مینا بلوچ: بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی کامیابی سمیت وہ عوامل جو انتہائی دلچسپ ہیں

ووٹر
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کئی دلچسپ اور خوشگوار خبریں سامنے آئیں جن میں سے ایک بلوچستان عوام پارٹی کی مینا بلوچ کا انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا شامل تھا۔

ان انتخابات میں عام نشستوں پر الیکشن لڑنے والے 17 ہزار سے زیادہ مرد امیدواروں کے درمیان مینا کی کامیابی یقیناً ایک انتہائی دلچسپ پیشرفت ہے۔

مینا کے مقابلے میں کسی مرد امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کروائے تھے اور یوں وہ بلامقابلہ منتخب ہوئیں۔

مینا بلوچ ایک سیاسی اور سماجی کارکن ہیں اور ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے دور دراز اور ایران کے قریب واقع مند نامی علاقے سے ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مینا کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے بلامقابلہ منتخب نہیں ہوئیں کہ وہ اپنے حلقے سے واحد امیدوار تھیں بلکہ ان کے مقابلے میں کسی مرد امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کروائے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ عام طور پر بعض علاقوں میں مرد حضرات اپنے خاندان کی خواتین کو خانہ پُری کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کہتے ہیں لیکن ان کے برعکس وہ اپنے حلقے کی یونین کونسل اور اس کے بعد ضلع کونسل کی چیئرپرسن شپ کے لیے بھی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان انتخابات کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ عام نشستوں پر مجموعی طور پر 132 خواتین میں سے سب سے زیادہ 22 خواتین امیدوار ضلع کوہلو سے میدان میں تھیں تاہم ان میں سے صرف تین کامیاب ہو سکیں، جن میں سے دو بلامقابلہ منتخب ہوئیں جبکہ ایک خاتون امیدوار صرف تین ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔

مینا بلوچ خواتین کی سیاست میں شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’خواتین ہماری آبادی کا پچاس فیصد ہیں لیکن ان کو آبادی کے تناسب سے جتنی اہمیت ملنی چاہیے تھی وہ ان کو نہیں دی جا رہی۔

’سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے کو دیکھیں تو خواتین کی شرکت اور نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنا مقام خود پیدا کریں۔‘

ماضی کے مقابلے میں زیادہ خواتین امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے تو یہ انتخابات دلچسپ تھے ہی لیکن اس مرتبہ پچھلے سال کے آخر میں قائم ہونے والی ’حق دو تحریک‘ کا گوادر میں قوم پرست جماعتوں پر حاوی رہنا بھی خاصا دلچسپ امر ہے۔

مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ان انتخابات میں سب سے زیادہ اکثریت آزاد امیدواروں نے حاصل کی جبکہ سیاسی جماعتوں میں پورے بلوچستان کی سطح پر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔

ان بلدیاتی انتخابات کے دیگر حیرت انگیز پہلوﺅں کا جائزہ لینے سے پہلے ان خواتین کا تذکرہ جو عام نشستوں پر مرد امیدواروں کے مقابلے پر اتریں۔

مینا بلوچ
،تصویر کا کیپشنمینا بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے دور دراز اور ایران کے قریب واقع مند نامی علاقے سے ہے

عام نشستوں پر کتنی خواتین مردوں کے مقابلے میں تھیں؟

بلوچستان کے 32 اضلاع میں مجموعی طور پر 6200 سے زائد عام نشستوں پر 17700 امیدوار میدان میں اترے جن میں سے خواتین صرف 132 تھیں۔

دس اضلاع میں عام نشستوں پر کوئی خاتون امیدوار نہیں تھی جبکہ سات اضلاع میں صرف ایک ایک امیدوار میدان میں تھیں۔ خواتین امیدواروں میں سب سے زیادہ ضلع کوہلو سے تھیں جن کی تعداد 22 تھی۔

کوہلو کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف پسماندہ ہیں بلکہ قبائلی رسم و رواج کی گرفت مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ شورش سے بھی زیادہ متاثر رہا ہے۔

دوسرے نمبر پر کیچ سے عام نشستوں پر خواتین امیدواروں کی تعداد 21 اور تیسرے نمبر پر جعفر آباد سے 13 تھی۔

الیکشن کمشنر بلوچستان فیاض حسین مراد نے عام نشستوں پر 132 امیدواروں کو ایک بڑی تعداد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ بلوچستان سے خواتین کی اتنی بڑی تعداد عام نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔

ریذیڈنٹ ڈائریکٹر عورت فاﺅنڈیشن بلوچستان علاﺅالدین خلجی کے مطابق اگرچہ خواتین کی یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی تاہم انھوں نے اسے ایک ’خوش آئند پیشرفت قرار دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے اور چند باہمت خواتین تھیں جنھوں نے عام نشستوں پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔‘

تاہم فری ایند فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے جنرل نشستوں پر خواتین کی بطور امیدوار تعداد کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مجموعی طور پر ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

تنظیم کے بلوچستان کے کنوینر حمید اللہ کاکڑ نے ایک پریس کانفرنس میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کے لیے اپنی ذیلی تنظیموں میں اصلاحات لائیں۔

ووٹر

عام نشستوں پر کتنی خواتین کامیاب ہوئیں؟

عورت فاﺅنڈیشن کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر علاﺅ الدین اچکزئی نے بتایا کہ ’غیر مصدقہ اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 132 خواتین میں سے عام نشستوں پر پانچ سے چھ خواتین کامیاب ہوئیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان میں سے بعض ایسے علاقوں سے کامیاب ہوئیں جہاں سے اس کی کوئی امید نہیں تھی۔‘

ضلع کوہلو کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’155 عام نشستوں پر تین خواتین کامیاب ہوئیں جن میں سے دو خواتین بلامقابلہ جبکہ ایک خاتون بی بی گلین تین ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔

ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کوہلو کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق بی بی گلین کوہلو کی یونین کونسل 22 کے وارڈ تین سے امیدوار تھیں جبکہ ان کے مقابلے پر عزا نامی ایک خاتون ہی امیدوار تھیں جن کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

علاﺅالدین خلجی نے بتایا کہ خاران سے جنت خاتون نامی ایک اور امیدوار نے 86 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ مند سے بلوچستان عوامی پارٹی کی مینا بلوچ بلامقابلہ کامیاب ہوئیں۔

گوادر میں آٹھ ماہ قبل وجود میں آنے والی ’حق دو تحریک‘ کی کامیابی

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے باعث بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ گوادر میں ہمیشہ سے بلوچ قوم پرست جماعتوں کی گرفت مضبوط رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں سے بلدیاتی اداروں اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پر قوم پرست جماعتوں کے امیدواروں کو زیادہ تر کامیابی ملتی رہی ہے لیکن حالیہ انتخابات میں قوم پرست جماعتوں سمیت دیگر سیاسی جماعتیں مل کر بھی حق دو تحریک سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر سکیں۔

بلدیاتی انتخابات میں حق دو تحریک کے مقابلے میں تین قوم پرستوں سمیت چار جماعتوں نے اتحاد کیا جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف) اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) شامل تھیں۔

حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق گوادر کی مجموعی 148 نشستوں سے حق دو تحریک کو 64 نشستیں ملیں جبکہ گوادر شہر میں میونسپیلٹی کی 38 نشستوں میں سے اسے 28 نشستیں ملیں۔

چندہ

بلوچستان کے سینیئر تجزیہ کار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ حق دو تحریک کے رہنما کو نہ صرف لب کشائی میں مہارت حاصل ہے بلکہ انھوں نے اس پر اثر انداز ہونے سے گوادر کے مسائل کو اجاگر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حق دو تحریک کے سربراہ کی اپنی صلاحیتوں کے علاوہ بعض دیگر عوامل بھی کار فرما ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں ایسے تجربات ہوتے رہے ہیں۔ جیسے چند سال پہلے بلوچستان عوامی پارٹی وجود میں آئی۔ ایک بڑے اور حساس علاقے میں خود کو منوانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔‘

انور ساجدی کا کہنا تھا کہ یہ ان کا اندازہ ہے کہ ’اگر حق دو تحریک کے سربراہ پنے مؤقف پر ڈٹے رہیں گے تو ہماری باتیں اور تجزیے غلط ہو سکتے ہیں۔‘

بلوچستان کے ایک اور سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ گوادر میں جے یو آئی (ف) کا اتنا اثر نہیں لیکن نیشنل پارٹی اور بی این پی کا اثر بہت زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیا وجہ ہے کہ اکٹھے ہو کر بھی یہ جماعتیں حق دو تحریک کو شکست نہیں دے سکیں، شاید ان سے کوتاہیاں ہوئی ہوں گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’گوادر میں ماہی گیروں کے مسائل تھے۔ لوگوں کو چیک پوسٹس سے مسائل تھے۔ سرحدی کاروبار کے حوالے سے بھی لوگوں کی مشکلات تھیں جن کو حق دو تحریک نے اٹھایا اور وہ عام لوگوں کی آواز بن گئی۔‘

ووٹر

ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا ہدایت الرحمان نے لوگوں کو امید دی اور انھیں کہا کہ وہ خود اپنے لیے کھڑے ہو جائیں اور پھر حق دو تحریک نے لوگوں کے مسائل کے لیے 30 سے 32 دن دھرنا دیا، شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے منظر بدل دیا۔‘

حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا کہنا ہے کہ ’حق دو تحریک نے لوگوں کی تکلیف اور دل کی بات کی اور اس تکلیف کو زبان دی جس کے باعث لوگوں نے ہمیں دل سے ووٹ دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا عمل اور کردار لوگوں کے سامنے تھا جبکہ حق دو تحریک کے مقابلے میں جو قوم پرست تھے، انھوں نے زبانی دعوے اور باتیں کیں اور ان کا عمل ان کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا بلکہ ان کے بقول وہ سودے بازی کرتے رہے۔‘

آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی

جن 32 اضلاع میں انتخابات ہوئے ان میں مجموعی طور پر 6200 سے زائد بلدیاتی نشستیں تھیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان میں سے 180 نشستیں خالی رہیں جبکہ 1981 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے۔

جن 4100 نشستوں پر انتخابات ہوئے ان پر غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے 1883 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ جو سیاسی جماعتیں تھیں ان میں سے انفرادی طور پر کوئی سیاسی جماعت اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

سینیئر تجزیہ کار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرانا طریقہ ہے جس کے تحت آزاد امیدواروں کو جتوایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے امیدوار یا جو چھوٹے گروہ ہوتے ہیں ان کے ذریعے سیاسی جماعتوں پر دباﺅ بڑھایا جاتا ہے اور ان کے ذریعے اپنی پسند کے لوگوں کو بلدیاتی اداروں میں لایا جاتا ہے۔‘

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ’پارٹیوں نے ان انتخابات میں کھل کر حصہ لیا لیکن ان کے مقابلے میں سب سے بڑی اکثریت آزاد امیدواروں کو ملی۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو کہ بڑی حد تک منظر نامے کو تبدیل کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر آزاد امیدوار اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ علاقائی سطح پر سیاسی جماعتوں سے اپنی شرائط منوا کر ان میں شامل ہوں گے یا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے گروپ بنوائیں گے۔‘

ووٹر

سیاسی جماعتوں میں جے یو آئی (ف) سب سے آگے

غیر سرکاری ا ور غیر حتمی نتائج کے مطابق 469 نشستوں کے ساتھ جے یو آئی (ف) نے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سبقت حاصل کی۔

حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو 303، نیشنل پارٹی کو 145، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو 139، پیپلز پارٹی کو 130، بلوچستان نیشنل پارٹی کو 102، تحریک انصاف کو 71، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کو 68، عوامی نیشنل پارٹی کو 43، نون لیگ کو 20، جمہوری وطن پارٹی کو 19، جماعت اسلامی کو 16 اور پی ایس پی کو پانچ نشستوں پر کامیابی ملی۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف بلوچستان بھر میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔

’اگرچہ جے یو آئی بلوچستان میں حزبِ اختلاف کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ پشتون علاقوں میں پشتونخوا میپ نے اچھا سکور کیا جبکہ اس کے مقابلے میں حکومت میں ہوتے ہوئے بھی عوامی نیشنل پارٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بلوچ آبادی والے اضلاع ہیں ان میں نیشنل پارٹی کی کارکردگی بہتر رہی جبکہ عام انتخابات کے مقابلے میں بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان نیشنل پارٹی کی نسبتاً کم نشستوں کی وجہ کیا؟

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے دیگر دو بڑی قوم پرست جماعتوں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں حاصل کیں جن میں بلوچستان اسمبلی کی دس اور قومی اسمبلی کی چار نشستیں شامل تھیں۔

دوسری جانب پشتونخوا میپ بلوچستان اسمبلی کی صرف ایک نشست حاصل کر سکی اور نیشنل پارٹی کو کوئی نشست نہیں ملی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں زیادہ نشستیں ملتیں لیکن اسے نسبتاً کم نشستیں ملیں۔

انور ساجدی کے مطابق بی این پی نے پہلے تحریک انصاف کا ساتھ دیا اور اب موجودہ حکومت کا حصہ بن گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’پارٹی نے مختلف معاملات پر مؤقف پیش کیا۔ پھر پارٹی کے قائدین بولتے بہت تھے لیکن نتائج اس طرح نہیں آتے تھے۔ شاید اس وجہ سے لوگوں کا اس پر زیادہ اعتماد نہیں رہا یا پھر وہ اس سے مایوس ہو گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قوم پرست جماعتیں مجموعی طور پر بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں جبکہ ان کے مقابلے میں جے یو آئی کو زیادہ نشستیں مل گئیں۔‘

شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ بی این پی کی کارکردگی بہت زیادہ اچھی نہیں رہی حالانکہ اس کے پاس دس ایم پی ایز، چار ایم این ایز اور سینیٹزز تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی این پی کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی میں نہیں تھا لیکن وہ اس سے آگے نکل گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’کیا پارٹی کے اراکین اسمبلی نے کام نہیں کیا یا پھر لوگوں نے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔‘

’پارٹی کی زیادہ نشستیں حاصل نہ کرنے کی یہ وجوہات ہو سکتی ہیں حالانکہ بی این پی نے چھ نکات دیے اور اس کے دباﺅ کے تحت پانچ، چھ سو لاپتا افراد بھی بازیاب ہوئے۔

تاہم پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی ثنا بلوچ نے پارٹی کی کم نشستیں حاصل کرنے کے تاثر کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماسوائے گوادر کے بی این پی نے باقی اضلاع میں اچھی خاصی نشستیں حاصل کیں جبکہ بعض حلقوں میں بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حمایت یافتہ امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کی نشستوں میں اچھا خاصا اضافہ ہو گا۔