ملتان سے کراچی جانے والی ٹرین میں مبینہ اجتماعی ریپ: ملزمان کا گرفتاری کے بعد ’اعتراف جرم‘، سائنسی بنیادوں پر تحقیق جاری

پاکستان ریلوے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان میں ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ ملتان سے کراچی سفر کرنے والی ایک خاتون سے چند روز قبل ٹرین میں مبینہ اجتماعی ریپ کے تین نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے ’اعتراف جرم‘ بھی کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ریپ کا مقدمہ کراچی سٹی ریلوے پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

آئی جی ریلویز فیصل شاکر نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’تحقیقات کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں تاہم ملزمان ابتدا میں گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ پنجاب پولیس اور دیگر اداروں سے تعاون کیا اور ہم نے ٹیلی فون ٹریکنگ سمیت مختلف تفتیشی حربے استعمال کیے جس کے نتیجے میں تینوں ملزمان گرفتار ہوئے۔ اب ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ملزمان ہوشیار تھے، ان میں نے دو نے فون بھی بند کر دیے تھے۔ اسی لیے انھیں ڈھونڈنے میں تھوڑی مشکل ہوئی۔‘

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ’یہ ٹرین ایک پرائیوٹ کمپنی کے زیر انتظام چلتی ہے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کیے گئے اور تفتیشی ٹیمیں بنائی گئیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی تفتیش میں ’ملزمان نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔‘

آئی جی ریلوے پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ’کمپنی بھی مجرمانہ غفلت کے تحت جوابدہ قرار دی جائے گی، کیونکہ کسی بھی نجی کمپنی کے لیے ملازمت دینے سے قبل لوگوں کا پس منظر جانچنا ضروری تھا۔‘

’بچوں سے ملاقات کے لیے سفر کر رہی تھی‘

ریپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ خاتون کے ساتھ عملے کے ارکان کے اجتماعی ریپ کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق واقعے میں ملوث کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خاتون کراچی کی رہائشی ہیں اور ان کی شادی مظفر گڑھ میں ہوئی تھی تاہم شادی کے بعد علیحدگی ہو چکی ہے۔ خاتون کراچی سے ملتان اپنے بچوں سے ملاقات کے لیے سفر کر رہی تھیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ’اپنے بچوں سے بھی ملاقات نہ ہو سکی تھی اور اوپر سے ظلم و زیادتی کا بھی نشانہ بن چکی ہوں۔‘

خاتون کے مطابق وہ خاوند سے علیحدگی کے بعد اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں اور مختلف چھوٹی موٹی مزدوریاں کر کے زندگی کی گزر بسر کر رہی ہیں۔

’میرے لیے اپنے بچوں سے ملنے کا سفر ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ میرے بچوں سے بھی ملاقات نہ ہو سکی اور ساتھ میں میرے ساتھ ظلم بھی کر دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ اب میرے ساتھ کیا ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ میں بدنام بھی ہو جاؤں اور میرے ساتھ انصاف بھی نہ ہو۔‘

مزید پڑھیے:

اس خاتون نے سٹی ریلوے پولیس سٹیشن کراچی میں درج مقدمے میں کہا ہے کہ 27 مئی کو وہ ملتان کے ریلوے سٹیشن پر کراچی جانے کے لیے پہنچی تھیں جہاں پر انھیں ٹکٹ نہ ملی مگر عملے نے انھیں بلا کر کہا کہ ٹرین میں سوار ہو جانا، راستے میں ٹکٹ بن جائے گئی۔

خاتون کے مطابق ٹرین چلی ہی تھی کہ ’ایک ٹکٹ چیکر میرے پاس آیا اور اس نے بارہ سو پچاس روپے طلب کیے جو میں نے ادا کر دیے۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور ٹکٹ چیکر آیا۔ اس نے از خود ہی کہا کہ میرے پاس برتھ نہیں ہے میرے ساتھ آؤ۔‘

خاتون کے مطابق ’وہ شخص مجھے اے سی بوگی میں بیٹھے ایک شخص کے پاس لے گیا جو کہ ان کا انچارج تھا جس نے کہا کہ اس خاتون کو اے سی کلاس میں جگہ دے دو۔ اس پر یہ دونوں آپس میں کوئی بات کرنے کے لیے چلے گئے۔ اس موقع پر انھوں نے اے سی کمپارٹمنٹ کو لاک کر دیا تھا۔ پھر میرے پاس آیا اور کہا کہ یہاں بیٹھنے کا ٹکٹ مہنگا ہے جس پر میں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور میں واپس اکنامی کلاس میں جاتی ہوں۔‘

خاتون کے مطابق اس پر وہ شخص مشتعل ہو گیا اور ’اس نے مجھے تھپڑا مارا اور جان سے مارنے کا خوف دلا کر میرے ساتھ زیادتی کی۔‘ انھوں نے کہا کہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد دوسرا شخص بھی اندر آیا اور اس نے بھی میرے ساتھ زیادتی کی۔ اس کے بعد ایک تیسرا شخص اندر آیا اس نے بھی زیادتی کی۔‘

خاتون کے مطابق ’اس وقت تین سکیورٹی گارڈ جن کے نام میں نہیں جانتی کو ساری تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا ہم ان کی شکایت ملتان آفس میں کریں گے جس پر میں اکنامی کلاس میں آ کر بیٹھ گئی۔‘

خاتون کے مطابق مورخہ 28 مئی کو وہ کراچی سٹی سٹیشن پلیٹ فارم پر پریشانی کے عالم میں موجود تھی جہاں پر پولیس ملازمین آئے اور ’مجھے ہیلپ سینٹر لے گئے جہاں پر میں نے اپنی بدنامی کے ڈر سے کسی کو کچھ نہ بتایا۔ انھوں نے میری بہن کو فون کر کے بلایا جو مجھے اپنے ساتھ لے گئی۔‘

’دوسرے روز ریلوے پولیس اور لیڈیر پولیس اہلکار میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ واقعے کے بارے میں بیان دوں۔ جس پر میں نے ہیلپ سنٹر میں لیڈیز پولیس اور ایس ایچ او کو واقعہ کے بارے میں بتایا۔‘

ریلوے حکام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ واقعہ زکریا ایکسپریس پر پیش آیا اور یہ گاڑی پرائیویٹ مینجمنٹ کے تحت چلائی جا رہی ہے۔

کراچی کی رہائشی خاتون کے ساتھ عملے کے تین ارکان نے ان سے ’بد اخلاقی‘ کی۔

پاکستان ریلوے کے مطابق جب ٹرین کراچی سٹی سٹیشن پر پہنچی تو اس کو لینے کوئی نہ پہنچا تو خاتون پلیٹ فارم پر بنچ پر بیٹھ گئیں۔

سٹی سٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود ریلوے پولیس اہلکار نے ان سے کسی بھی مسئلے اور مدد کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ریلوے پولیس اہلکار سے کسی واقعے کے بارے میں پہلے کچھ ذکر نہیں کیا۔

پاکستان ریلوے کے مطابق جب خاتون کچھ دیر تک مزید وہیں بیٹھی رہیں تو ریلوے لیڈی پولیس انھیں پولیس سٹیشن ہیلپ سنٹر لے آئیں اور وہاں امدادی مرکز کے اہلکار نے ان کی بہن سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی جو اپنے شوہر کے ساتھ تھانے پہنچیں جس کے بعد خاتون ان کے ساتھ چلی گئیں۔

پاکستان ریلوے کی مطابق اس موقعے پرخاتون نے کسی طرح کا کوئی واقعہ نہ تو رپورٹ کیا نہ ہی قانونی کارروائی کی درخواست کی۔

بعد ازاں ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے پر ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ کراچی نے خاتون سے رابطہ کر کے انھیں معاملہ رپورٹ کرنے کی درخواست کی اور اس کے بعد خاتون نے بیان ریکارڈ کرایا گیا۔

پاکستان ریلوے کے مطابق عملے کے ارکان پرائیویٹ شعبے سے ہیں اور ریلوے پولیس نے ایکشن لے لیا ہے۔

سٹی ریلوے پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسیر انسپکٹر حبیب اللہ خٹک کے مطابق خاتون کا طبعی معائنہ کروا لیا گیا ہے جس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اور ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔