آذربائیجان میں بلوچ سیاسی کارکن کی ڈوبنے سے ہلاکت: ’دو بھائیوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے بعد تیسرے کو بیرون ملک بھیجا مگر وہاں بھی پراسرار موت نے آ لیا‘

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

’دو بھائیوں کی جبری گمشدگی اور پھر اُن کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے بعد میرے تیسرے بھائی ثاقب کریم بلوچ بیرون ملک چلے گئے تاکہ وہ وہاں اپنی زندگی کسی خوف اور خطرے کے بغیر گزار سکیں لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور وہاں بھی انھیں پراسرار موت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

یہ کہنا ہے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم فیصل کریم بلوچ کا جن کے بڑے بھائی ثاقب کریم آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 8 جولائی کو مبینہ طور پر سمندر میں ڈوبنے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

فیصل کریم نے بتایا کہ ’آذربائیجان کی پولیس نے میرے بھائی کی موت کو ایک حادثہ قرار دیا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں ان کی موت کے بارے میں تحقیقات ہوں کیونکہ اس حوالے سے ہمیں خدشات ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل دیگر ممالک میں بھی سیاسی پناہ حاصل کرنے والے بعض بلوچ سیاسی کارکنوں کی موت بھی اسی طرح پراسرار حالات میں ہو چکی ہے۔‘

قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل موومنٹ (بی این ایم ) کے مرکزی ترجمان قاضی داد محمد ریحان نے ثاقب کریم کی موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں آذربائیجان کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیق میں ’قتل کے خدشے‘ پر غور کرے۔

یاد رہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کا شمار بلوچستان کی ان سخت گیر قوم پرست جماعتوں میں ہوتا ہے جو کہ پارلیمانی سیاست کے مخالف ہیں۔ یہ جماعت الیکشن کمیشن کے ساتھ بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اس جمعات کے مرکزی صدر غلام محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد لاش برآمد ہوئی تھی جبکہ فی الحال اس جماعت کے متعدد رہنما یا تو بیرون ملک مقیم ہیں یا زیر زمین ہیں۔

تاہم دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ریاستی اداروں پر بیرون ملک لوگوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں کے خلاف ایک بے بنیاد پراپیگنڈہ قرار دیا ہے۔

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

ثاقب کریم کی موت آذربائیجان میں کہاں ہوئی اور اہلِخانہ کا کیا کہنا ہے؟

ثاقب کریم کی موت آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہوئی تھی۔

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منسٹری آف جسٹس کی جانب سے 13 جولائی 2022 کو جاری ہونے والے ثاقب کریم کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے مطابق ان کی موت 8 جولائی کو ہوئی۔

سرٹیفیکیٹ کے مطابق اُن کی ہلاکت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی اور ان کی موت کو ’غیر مہلک‘ قرار دیا گیا ہے۔

ثاقب کریم کے چھوٹے بھائی فیصل کریم کا کہنا ہے کہ آذربائیجان سے ہمیں بتایا گیا کہ ثاقب کی موت سمندر میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہاں کی پولیس نے میرے بھائی کی موت کو ایک حادثہ قرار دیا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یو این ایچ سی آر (اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین) اور وہاں کی حکومت ان کی موت کے بارے میں تمام پہلوﺅں سے جامع تحقیقات کریں ’کیونکہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے قبل بھی بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے بعض بلوچ سیاسی کارکنوں کی موت بالکل اسی طرح ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہمیں شبہ ہے کہ بھائی کی موت کے پیچھے کوئی سازش کارفرما نہ ہو۔‘

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

ثاقب کریم بلوچ کون تھے؟

32 سالہ ثاقب کا تعلق بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے بسیمہ سے تھا۔

وہ شادی شدہ تھے اور ایک کمسن بیٹے اور بیٹی کے والد تھے۔ انھوں نے سول انجنیئرنگ میں ڈپلومہ کر رکھا تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے اسلام آباد منتقل ہوئے تھے اور ان کے بھائی کے مطابق انھوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں ملازمت بھی اختیار کی تھی۔

فیصل کریم نے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں ثاقب کریم کا تعلق بلوچستان میں بلوچ قوم پرست طلبا کی سب سے بڑی تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے گروپ کالعدم بی ایس او (آزاد) سے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ ثاقب کریم سنہ 2015 میں دبئی منتقل ہوئے اور 2018 میں وہ آذربائیجان چلے گئے جہاں یو این ایچ سی آر کو سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2018 سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں مقیم تھے اور رواں سال کے آغاز میں یو این ایچ سی آر نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انھیں سیاسی پناہ گزین کی حیثیت دی تھی۔

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

’ثاقب کریم سے قبل دو بھائیوں کی مبینہ جبری گمشدگی اور ہلاکت‘

فیصل کریم کا دعویٰ ہے کہ ثاقب کریم کے جلاوطنی اختیار کرنے کے سے قبل ان کے دو بھائیوں کو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور بعد میں ان کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

ان کے مطابق اُن کے دو بھائیوں میں سے طارق کریم کو کراچی جبکہ عاصم کریم کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جن دو بھائیوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ہلاک کیا گیا ان کا تعلق بھی کالعدم بی ایس او (آزاد) سے تھا۔

فیصل کریم کا کہنا تھا کہ طارق کریم بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ کے طالب علم تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سیکورٹی فورسز نے بسیمہ میں ان کے گاﺅں میں ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا لیکن وہ گھر پر نہیں بلکہ کراچی میں تھے جہاں سے 21 اکتوبر 2010 کو گلستان جوہر کے علاقے سے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے دوسرے بھائی عاصم کریم پنجاب کے شہر ملتان میں زیر تعلیم تھے اور وہ وہاں انجنیئرنگ میں ڈپلومہ کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب طارق کو لاپتہ کیا گیا اس وقت عاصم کریم کوئٹہ میں تھے اور انھوں نے کراچی سے لاپتہ ہونے والے بھائی طارق کریم کی جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی۔

فیصل کا دعویٰ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے بعد 29 اکتوبر 2010 کو عاصم کو کوئٹہ شہر سے لاپتہ کر دیا گیا اور گمشدگی کے صرف دو روز بعد 31 اکتوبر کو ان کی تشدد زدہ لاش کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے خانوزئی سے برآمد ہوئی تھی۔

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

فیصل کریم نے دعویٰ کیا کہ ’اگرچہ جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ان کے پہلے بھائی طارق کریم کو کراچی سے اٹھایا گیا تھا لیکن سات ماہ بعد 11 مئی 2011 کو ان کی مسخ شدہ لاش کوئٹہ میں پھینکی گئی تھی۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دو نوجوان بھائیوں کو تعلیم کے دوران مبینہ طور پر ان کے سیاسی نظریے اور کالعدم بی ایس او (آزاد ) سے تعلق کی بنیاد ہلاک کیا گیا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ نے اپنے بیان میں ان دونوں بھائیوں کی جبری گمشدگی اور ان کی ہلاکت کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا تھا۔

فیصل کریم کا کہنا ہے کہ دو بھائیوں اور اپنے متعدد دیگر نظریاتی ساتھیوں کی جبری گمشدگی اور اُن مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے بعد اس قسم کی وحشت سے دوچار ہونے سے بچنے کے لیے ثاقب کریم نے جلاوطنی اختیار کی لیکن سات ساڑھے سات سال بعد ہمیں ان کی بھی لاش ملی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جوانی میں ہلاک ہونے والے تینوں بھائی ان سے بڑے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چونکہ ثاقب کریم کی زندگی کو خطرہ تھا اس لیے انھیں مجبوراً بیرون ملک جانا پڑا۔'

فیصل کریم نے بتایا کہ آذربائیجان میں بھائی سے رابطہ رہتا تھا اور وہ وہاں اپنے قیام سے مطمئن نہیں تھے اور ان کی کوشش تھی کہ وہاں سے کسی دوسرے محفوظ ملک کے لیے نکل جائے لیکن کوشش کے باوجود انھیں وہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے نزدیک میرے تینوں بھائیوں کا جرم کوئی نہیں تھا بلکہ انھیں ان کے نظریہ اور سوچ کی سزا دی گئی۔‘

فیصل کا کہنا تھا کہ ’تین نوجوان بھائیوں کی غیر طبعی موت ان کے خاندان کے لیے یقیناً ایک بہت بڑا صدمہ ہے جس کا احاطہ شاید الفاظ نہ کر سکیں۔‘

کریمہ بلوچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@@Helashams

،تصویر کا کیپشنٹورنٹو پولیس کے مطابق کریمہ کی لاش شہر کے ایک جزیرے کے قریب پانی سے برآمد کی گئی تھی

ثاقب کریم سے قبل بیرون ملک کن بلوچ سیاسی کارکنوں کی ہلاکت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی؟

ثاقب کریم سے قبل کینیڈا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والی بی ایس او (آزاد) کی سابق چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی لاش پانی سے ملی تھی۔ وہ 20 دسمبر 2021 کو اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئی تھیں اور 22 دسمبر کو اُن کی لاش ملی تھی۔

ٹورنٹو پولیس کے مطابق کریمہ کی لاش شہر کے ایک جزیرے کے قریب پانی سے برآمد کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کریمہ بلوچ سے قبل سویڈن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے صحافی ساجد حسین بلوچ کی لاش بھی اپسلا کی ندی سے ملی تھی۔

ساجد حسین مارچ 2020 میں لاپتہ ہو گئے تھے اور ایک مہینے بعد پولیس نے ساجد حسین کی لاش برآمد کی تھی۔

کینیڈا اور سویڈن کی پولیس نے مذکورہ دونوں واقعات کو حادثہ قرار دیا تھا تھا تاہم بلوچ نیشنل موومنٹ اور دیگر بلوچ سیاسی حلقے ان اموات کو ایک سازش کے تحت قتل قرار دیتے رہے اور ان کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

ساجد حسین

،تصویر کا ذریعہSajid Hussain/Facebook

،تصویر کا کیپشنساجد حسین مارچ 2020 ءمیں لاپتہ ہو گئے تھے اور ایک مہینے بعد پولیس نے ساجد حسین کی لاش برآمد کی تھی

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان قاضی داد محمد ریحان نے ثاقب کریم کی نعش کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان کی موت کی تحقیق میں قتل کے خدشے کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ بی این ایم کا الزام ہے کہ ان کے دونوں بھائیوں کو مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے جبری گمشدگی کے بعد زیرحراست قتل کیا تھا۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچ افراد کی بیرون ملک ہلاکتوں سے متعلق ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک آذربائیجان میں پیش آنے والے واقعے کی بات ہے تو اس کے بارے میں آذربائیجان کی حکومت جواب دے سکتی ہے کیونکہ یہ واقعہ وہاں پیش آیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں تک بیرونی ممالک کی بات ہے خواہ وہ آذربائیجان ہو یا کینیڈا یا کوئی اور ملک ہو وہ تو آزاد اور خود مختار ممالک ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ کسی آزاد اور خود مختار ملک میں ہمارے ریاستی ادارے کیسے جا کر مداخلت کر سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بعض دیگر معاملات کے حوالے سے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے اسی طرح بیرون ملک لوگوں کی اموات کے حوالے سے بھی بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

Faisal Karim

،تصویر کا ذریعہFaisal Karim

اس سے قبل بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے جب سیکورٹی فورسز کا موقف معلوم کرنے کے لیے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’مسنگ پرسنز کا معاملہ بنیادی طور پر ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے قائم کردہ کمیشن کے مطابق مسنگ پرسنز کے 8381 کیس رپورٹ کیے گئے جن میں سے 6163 کیس عدالتی تحقیقات کے بعد ختم کر دیے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی پیروی کرتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق زیادہ تر افراد کو دہشت گرد تنظیمیں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے پی سی ہوٹل پر حملہ کرنے والا حمل فتح بلوچ اس کی ایک مثال ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ سب کچھ پاکستان دشمن عناصر کی پشت پناہی میں کیا جاتا ہے۔ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف چند لوگوں کو امن و امان قائم رکھنے کے لیے گرفتار کرتے ہیں، جن کو تفتیش کے بعد بے قصور ہونے کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’پاکستان دشمن عناصر کالعدم تنظیموں کو استعمال کر کے لوگوں کو اغوا اور قتل کرواتی ہیں اور جب پاکستانی ایجنسیاں ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیتی ہیں تو ایک سوچی سمجھی چال کے مطابق الزام پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جاتا ہے۔‘