ریکوڈک منصوبہ: بیرک گولڈ کا پاکستان سے معاہدہ، جرمانے کی تلافی اور منصوبہ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت اور بیرک گولڈ کارپوریشن نامی کمپنی کے درمیان ضلع چاغی میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے پراجیکٹ ریکوڈک پر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اتوار کو پاکستان کے وزیِر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈین کمپنی نے 11 ارب ڈالر کے جرمانے کی تلافی کے ساتھ ساتھ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سرمایہ کاری سے بلوچستان میں ملازمتوں کے آٹھ ہزار مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کو بے پناہ فوائد ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے سے انکم فلو 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹیکسوں کی مد میں بے پناہ ریونیو حاصل ہو گا۔
سرمایہ کاری کی رقم کے حوالے سے بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں آٹھ ارب کی رقم لکھی گئی ہے جبکہ بیرک گولڈ نے سرمایہ کاری اور جرمانے کی رقم کے بارے میں اپنے اعلامیے میں تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم یہ کہا ہے کہ جرمانے کی تلافی اس صورت میں کی جائے گی جب تمام شرائط کو پورا کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق اس منصوبے میں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا حصہ 50 فیصد ہو گا جبکہ بلوچستان کی حکومت کو اس منصوبے کا 25 فیصد ملے گا اور 25 فیصد وفاق کے پاس جائے گا۔ جبکہ بیرک گولڈ کمپنی نے اپنے اعلامیہ میں بھی کہا ہے کہ اس منصوبے کا 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ اور 50 فیصد پاکستانی حکومت کے پاس ہو گا، جس میں 25 فیصد حکومت بلوچستان اور 25 فیصد وفاق کو ملے گا۔
بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں ریکوڈک پراجیکٹ پر تنازع کے باعث گذشتہ کئی سال سے کام بند تھا۔
اس تنازعے کے باعث غیر ملکی ٹھیتیان کاپر کمپنی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے ایک نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور پاکستان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے مطابق حکومت بلوچستان کو مقدمہ بازی پر مجموعی طور پر سات ارب روپے سے زائد کے اخراجات اٹھانے پڑے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری حکام کے مطابق حکومت نے ٹھیتیان کاپر کمپنی میں دونوں شیئر ہولڈرز سے مذاکرات کیے تھے جن میں سے کینیڈا کے ’بیرک گولڈ‘ نامی کمپنی نے منصوبے پر دوبارہ کام کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔
حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اس منصوبے سے بلوچستان کو مجموعی طور پر 33 فیصد مالی فوائد حاصل ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان کے وزیراعظم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں قوم اور بلوچستان کے عوام کو اس معاہدے پر مبارکباد پیش کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’دس سالہ قانونی جنگ اور مذاکرات کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ تقریباً 11 ارب کے جرمانے کی تلافی ہوئی ہے اور بلوچستان میں 10 ارب کی سرمایہ کاری ہو گی، آٹھ ہزار نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔‘
’ریکوڈک پر کام منصوبے کے مطابق چلتا رہا تو اس سے پانچ، چھ سالوں میں پیداوار آنی شروع ہو گی‘
بیرک گولڈ کی جانب سے اس حوالے سے جاری اعلامیے میں معاہدے کی مزید تفصیلات لکھی گئی ہیں۔ بیرک گولڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو نے تمام فریقین کو اس معاہدے تک پہنچنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ اگر کام منصوبے کے مطابق چلتا رہا، تو منصوبے سے پیداوار پانچ سے چھ سالوں میں آنا شروع ہو جائے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیرک گولڈ اس منصوبے میں آپریٹر کا کردار ادا کرے گا اور اسے اس حوالے سے کان کنی کے لیے لیز دی گئی ہے اوردیگر لائسنس اور حقوق بھی دیے گئے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اس منصوبے میں بعد میں جتنے بھی معاہدے کیے جائیں گے ان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے علاوہ سپریم کورٹ کو شامل کیا جائے گا۔
اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس معاہدے کے حوالے سے تمام شرائط کو پورا کیا گیا تو ہم اس سے متعلق جرمانے کی تلافی کریں گے۔
’اگر ہم نے کوئی کوتاہی کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی‘
حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کابینہ کے خصوصی اجلاس نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدے کی منظوری دی۔
اتوار کو سیکریٹری محکمہ معدنیات و معدنی ترقی کی جانب سے کابینہ کو معاہدے کی تفصیلات سے متعلق بریفنگ دی گئی اور ریکوڈک منصوبے سے بلوچستان کو حاصل مالی فوائد سے آگاہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ ’معاہدے میں بلوچستان کے تمام ٹیکسوں، رائلٹی اور سی ایس آر کا تحفظ کیا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں علاقے کی ترقی کا خصوصی پیکج بھی شامل کروایا گیا ہے جبکہ منصوبے سے روزگا کے آٹھ ہزار مواقع دستیاب ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ 'پراجیکٹ کمپنی ریکوڈک منصوبے پر آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ منصوبے پر تمام صوبائی ٹیکس لاگو ہوں گے۔‘
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم نے ٹھوس موقف اپناتے ہوئے کوئی پیسہ خرچ کیے بغیر بلوچستان کے لیے 25 فیصد حصہ لینے میں کامیابی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پوری طرح آگاہ ہے کہ ریکوڈک ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل ہے۔ اگر ہم نے کوئی کوتائی کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’ہم وزیراعظم ،آرمی چیف اور وفاقی وزیر خزانہ کے مشکور ہیں کہ جنھوں نے ہمارے موقف اور شرائط سے اتفاق کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ریکوڈک معاہدے کی حتمی منظوری اور کام کے آغاز سے پاکستان اور بلوچستان پر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد مستحکم ہو گا اور وہ بلوچستان کی جانب راغب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے نوجوانوں کو ہمیشہ سے احساس محرومی کے نعرے پر اکسایا جاتا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے عوامی خواہشات کے مطابق ایک قابل عمل معاہدے کو یقینی بنایا۔‘
انھوں نے کہا کہ تنازعے کے شکار اس منصوبے کو دوبارہ سے صحیح سمت میں ڈالنے والے تمام ادارے قابل ستائش ہیں اور ہم بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ بلوچستان میں ایک ذمہ دار حکومت ہے جو بلوچستان کے وسائل کو دنیا کے سامنے کھول رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟
ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔
ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔
’دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک‘
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل انداز میں کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے ناصرف چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا بلکہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ثالثی کے دو بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی ہوئے ہیں۔
گذشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
ریکوڈک کی مقدمہ بازی پر اب تک کتنے اخراجات ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہThinkstock
سنہ 2013 میں جب ریکوڈک پر کام کرنے والی کمپنی ٹھیتیان کاپر کمپنی کو مائننگ کا لائسنس نہیں دیا گیا تو کمپنی نے اس کے خلاف سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے والے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔
ان میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپویٹس (ایکسڈ) کا تھا۔
محکمہ معدنیات حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سات سال کے دوران ان فورمز پر مقدمہ بازی پر مجموعی طور پانچ ارب، 33 کروڑ 80 لاکھ آٹھ ہزار دو سو دو روپے کے اخراجات ہو چکے ہیں۔
ان اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
- 2013 سے 2014 کے دوران 48 کروڑ 11 لاکھ 54 ہزار روپے ادا کیے گئے
- 2014 سے 2015 کے دوران ایک ارب سات کروڑ 30 لاکھ روپے
- 2016 میں 23 کروڑ 84 لاکھ چار ہزار دو سو روپے
- 2017 میں 61 کروڑ، 2017 سے 2018 کے دوران 82 کروڑ 89 لاکھ روپے
- 2018 میں مزید 52 کروڑ روپے
- 2019-2020 میں ایک ارب چھ کروڑ 42 لاکھ 50 ہزار روپے
- 2020 سے اب تک 52 کروڑ 50 لاکھ روپے
ریکوڈک کے کیس سے وابستہ ایک سابق سرکاری اہلکار نے بتایا کہ جہاں اس رقم کا بڑا حصہ وکیلوں کی فیسوں پر صرف ہوا وہاں ان فورمز پر سماعت کے سلسلے حکومتی اور سرکاری اہلکاروں کے دوروں پر ہونے والے اخراجات بھی ان میں شامل ہیں۔
ان کیسوں میں برطانیہ کی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ چیری بلیئر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریکوڈک پر کام کب شروع ہوا اور یہ کب ایک کمپنی سے دوسری کو منتقل ہوا؟
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے سنہ 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔
یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔
چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کر کے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔
منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی) کو فروخت کیے۔
نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی سی سی اور حکومت بلوچستان کے درمیان تنازع کب پیدا ہوا؟
ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔
اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کے لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔
اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔
حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔
سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔
کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر 2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔
























