آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی سہیلی کے بارے میں انڈین خاتون کی پوسٹ نے سوشل میڈیا پر دل جیت لیے
اپنی پاکستانی ہم جماعت سے دوستی کے بارے میں ایک انڈین طالبہ کی پوسٹ کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا جا رہا ہے۔
یہ دونوں امریکی شہر بوسٹن میں قائم ہارورڈ بزنس سکول میں پڑھتی ہیں، اور مذکورہ پوسٹ میں دونوں اپنے اپنے ملکوں کے پرچم تھامے ایک ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں۔
سنیہا بِسواس نے لکھا کہ پاکستانی طالبہ سے ان کی دوستی نے اُن فرسودہ تصورات کو مٹا دیا ہے جن کا وہ اپنے ملک میں شکار تھیں۔
دونوں ملکوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے مُعانِدانہ رہے ہیں۔
انڈیا نے پاکستانی فنکاروں اور کرکٹروں کے ملک میں پرفارم کرنے اور کھیلنے پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ پاکستان میں بالی وُڈ فلمیں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔
تصویر کے اندر دکھائے گئے باہمی یگانگت کے جذبے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، ’ہم نے اپنے بیچ دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں اس لیے اب یہ ہم پر ہے کہ ہم انھیں گرا دیں۔‘ ایک اور صارف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں خواتین کی ’دوستی عمر بھر چلے اور سرحد کے دونوں طرف لڑکیوں کے لیے تبدیلیاں لائے۔‘
سنیہا نے، جو اپنا کاروبار بھی چلاتی ہیں، اپنی پاکستانی ہم جماعت سے دوستی کی پوسٹ لِنکڈاِن پر شیئر کی تھی۔ انھوں نے اپنی سہیلی کا نام نہیں لکھا۔
اپنی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ایک چھوٹے سے قصبے میں بڑا ہونے کی وجہ سے پاکستان اور اس کے لوگوں کے بارے میں ان کا علم محدود تھا۔ اس سلسلے میں ان کی معلومات کتابوں اور میڈیا سے حاصل کردہ تھی جو اکثر نفرت اور دشمنی کے بیانات پر مبنی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی سہیلی اسلام آباد کی رہنے والی ہیں، اور ہارورڈ میں پہلے دن ملاقات پر ہی وہ گہری دوست بن گئیں۔
چائے اور بریانی پر کئی بار گفتگو کے دوران انھیں پتا چلا کہ ان کی دوست کا پس منظر بھی ان جیسا ہی ہے، وہ بھی متوسط طبقے سے ہیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں ان کے خاندان والوں نے ان کی مدد کی ہے۔
سنیہا نے لکھا، ’مجھے احساس ہوا کہ اپنی قوم و ملک کے لیے اپنا فخر قائم رکھتے ہوئے بھی لوگوں کے لیے آپ کا پیار جغرافیے اور سرحدوں کا پابند نہیں ہے۔‘
ان کی پوسٹ لوگوں کے درمیان جذبۂ یگانگت ابھارتی ہے، ’سرحدیں، بارڈر اور جگہیں انسانوں نے بنائی ہیں۔‘ انھوں نے نہ صرف دو ملکوں کے درمیان ’رکاوٹیں توڑنے‘ کی بات کی بلکہ انڈیا اور پاکستان کی چھوٹی سی لڑکیوں کے لیے بھی جو ’ستاروں پر کمند ڈالنے سے خوفزدہ ہیں۔‘
دونوں ملکوں کے 75ویں یوم آزادی کے تناظر میں اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی ملی ہے۔ پاکستان 14 جبکہ انڈیا 15 اگست کو آزادی کا دن مناتا ہے۔ اس روز 1947 میں بّرِ صغیر دو ملکوں انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوگیا تھا، جس کے بعد تاریخ کے سب سے زیادہ خونریز واقعات پیش آئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے بیچ بو دیے تھے۔