ہفتے کی چھٹی ختم: ایک اتوار کے دن ہم گھر کے کام کریں یا آرام کریں؟

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
’اب ہفتے کی چھٹی ختم ہونے کے بعد بس ایک اتوار ہے اس میں ہم گھر کے کام کریں یا آرام کریں بتائیے کیا کریں۔‘
یہ کہنا ہے فرحت کا جو خود ایک سکول ٹیچر ہیں اور ان کے شوہر نعمان ایک بینکر ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں فرحت نے کہا کہ `ایک ہفتے کا دن ہوتا ہے جس میں فیملی ٹائم ہوتا ہے بچوں کے ساتھ والد بھی بیٹھ سکتے ہیں وقت گزار سکتے ہیں کہیں آؤٹنگ پر جا سکتے ہیں مگر اب یہ ممکن نہیں رہا اب بچے والد کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور ہم میاں بیوی کو تو کام کے حوالے سے وقت کی قلت کی وجہ سے اب اکثر فون پر ایک دوسرے سے بات کرنی پڑتی ہے۔'
گھڑی پر شام کے پانچ بجنے کو ہیں روزہ افطار ہونے سے پہلے آج نعمان گھر پہنچے تو بچے ان کے منتظر تھے۔
نعمان خان نے بتایا کہ سنیچر کے دن بھی کام کرنے کی وجہ سے سٹریس لیول بڑھ گیا ہے اس خبر کی وجہ سے ہم ڈپریشن کا شکار ہوئے۔
’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ کارکردگی کا معیار بھی کم ہو گیا ہے پہلے پتہ ہوتا تھا کہ دو دن ہیں گھر کے کام ذاتی کام مکمل ہو جائیں گے لیکن اب ایسا کہ ہر چیز کا دباؤ اکھٹا ہو رہا ہے۔'
خیال رہے کہ بظاہر کام کام اور کام پر یقین رکھنے والے پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد اعلان کیا کہ اب ہفتے میں پانچ نہیں چھ دن کام کرنا ہو گا۔
سرکاری اداروں سمیت پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کئی جگہوں پر یہ فیصلہ نافد ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم روبوٹ بن گئے ہیں'
یہ کب تک رہے گا کچھ معلوم نہیں لیکن حکومت کے اس فیصلے پر ہمیں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔
اسلام آباد کے ڈی چوک میں جمعے کے روز مختلف بینکوں میں کام کرنے والے لوگ اکھٹے ہوئے اور احتجاج کیا اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل میں بھی ہمیں احتجاج کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے چاہے وہ میمز ہوں یا پھر کمنٹس۔
ڈی چوک میں موجود چند مظاہرین سے بات کی تو ان افراد نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ سنیچر کی چھٹی بحال کریں۔
ایک خاتون نے کہا کہ ’ہم روبوٹ بن گئے ہیں یہ بہت مشکل ہے ہم انسان نہیں رہے اس طرح تو ہم ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہو جائیں گے۔‘
ایک شخص نے سابق حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ’برداشت کی قوتیں ختم ہو گئی ہیں گھر کے بجٹ درہم برہم عمران خان نے کیے اوپر سے آپ نے (وزیراعظم) نے یہ ظلم ڈھایا ہے۔‘

پاکستان میں کب کب ہفتے بھر میں چھٹیوں کا شیڈیول بدلا
قائد اعظم نے تو کہا تھا ’کام کام اور صرف کام‘ لیکن پاکستان کی 75 سالہ ہسٹری میں کئی بار یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کتنے دن اور کس دن کام کرنا ہے۔
ایک وقت تھا جب لوگ ہفتے میں چھ دن کام کرتے تھے۔ 70 کی دہائی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں جب لیبر لاز بنے اور ورکرز کو حقوق دیے گئے تب بھی چھ دن کام کا فیصلہ ہوا تھا لیکن اُسی زمانے میں چھٹی کا دن اتوار کے بجائے جمعے کو کردیا گیا۔
بینکس اور مالیاتی اداروں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جمعے کی چھٹی کی وجہ سے ملک تین دن کے لیے دنیا سے کٹ جاتا ہے۔
پھر نوے کی دہائی میں نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو انھوں نے مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باوجود چھٹی کا دن جمعے سے بدل کر اتوار کو کر دیا۔
اُن کے جانے کے بعد جنرل مشرف نے سوچا چھ دن بہت زیادہ ہیں اس لیے عوام پانچ دن کام کرے اور دو دن چھٹی اور اس طرح بجلی وغیرہ بھی بچے گی۔
بار بار تبدیلی کے اس گیم میں اب نئے وزیراعظم شہباز شریف نے حکم دیا ہے کہ پانچ نہیں چھ دن کام کرو جس پر مختلف شہروں میں احتجاج ہوا، لیکن اکثر لوگ کہنے لگے ہیں کہ پاکستان میں ٹھیک سے کام کرنے کے بجائے بس کام چلانے پر توجہ دی جاتی ہے۔
کیا واقعی ایسا ہے؟
عام شہریوں کی رائے جاننے کے لیے ہم نے ڈی چوک کے احتجاج سے نکل کر مارکیٹ کا رخ کیا۔ یہ تو احتجاج کرنے والوں کی رائے ہے لیکن عام پبلک کیا سوچ رہی ہے یہ جاننے کے لیے ہم نے مارکیٹ کا رخ کیا۔ یہاں ہماری ملاقات مختلف افراد سے ہوئی۔
ایک خاتون نے کہا کہ ’میرے خیال سے ہمارے ملک کو اس وقت ضرورت ہے کام کریں مرد گھر میں بیٹھ کر بور ہو جائیں گے انھیں دفتر جانا چاہیے۔'
لیکن دوسرا نظریہ یہ ہے فیملی کے لیے دو چھٹیاں ضروری ہیں۔
ایک شہری نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں نجی کمپنی میں کام کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ کام کرنا ہے تو آپ پانچ دن میں کر سکتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس سے کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔‘
جب کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ دفتر میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کام پر توجہ مرکورز ہو تو پانچ دن بہت ہوتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ سنیچر کی چھٹی ختم تو کر دی گئی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سنیچر کے دن دفتروں میں سست روی ہوتی ہے کام میں بھی اور کام کرنے والوں میں بھی۔
ایک صارف نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ’ لوگ ویسے گھر میں نماز نہ بھی پڑھتے ہوں دفتر میں کام سے بریک کے وہ نماز ضرور پڑھتے ہیں۔‘
ورک ویک کتنا لمبا ہو؟
ورک ویک یعنی ہفتے بھر میں کتنے دن کام کیا جانا چاہیے یہ کوئی نئی بحث نہیں ہے۔
کورونا کی وبا کے دوران سے ایک بار پھر ہفتے میں چار دن کام کے بارے میں بحث ہورہی ہے۔ اب تک ہونے والے تجربات میں کام کرنے والوں کے کام میں توازن میں بہتری ہوئی ہے اور اس سے مالکان کو بھی کوئی مالی نقصان نہیں ہوا۔
ایک ریسرچ کے مطابق اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اس کے نہ صرف کام کرنے والوں پر اچھے اثرات ہوئے ہیں بلکہ کام کا ماحول بھی اچھا ہوا ہے۔ لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ ورکرز اپنی کمپنی سے دور ہو جاتے ہیں۔
نیوزی لینڈ، جاپان اور کئی یورپی ملکوں نے ایسے تجربات کیے ہیں اور برطانیہ میں 60 سے زیادہ فرمز جولائی سے 'فور ڈے ویک' کا تجربہ کریں گی۔ امریکہ میں بھی 40 کے بجائے 32 گھنٹے کام کرنے کا بل پیش کیا گیا ہے۔
اب یہاں ایک سادہ سا سوال بنتا ہے کہ پاکستان کی حکومت آخر کیا سوچ رہی تھی جب اُس نے یہ فیصلہ کیا تھا؟
اس حوالے سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حکمراں اتحاد میں شامل مسلم لیگ ن کی رہنما فاطمہ زہرہ نے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو ہمارے حالات ہو گئے ہیں ان میں اپ نے دیکھا ہو گا کہ خط غربت کہاں تک جا پہنچی ہے ہمارا جی ڈی پی کا کیا حال ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سب کو مل کر ملک کے لیے کام کرنا ہو گا یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف وزیراعظم کا کابینہ کام کرتی رہے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ ایک دفعہ معیشت درست ڈگر پر آ جائے تو پھر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں چھٹیوں کا کیا حساب کیا جائے۔‘
لیکن کیا زیادہ دن کام کرنے سے واقعی ملکی معیشت کو کوئی فائدہ بھی ہو گا؟
معاشی امور کے ماہر عمار حبیب کہتے ہیں کہ ہفتے میں پانچ کے بجائے چھ دن کام کرنے سے ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے پیٹرول اور بجلی زیادہ استعمال ہو گی اور یہ ہمیں زیادہ امپورٹ کرنی پڑے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں بہت سی ایسی سٹڈیز ہیں جن میں یہ سامنے آ چکا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں کام کے اوقات اور دن بڑھانے سے اضافہ نہیں ہوتا جبکہ دوسری جانب مالی اعتبار سے ملک کے کرنٹ خسارے پر بھی اثر پڑتا ہے جو ہمارا پہلے ہی خسارہ چل رہا ہے۔
پاکستان کی نئی حکومت اس فیصلے کا دفاع کر رہی ہے لیکن باقی دنیا میں ہونے والے تجربات اور عوام کے ردعمل اور معیشت پر اس فیصلے سے پڑنے والے بوجھ سے لگتا ہے کہ شاید حکومت طویل عرصے تک اس فیصلے کو لاگو نہ کر پائے۔
یہ بھر پڑھیے
سوشل میڈیا رد عمل
کوئی بھی موضوع ہو اور سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی میمز بنانے کی حس نہ جاگے یہ کیسے ممکن ہے۔ یہاں سنچر کی چھٹی ختم ہونے کا اعلان ہوا وہاں میمز کا بازار گرم ہو گیا۔
کچھ صارفین بینک ملازمین کی حالت زار بیان کرتے نظر آئے۔

کچھ صارفین کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف ملازمین کی پیدواری صلاحیت میں فرق پڑے گا بلکہ اس سے تنخواہ کی رقم مزید ایندھن میں خرچ ہو جائے گی اور گھریلو اخراجات کے لیے رقم کم رہ جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ صارفین کا خیال ہے کہ سنیچر کو لوگ دفتر آ تو جائیں گے لیکن دفاتر میں ماحول سوئے ہوئے محل جیسا ہی لگے گا۔
کچھ لوگوں کے خیال میں اب وزیر اعظم کو نئی کرسیاں متعارف کروانی پڑیں گی۔

























