خواتین کے خلاف ہراسانی: ’انتظار کرو، میں آتی ہوں‘، خیبرپختونخوا میں نوعمر لڑکی کی فائرنگ سے لڑکا شدید زخمی

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک نوعمر لڑکی نے فائرنگ کر کے ایک 20 سالہ نوجوان کو زخمی کرنے کے بعد مقامی تھانے میں مضروب نوجوان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔
لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہے اور انھوں نے پولیس کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام ’اپنی عزت کی حفاظت‘ کی خاطر اور ’سیلف ڈیفنس‘ میں اٹھایا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل اس وقت پیش آیا جب لڑکی اپنے گھر کے باہر دیوار پر اوپلے لگا رہی تھی۔ اس دوران ایک 20 سالہ نوجوان وہاں آیا اور مبینہ طور پر لڑکی کو بعوض رقم جنسی تعلق قائم کرنے کی بات کی۔
ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ملزم اس سے قبل بھی یہ حرکت کر چکا تھا جس پر اسے لڑکی کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ کے روز جب لڑکے نے یہ حرکت دوبارہ کی، تو لڑکی نے کہا ’انتظار کرو، میں آتی ہوں۔‘ پولیس کے مطابق اس دوران لڑکی گھر سے اپنے بھائی کا پستول لائی اور لڑکے کی ٹانگوں پر فائر کر دیے جس سے لڑکا زخمی ہو گیا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لڑکا اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
لڑکی کے بھائی کے مطابق اُن کی نو بہنیں ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بہن نے اپنی عزت کی حفاظت کی خاطر یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔
مقامی پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے تمام شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے شخص کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق زخمی شخص نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وہ اپنے کھیتوں کی طرف جا رہا تھا جب اسے نامعلوم مقام سے آنے والی گولی لگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر لڑکی کی شکایت پر درج کی ہے جس میں تعزیرات پاکستان کے دفعات 354 ، 376، 511 لگائی گئی ہیں جبکہ اس میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں۔
لڑکی کے بھائی کے مطابق اُن کے والد مزدور تھے اور وہ (بھائی) خود بھی مستری کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکے نے پہلے بھی ان کی بہن کے ساتھ چھیڑ خانی کی تھی لیکن بہن نے گھر نہیں بتایا تھا۔ وقوعہ کے روز پھر جب لڑکا آیا تو بہن سے برداشت نہیں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ اُن کی بہن نے قران کی تعلیم حاصل کی ہے لیکن وہ سکول نہیں گئیں بس گھر کے کام کرتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مِخالفین کی جانب سے صلح کی کوششیں ہو رہی ہیں اور وہ بھی اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہتے کیونکہ مخالفین نے غلطی تسلیم کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں تعینات ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر زاہداللہ کے مطابق لڑکی نے فائرنگ اپنے دفاع میں کی اور پولیس کو بھی حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق سال 2020 میں 2960 بچوں اور بچیوں پر جنسی تشدد کیا گیا اور اوسطاً پاکستان میں روزانہ آٹھ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی بچوں پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، ان میں مردان میں معصوم بچی اسما کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا اور اسی طرے ضلع نوشہرہ میں نور کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اس معصوم بچی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ان دونوں واقعات میں ملزمان کو سیشن کورٹس سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں اور قانون سازی کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں لیکن اب تک ان واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
























