اقرا نذیر: اسلام آباد میں پولیس کانسٹیبل کی پُراسرار موت کے بعد ابتدائی تحقیقات میں ایس پی عارف شاہ کی معطلی کی سفارش

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

،تصویر کا کیپشنکانسٹیبل اقرا
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد میں پولیس کی چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے کانسٹیبل اقرا نذیر کی پراسرار ہلاکت کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں درج کر لی گئی ہے۔

آئی جی اسلام آباد کی طرف سے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی آپریشنز ملک اویس احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ایس پی عارف شاہ کی معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اقرا نذیر کے والدین نے اس مقدمے کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد پولیس اب خود اس مقدمے میں مدعی بن گئی ہے اور نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ آبپارہ میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔‘

یہ ایف آئی آر اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کروائی گئی ہے جس میں تاحال کسی ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اقرا نذیر کو بیہوشی کی حالت میں 18 مارچ کو پولی کلینک ہسپتال لایا گیا تھا جس کے بعد دوران علاج ہی ان کی موت واقع ہوئی۔

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اقرا کی موت انتہائی پراسرار حالات میں ہوئی ہے، شبہ ہے کہ مذکوریہ کو کوئی زہریلی چیز کھلائی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔‘

ملک اویس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اقرا نذیر کا عارف شاہ کے گھر میں تواتر سے آنا جانا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ خاتون کانسٹیبل کا ایس پی عارف شاہ کے گھر والوں سے بھی میل جول رہتا تھا کیونکہ وہ ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم جس دن ان کی موت واقع ہوئی اس روز اقرا نذیر جب واپس آئیں تو عارف شاہ اپنے گھر میں اکیلے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ابھی یہ تحقیقات جاری ہیں کہ اقرا نے خود زہر کھایا یا انھیں یہ کھلایا گیا۔ ملک اویس کے مطابق ایس پی عارف شاہ سے تفتیش جاری ہے اور اگر ضرورت پڑی تو انھیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز ملک اویس کے مطابق ’پولیس ابھی کال ڈیٹا کا تجزیہ کر رہی ہے اور پولیس کو ابھی اقرا نذیر کی پیتھالوجی رپورٹ (کیمیکل سیمپل) کا بھی انتظار ہے، جس سے معلوم ہو سکے گا کہ اقرا نے کتنی مقدار میں زہر لیا اور موت سے کتنی دیر پہلے لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پیتھالوجی رپورٹ میں زہر کی نوعیت بھی پتا چل سکے گی اور یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ مقتولہ کے ساتھ ریپ تو نہیں ہوا۔

حال ہی میں کراچی یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے گریجویشن کرنے والی اقرا کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا جبکہ ان کے والدین کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ اقرا کی دو بڑی بہنیں اور ایک بھائی بھی کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ اقرا نے سنہ 2019 میں اسلام آباد پولیس میں ملازمت اختیار کی تھی۔

اقرا اسلام آباد میں اپنے ایک رشتہ دار ایس پی ٹریفک پولیس عارف شاہ کے گھر پر رہائش پذیر تھیں اور وہ ہی انھیں پولی کلینک ہسپتال لے کر گئے تھے، جہاں ایک گھنٹے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

پولی کلینک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کانسٹیبل اقرا کو جب جمعے کو ہسپتال لایا گیا تو ان کی حالت خاصی تشویشناک تھی کیونکہ انھوں نے پیسٹیسائیڈز (کیڑے مار دوا) کھا رکھی تھی۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد اقرا کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عارف شاہ کا مؤقف

عارف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کو وہ گھر پر ہی تھے جب اقرا گھر میں داخل ہوئیں۔ ان کے مطابق اقرا نے کہا کہ وہ پولیس ہیڈکوارٹر سے سپر مارکیٹ بینک تک آئی تھیں۔

عارف شاہ کے مطابق ابھی ان کی بات چیت چل ہی رہی تھی کہ اقرا کو قے آئی اور پھر دوبارہ ایسا ہونے پر وہ انھیں پولی کلینک ہسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹرز نے تقریباً پونے گھنٹے تک ان کی جان بچانے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق انھوں نے ہسپتال لے جانے سے پہلے اقرا کے والدین کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ عارف شاہ کے مطابق اقرا ہر بات ان سے شیئر کرتی تھیں مگر انھوں نے اپنی کسی پریشانی کا ذکر نہیں کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

عارف شاہ کے مطابق کچھ عرصے قبل اقرا کی ماں ذیابیطس کی وجہ سے خاصی بیمار پڑ گئیں تو انھوں نے اقرا کو دو ماہ کی چھٹی لے کر دی۔

ان کے مطابق اقرا نے اس عرصے میں اپنی ماں کی خدمت کی۔ ان کے مطابق جب اقرا واپس اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی تھیں تو ان کی ماں نے انھیں کہا کہ ’بیٹا استعفیٰ دے دو، ہمیں آپ کی نوکری کی ضرورت نہیں۔‘

عارف شاہ کے مطابق اقرا نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کچھ عرصے بعد یہ ملازمت چھوڑ دیں گی۔ ان کے مطابق اقرا ’سی ایس ایس‘ کی تیاری کر رہی تھیں۔

عارف شاہ کے مطابق اقرا ابھی گریجویشن کی طالبہ تھیں جب ان کی ایک دوست انھیں لے کر پولیس میں نوکری کا ٹیسٹ دینے گئیں۔ ان کے مطابق اقرا کی دوست نے انھیں بھی ٹیسٹ کے لیے راضی کر لیا۔ جب نتیجہ آیا تو جس دوست نے پولیس میں ملازمت کرنا تھی وہ فیل ہو گئیں جبکہ اقرا کو آفر لیٹر مل گیا۔

عارف شاہ کے مطابق ابھی پندرہ بیس دن قبل اقرا کا کراچی یونیورسٹی کا گریجویشن کا رزلٹ آیا، جس میں وہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوئیں۔