں۔
ترمیمی بل کے ذریعے انتظامیہ کو امن عامہ اور معمولی جرائم کے حوالے سے گرفتاری اور مقدمے کے اندراج کے اختیارات برقرار رہیں گے لیکن اس ترمیم کے بعد اب یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ جب ان گرفتاریوں اور مقدمات کے حوالے سے عدالتی کارروائی شروع ہوگی تو اس میں ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کا عمل دخل ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں خصوصی بینچ تشکیل دیے جائیں گے جو کہ ہائی کورٹ کو جواب دہ ہوں گے۔
اس ترمیمی بل میں وقتی طور پر اس قانون کا دائرہ اختیار وفاقی دارالحکومت تک ہی محدود ہو گا۔
اس بل کے محرک عرفان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ترمیم کے ذریعے انتظامیہ کو مفلوج نہیں کیا گیا اور اس کے تمام تر انتظامی اختیارات اسی طرح برقرار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضابطۂ فوجداری میں صرف یہ ترمیم کی گئی ہے کہ وہ اب عدالتی اختیارات استعمال نہیں کرسکے گی۔
انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس مقدمات درج کرنے اور گرفتاری کے اختیارات بھی اسی طرح رکھے گئے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ گرفتاری کے بعد ضلعی انتظامیہ کا دائرۂ اختیار ختم ہو جائے گا اور کسی بھی شخص کی گرفتاری کے بعد اس کو متعقلہ مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے باوجود یہ ابھی تک قانون کا درجہ حاصل کیوں نہیں کرسکا ہے تو عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو سینیٹ کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔
بل کا پس منظر
عرفان صدیقی کے، جو کہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، گھر پر تین سال قبل اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کر انھیں اس الزام میں گرفتار کرلیا تھا کہ انھوں نے جو گھر کرائے پر دیا تھا اس کے کوائف متعلقہ تھانے میں درج نہیں کروائے تھے اور اس جرم کو انھوں نے سیکشن 144 کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
سینیٹر عرفان صدیقی کا موقف تھا کہ یہ گھر ان کے بیٹے کے نام پر ہے اور ان کے بیٹے نے ہی کرائے دار سے معاہدہ کیا ہے۔
گرفتاری کے بعد ملزم کو ہتھکڑی ڈال کر متعقلہ اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا جنھوں نے عرفان صدیقی کو 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔
عرفان صدیقی کے بقول جوڈیشل ریمانڈ کے بعد انھیں اڈیالہ جیل میں ہائی سکیورٹی بلاک میں رکھا گیا جو کہ شدت پسندوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں آج تک کرائے نامہ سے متعلق کوائف متعقلہ تھانے میں جمع نہ کروانے پر کسی شخص کو مجرم قرار دے کر سزا نہیں سنائی گئی۔
سول سوسائٹی کی طرف سے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کے خلاف شدید احتجاج کے بعد چھٹی کے روز عدالت لگا کر عرفان صدیقی کی ضمانت منظور کی گئی۔
اس مقدمے کے اخراج کے لیے جب اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے اس بنیاد پر درخواست کو نمٹا دیا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عرفان صدیقی کے خلاف یہ مقدمہ خود ہی واپس لے لیا ہے۔