لاہور میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب: ’مجھے دفتر جاتے ہوئے جوہر ٹاؤن کا دریا اور ماڈل ٹاؤن پارک کی ندی عبور کرنا پڑی‘

لاہور بارش
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہونے والی موسلا دھار بارش سے شہر کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں 238 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات لاہور کے چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ بارش لاہور کے علاقے تاج پورہ میں 238 ملی میٹر ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حساب سے شہر میں تقریباً آٹھ انچ بارش برس چکی ہے۔

لاہور بارش

تیز اور مسلسل بارش کے باعث جہاں شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے وہیں ٹریفک کی روانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

لاہور کی اہم شاہراؤں سمیت شادمان، مزنگ، مسلم ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن میں بھی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تیز اور مسلسل بارش کے باعث پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گیا۔

لاہور بارش

چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں لکشمی چوک، کوپر روڈ، دوموریہ پل، ایک موریہ، فردوس مارکیٹ، جی پی او چوک، نابھہ روڈ، بھاٹی گیٹ، جناح ہپتال اور ٹکا چوک سے واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات سے جاری بارش کا سلسلہ اس وقت کچھ دیر کے لیے تھم گیا ہے تاہم ابھی مزید چند دن بارش کی پیش گوئی ہے۔

شاہد عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی میڈیا پر چلنے والی خبریں کہ بارش کے حالیہ سپیل نے ریکارڈ توڑ دیے، درست نہیں ہیں۔

لاہور بارش

ان کا کہنا تھا کہ مون سون کے سیزن میں لاہور شہر میں اس سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا محکمہ موسمیات نے اتنی شدید بارش کی پیش گوئی کی تھی ان کا کہنا تھا کہ بالکل بارش کا یہ حالیہ سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے اور اس حوالے سے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے صارفین بارش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر بات کر رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ایک صارف نے بارش میں اپنے سفر کی روداد بتاتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اس بارش میں دفتر جاتے ہوئے جوہر ٹاؤن کا دریا اور ماڈل ٹاؤن پارک کی ندی عبور کرنا پڑی۔‘

جبکہ ایک صارف نے لاہور پر سڑکوں پر پانی جمع ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’حمزہ شہباز شریف کل وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہے لیکن آج انتظامیہ کہاں غائب ہے؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

جبکہ چند صارفین لاہور کے تاج پورہ میں ہونے والی شدید بارش کے باعث کھڑے ہونے والے پانی پر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں اور صوبے میں جاری سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دے رہے ہیں۔

ٹویٹ

جہاں ایک جانب صارفین بارش کے باعث ہونے والی مشکلات پر بات کر رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس موسم سے لطف اندوز ہوتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر شان رضوی نامی ایک صارف نے موسم سے لطف اندوز ہوتے کچھ یوں ٹویٹ کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

یہ بھی پڑھیے

شدید بارش میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟

بارش

شدید بارش میں حادثات سے بچنے کے لیے کیا احتیاطی اقدامات اٹھانے چاہیے اس بارے میں بات کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس کا کہنا تھا کہ شدید بارش میں ٹریفک حادثات اور بجلی کا کرنٹ لگنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'شدید بارش میں موٹر سائیکل سواروں کو تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سڑک پر پھسلن ان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جن علاقوں میں پانی کھڑا ہے وہاں پانی سے گزرتے ہوئے بجلی کے کھمبوں کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے کرنٹ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔'

شاہد عباس کا کہنا تھا کہ ایک طریقہ کار کے تحت جب بھی محکمہ موسمیات بارش کی پیش گوئی کرتا یا شدید بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کرتا ہے تو واسا اور واپڈا سمیت متعلقہ محکمہ شہر میں نکاسی آب کے حوالے سے اپنی حکمت عملی ترتیب دے دیتے ہیں۔

لاہور بارش

ان کا کہنا تھا شدید بارش کے دوران کچے مکانات اور دیواروں سے فاصلہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے کے مون سون کے دوران باقاعدگی سے وہ اپنے گھروں کی چھتوں پر پانی کے اخراج کے لیے پرنالوں کی صفائی کریں تاکہ شدید بارش کی صورت میں ان کے گھر محفوظ رہیں۔