ناظم جوکھیو قتل کیس: پولیس کی جانب سے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کے نام خارج کرنے کی سفارش

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سندھ پولیس نے کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کو بتایا ہے کہ ناظم جوکھیو کے قتل کیس میں رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم، رکن صوبائی اسمبلی جام اویس گہرام سمیت 13 ملزمان کے نام شہادت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر خارج کر دیے جائیں۔
یہ چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج کے پاس مقدمے کے تفتیش افسر سراج لاشاری کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سراج لاشاری کو 14 اپریل کی صبح پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کہا کہ شہادت کی عدم دستیابی پر کالم ٹو میں یہ نام شامل کیے گئے ہیں اور اب یہ عدالت کی صوابدید پر ہے کہ انھیں شامل رکھتی ہے یا خارج کردیتی ہے۔
ناظم جوکھیو کے ورثا نے جو حلف نامے دیے ہیں اور جو نئی پیش رفت ہوئی ہوئی ہے اس کے مطابق ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے ملزمان کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پولیس کے حتمی چالان میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مقدمے میں ایک ملزم نیاز سالار کو مفرور قرار دیا گیا ہے جبکہ دو ملزمان حیدر علی اور میر علی پولیس کی حراست میں ہیں۔
اس چالان کے ہمراہ مقتول کی پوست مارٹم رپورٹ، پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ، سی سی ٹی وی کیمرے، ریکارڈنگ کا ڈی وی آر، مقتول کا جلا ہوا موبائل فون اور دیگر اشیا کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے، جو پولیس نے تفتیش کے دوران برآمد کی ہیں۔
رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم، رکن صوبائی اسمبلی جام اویس گہرام سمیت جن 13 ملزمان کے نام خارج کیے گئے ہیں ان میں محمد سلیم، محمد دودا خان، محمد سومار، عبد الرزاق، جمال ، محمد معراج ، محمد خان، محمد اسحاق، احمد خان، عطا محمد اور محمد زاہد شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
ناظم جوکھیو کی ہلاکت کیسے ہوئی؟
نوجوان ناظم جوکھیو کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ ناظم نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کے شکار سے روکا تھا اور ان کی ویڈیو بنائی تھی جس کے بعد انھیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔
ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم الدین کے بھائی افضل احمد جوکھیو نے گذشتہ برس ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ سالار گوٹھ ضلع ملیر کے رہائشی ہیں اور کچھ غیر ملکی شہری تلور کے شکار کے سلسلے میں ان کے گاؤں آئے تھے جس پر انھوں نے اور ان کے بھائی ناظم نے ان غیر ملکی شہریوں کو گاؤں میں شکار کرنے سے روکا اور ان کی ویڈیو بنائی جس کے بعد وہ غیر ملکی وہاں سے چلے گئے۔
درخواست گزار نے پولیس ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ رات کو گیارہ بجے انھیں اور ان کے بھائی ناظم کو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس عرف گہرام نے طلب کیا اور جب وہ وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے بھائی پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے اسے ہلاک کر دیا۔
ایف آئی آر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر یونس بٹ نے کہا تھا کہ انھیں معراج نامی شخص نے ٹیلیفون پر اطلاع دی تھی کہ جام گوٹھ میں جام ہاؤس کے باہر ایک تشدد زدہ لاش موجود ہے جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے شکاری
ناظم جوکھیو قتل کیس کے تفتیشی افسر نے چالان میں بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد ہر سال اپنے ساتھیوں کے ساتھ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں شکار کے لیے آتے ہیں۔ انھیں حکومت پاکستان کی اجازت حاصل ہوتی ہے اور وہ سالانہ فیس بھی ادا کرتے ہیں۔
ان غیر ملکیوں نے جنگ شاہی ضلع ٹھٹھہ میں ایک کیمپ بھی تعمیر کروا رکھا ہے جہاں وہ شکار کے دنوں میں قیام کرتے ہیں۔ چالان کے مطابق مقامی افراد کو اس کیمپ کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت پر رکھا گیا ہے جنھیں معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق یو اے ای سے آنے والے افراد کے جام عبدالکریم اور جام اویس عرف گہرام کے ساتھ بھی مراسم ہیں کیوں کہ شکار کے لیے قائم کیمپ ان کے زیر اثر علاقے میں ہے۔
تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر کے آخر میں متحدہ عرب امارات سے کچھ افراد شکار کے لیے مذکورہ کیمپ میں آئے ہوئے تھے۔























