کراچی میں لوڈشیڈنگ : ’اگر کوئی ادائیگی نہیں کر رہا ہے تو ہم اس کو بجلی کیوں دیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
’ہمارے یہاں چند سالوں سے بجلی نہیں جاتی تھی اس لیے ہم نے متبادل کوئی انتظام نہیں رکھا تھا، لیکن اس وقت آٹھ گھنٹے میں تین گھنٹے آدھے آدھے گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے رات کو بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔‘ سوزین کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رہتی ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کی عدم دستیابی اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے، منگل کو ایک درجن مقامات پر مشتعل شہریوں نے احتجاج کیے جس میں سڑکیں بلاک کی گئیں، ماڑی پور میں احتجاج پُرتشدد بن گیا پولیس اور رینجرز کو شیلنگ اور لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
نہ ہوا اور نہ ہی روشنی
یہ احتجاج لیاقت آباد، لائینز ایریا، گلستان جوہر، مین یونیورسٹی روڈ، ناظم آباد سلطان آباد ہجرت کالونی اور دیگر علاقوں میں کیے گئے، جہاں کے مکینوں کو شکایت تھی کہ کے الیکٹرک نے تین گھنٹے کی لوڈشینگ کا شیڈیول دیا تھا تاہم اب اس کا دورانیہ طویل ہوچکا ہے۔
گلستان جوہر کی رہائشی سوزین بتاتی ہیں کہ ’فلیٹس زیادہ تر ہوا دار نہیں ہوتے اگر بجلی نہ ہو تو اندھیرا بھی ہوجاتا ہے اب باہر کوئی پارک وغیرہ موجود نہیں ہے کہ کوئی کچھ دیر باہر چلے جائیں اس گرمی میں فلیٹ کے اندر گھٹن اور اندھیرے میں ہی رہنا پڑتا ہے۔‘
ملیر کے دیہات تھانو کے رہائشی حنیف دلمراد بتاتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں 15 سے 16 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ہے، یہ ایک وقت پر دو تین سے گھنٹے کے لیے جاتی ہے اس کے بعد ایک گھنٹے کے لیے آتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے۔
’ملیر میں جو زراعت ہوتی تھی وہ ٹیوب ویل پر کی جاتی ہے اس طویل لوڈشیڈنگ نے یہاں کی زراعت کو تباہ کیا، یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں زرعی زمینوں پر رہائشی منصوبے بن رہے ہیں اس کی وجہ بجلی ہے اگر بجلی ہوتی تو لوگ اپنی زمینں کبھی بلڈر کو نہیں فروخت کرتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لوڈشیڈنگ کی وجوہات
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق ’پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کراچی کو بجلی کی اوسطاً فراہمی 2700 میگاواٹ رہی جس میں نیشنل گرڈ سے حاصل کردہ اوسطاً 1000 میگاواٹ بھی شامل ہے۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال جو عموماً 250 سے 300 میگا واٹ تھا، وہ بڑھ کر اوسطاً 400 سے 500 میگا واٹ تک جا پہنچا ہے۔ شارٹ فال جو کہ 24 گھنٹے موجود ہے اس کے باعث رات کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ کرنی پڑرہی ہے۔‘
ترجمان کے الیکٹرک نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی پیدوار سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی قلت اور عالمی سطح پر فیول کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے باعث بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے اس کے علاوہ مقامی گیس کی عدم فراہمی کے باعث کے الیکٹرک کے 200 میگاواٹ کے پاور پلانٹس بجلی پیداکرنے سے قاصر ہیں۔
کے الیکٹرک نے موجودہ صورتحال کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر بھی ڈالی ہے ترجمان کے مطابق حکومت پاکستان سے ٹیرف ڈفرینشل کلیمز کی مد میں عدم ادائیگی کے باعث فیول کی خریداری میں بھی مسائل درپیش ہیں، اس سلسلے میں کے الیکٹرک نے حکومت پاکستان سے کم از کم 25 بلین روپے کی ادائیگی کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ کے الیکٹرک کی 2005 میں نجکاری کر دی گئی۔ کمپنی کے مطابق وہ پاکستان کا واحد علاقہ ہیں جو 6500 کلومیٹر کے علاقے میں بجلی فراہم کرتے ہیں۔ کمپنی کے سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ)، کویت، اور انفراسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ (آئی جی سی ایف )شامل ہیں اس کے علاوہ حکومت پاکستان بھی کمپنی میں 24.36 فیصد کی شراکت دار ہے۔
کے الیکٹرک کے سابق چیف آپریٹنگ افسر اکرام سہگل کہتے ہیں کہ کے الیکٹرک کا نظام بہت پرانا ہے جب بھی گرمی آتی ہے تو وہ نظام ہیٹ ویو سے متاثر ہوتا ہے لہٰذا نہ تو پیدوار میں اور نہ ہی فراہمی میں بریک ڈاؤن کا سامنا ہوتا ہے جب آپ سب سٹیشن سے آگے صارفین کو فراہمی کرتے ہیں تو وہاں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔‘
’اگر کوئی ادائیگی نہیں کر رہا ہے تو آپ اس کو بجلی کیوں دیں، کے الیٹرک کا یہ موقف درست ہے، پیدوار اور رسد مسئلہ نہیں لیکن اصل مسئلہ ہے جب آ گے تقیسم کرتے ہیں چوری تو ہوتی ہے لیکن سب سے زیادہ چوری زرعی شعبے میں ہوتی ہے ایسے بھی علاقے ہیں مثلا ایک علاقے کو آپ سو میگاواٹ دیتے ہیں لیکن آپ کو پندرہ میگاواٹ کے پیسے وصول ہوتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ بجلی کی پیدوار اور فراہمی میں پیسے تو لگتے ہیں نا۔‘
اکرام سہگل کا خیال کہ نجی پاور کمپنیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی وجہ ہے جو پیداوار نہیں کرتی ہیں، ان کمپنیوں کو کیپسٹی ٹیکس کا دیا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی حدکا تعین نہیں کیا اب ہوتا یہ ہے کہ انہیں زیادہ پیسے ملتے ہیں کہ وہ بجلی پیدا نہ کریں۔
’مثلا آپ ایک جنریٹر کے مالک ہیں آپ کو کیپسٹی ٹیکس دیا جائے گا اگر آپ بجلی پیدا نہ کریں لہٰذا آپ بجلی کی پیدوار کریں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو منافع ملے یا نہ ملے لیکن اگر آپ نہیں کرتے تو حکومت پاکستان آپ کو گھر بیٹھے پیسے دے گی۔‘
اکرام سہگل کے مطابق کے الیکٹرک کے پاس مطلوبہ بجلی دستیاب نہیں وہ مزید بجلی خرید کرتی ہے اور این ٹی ڈی سی انہیں بجلی فراہم کرتی ہے وہ پرائیوٹ پاور پروڈیوسر سے لیتے ہیں اب وہاں پر ان کے خاص لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بجلی موجود نہیں ہے ہمیں اس بجلی کو نارتھ بھیجنا ہے وہ نہ نارتھ جاتی ہے نہ ساؤتھ جاتی ہے وہ پیداور ہیں نہیں ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
گرمی کی شدت میں اضافہ
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں گرمی کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، اربن لیب کی سربراہ پروفیسر نوشین انور نے درجہ حرارت کی بدلتی صورتحال پر ایک تحقیق کی ہے، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ ساٹھ سال کا میٹرولوجیکل ڈیٹا جمع کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گرمیاں اپریل سے شروع ہو رہی ہیں لیکن رواں سال تو اپریل کے بجائے مارچ سے موسم گرما کا آغاز ہوگیا جو غیر متوقع تھا۔`
’گرمی میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی سامنے آگیا ہے کراچی الیکٹرک کی اپنی مشکلات ہیں، شہر کی آبادی کی اکثریت ورکنگ کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہے وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جو اپر مڈل کلاس لوگ ہیں وہ تو مراعات یافتہ طبقہ ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں جنریٹر چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔‘
پروفیسر نوشین کے مطابق جو غریب لوگ ہیں یا کم آمدنی والا طبقہ ہے اس کے پاس اگر بجلی نہیں ہے تو پانی کی دستیابی بھی نہیں ہوتی ہے جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے تو بجلی اور پانی کی فراہمی میں اور بھی مسائل سامنے آرہے ہیں اب ان کا جو اثر ہے وہ شدید گرمی کے ساتھ لوگوں کی زندگیوں سے جڑ گیا ہے اگر پانی بھی نہ آئے تو لوگ خود کو ٹھنڈا کیسے کریں گے نہائیں گے کیسے؟


























