’سمارٹ چیک ایپ‘ کیا ہے اور یہ پاکستان میں چیک باؤنس ہونے کا سدباب کیسے کرے گی؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی
  • وقت اشاعت

’میرے پاس کافی عرصے سے ایک پارٹی کے پندرہ لاکھ مالیت کے چیک پڑے ہیں، جو باؤنس ہو چکے ہیں تاہم میں نے اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ ایک تو میں تھانے کچہری کے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ دوسرا مجھے امید ہے کہ مجھے کسی نہ کسی دن میرے پیسے مل جائیں گے کیونکہ کاروبار میں ایسا چلتا رہتا ہے۔‘

کراچی کے شہباز خان، کینو کی ایکسپورٹ کے شعبے سے منسلک ہیں اور کینو کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے لاجسٹکس سروسز فراہم کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے ایک پارٹی سے پندرہ لاکھ وصول کرنے تھے جس نے انھیں اس مالیت کے تین چیک دیے۔ تاہم شہباز خان کے مطابق کافی عرصہ قبل دیےجانے والے یہ چیک بوجوہ ابھی تک کیش نہیں ہوئے اور اس دوران جب انھوں نے پارٹی کے کہنے پر چیک بینک میں جمع کرائے تو یہ باؤنس ہو گئے۔

شہباز خان کاروبار میں لین دین کے معاملات کو کورٹ کچہری لے جانے کے حق میں نہیں کیونکہ اُن کے مطابق اس سے کاروباری ساکھ خراب ہو جاتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے کاروبار میں چیک باؤنس ہو جاتے ہیں تاہم تھانے کچہری تک بات نہیں جاتی اور مصالحت سے کاروباری معاملات کو حل کر دیا جاتا ہے۔‘

دوسری جانب محمد نیاز کراچی میں محدود پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں اور ایک چیک باؤنس ہونے پر ایف آئی ار اور جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔

نیاز نے بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کی لین دین کے معاملے میں ضمانت دی تھی، اُس شخص نے ایک منافع پر قرض فراہم کرنے والے ایک شخص کو قرض کی قسطیں دینی تھیں۔

’میں نے اس قرض دینے والے کو بطور ضمانت اپنا چیک دیا اور قرض لینے والے سے وعدہ کیا کہ وہ مقررہ تاریخ پر پیسے میرے بینک اکاونٹ میں جمع کروا دے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ میرے پاس بھی پیسے نہیں تھے کیونکہ رقم بڑی تھی۔ اس پر قرض دینے والے نے میرے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی اور مجھے جیل جانا پڑا۔ بیس دن بعد جب قرض دینے والے شخص نے پیسے جمع کر کے ادائیگی کی تو میری اس مقدمے سے جان چھوٹی۔‘

شہباز خان اور محمد نیاز پاکستان میں باؤنس چیک کے فراڈ کا شکار ہونے والے دو مختلف افراد ہیں، جن میں سے ایک تھانے کچہری تک نہیں پہنچے جبکہ دوسرے کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔

چیک باونس فراڈ پاکستان میں ایک بڑھتا ہوا مالی جرم بنتا جا رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے اب حکومت کی جانب سے ایک ’سمارٹ چیک ایپ‘ پر کام ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم سٹرٹیجک اصلاحات سیل کے سربراہ سلمان صوفی کے مطابق حکومت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر اس ایپ پر کام کر رہی ہے اور اسے جلد لانچ کر دیا جائے گا۔

سمارٹ چیک ایپ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گی؟

حکومت کی جانب سے سمارٹ چیک ایپ متعارف کرانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سلمان صوفی نے بتایا کہ اس سسٹم کے تحت لوگوں کو پہلے ہی پتا چل جائے گا کہ کسی شخص کی طرف سے کوئی چیک دیا جائے تو وہ وصول کرنے والا اسے وصول کرے یا نہیں تاکہ چیک لیتے وقت جو رسک فیکٹر ایک بندہ لیتا ہے وہ ختم ہو جائے۔

’جب کوئی چیک دیا جائے گا تو اس کا چیک نمبر اس ایپ میں ڈالیں تو پتا چل جائے گا کہ اس بندے کی کریڈٹ ہسٹری کیا ہے اور اس کا چیک لینا چاہیے یا نہیں۔‘

سلمان صوفی نے کہا یہ سارا ڈیٹا ہم چیک وصول کرنے والے کو دے رہے ہیں تاکہ وہ فیصلہ کر پائی کہ چیک وصول کرنا چاہیے یا نہیں۔

انھوں نے کہا ان معلومات کی روشنی چیک باؤنس ہونے کے امکانات کم ہوں گے اور ان پر قانونی چارہ جوئی کے مسائل بھی کم ہوں گے۔ دوسرا اس ایپ پر جب معلومات دستیاب ہوں گی تو چیک دینے والے بھی ایسا چیک دینے سے اجتناب کریں گے، جس کے باؤنس ہونے کا خطرہ ہو۔

سلمان صوفی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سٹرٹیجک اصلاحات یونٹ نے یہ ایپ بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ باؤنس چیک کا مالی جرم پاکستان میں بڑھتا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے جس میں سارے باؤنس چیکس کا ڈیٹا بھی موجود ہو گا تاکہ جو چیک دے رہا ہے اس کی کریڈٹ ہسٹری فوراً معلوم ہو جائے کہ ماضی میں دیے گئے اس کے کتنے چیک باؤنس ہوئے۔

چیک باؤنس ہونا کیا ہے اور پاکستان کا قانون اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟

پاکستان میں چیک باؤنس ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بینکاری کے شعبے کے ماہر راشد مسعود عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ چیک تین طریقوں سے باؤنس ہوتے ہیں

’ایک تو یہ کہ آپ نے لین دین کے معاملے میں کسی کو پیسے دینے ہیں اور آپ نے اس کو ٹالنے کے لیے ایک چیک دے دیا اس سے قطع نظر کے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے ہیں یا نہیں۔ دوسرا چیک اس وقت باؤنس ہوتا ہے جب چیک لکھتے ہوئے آپ سے کوئی غلطی ہو جائے یعنی جو رقم لکھی جائے اس کے الفاظ اور ہندسوں میں کوئی فرق ہو۔ تیسرا جب چیک پر آپ کے دستخط صحیح نہ ہوں۔ ان تینوں صورتوں میں چیک باونس ہو جاتا ہے۔‘

پاکستان میں چیک باؤنس ہونے کے قانون کے بارے میں مالی تنازعات کے کیسوں کی پیروی کرنے والے وکیل ڈاکٹر شاہنواز میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ 1860 کے پینل کوڈ میں سنہ 2002 میں ترمیم کی گئی اور اس میں ایک نیا سیکشن 489 ایف شامل کیا گیا، جس میں لکھا ہے کہ اگر کسی کا جاری کردہ چیک باؤنس ہو جائے تو تین سال کی قید یا جرمانہ یا پھر قید اور جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا چیک باؤنس کے خلاف ملک کا موجودہ قانون مؤثر ہے؟

شاہنواز میمن نے ملک میں چیک باؤنس ہونے کے خلاف موجودہ قانون کے مؤثر ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا یہ قانون مؤثر ثابت ہوا کیونکہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ پہلے چیک جاری کر دیا جاتا تھا اور بعد میں یہ ڈس آنر ہو جاتا تھا کیونکہ اس پر کوئی سزا نہیں تھی۔

’جو تجارتی لین دین ہوتا تھا اس میں چیک باؤنس ہو جانا ایک عام بات تھی اور اس سے تنازعات جنم لیتے تھے تاہم اس قانون کے بعد کافی بہتری آئی کیونکہ سپریم کورٹ تک میں اب چیک باؤنس کے کیس میں ضمانت نہیں ہوتی، اس لیے لوگ چیک دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ چیک باؤنس نہ ہو۔‘

ڈاکٹر میمن کے مطابق غلطی سے چیک باؤنس ہونے یا جان بوجھ کر چیک کے باؤنس ہونے میں عدالت اس قانون کے تحت تشریح کرتی ہے۔

ڈاکٹر میمن نے کہا کہ قانون آنے کے بعد چیک باؤنس ہونے کے واقعات میں کمی آئی تاہم انھوں نے کہا کہ اس قانون کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف باؤنس چیک دکھانے پر ایف آئی آر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ کوئی رسید یا ثبوت بھی ہو کہ یہ چیک کس مد میں دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ کہیں کہیں یہ قانون بلیک میلنگ کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ رسید اور ثبوت ہو تو ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

دوسری جانب سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باؤنس چیک پر موجودہ قانون زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ چیک باؤنس پر ایف آئی آر کروانا اور اسے تھانے کچہری میں چلانا عام لوگوں کے لیے مشکل کام ہے۔

’ایف آئی آر کے بعد بھی پولیس کے پاس کم ذرائع ہوتے ہیں کہ وہ پیسے ریکور کروا لے اور پھر عدالت کے پاس جائے اور بندے کے پاس پیسے نہ ہوں تو کیسے کسی کے ڈوبے ہوئے پیسے اسے واپس مل جائیں۔‘