ضلع سوات کے ایک ہی گھر میں ساس، بہو اور کم سن بچی کے مبینہ قتل کا معمہ

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

’کمروں اور کچن میں خون زمین پر بکھرا پڑا تھا، ٹوٹے برتن اور ایک جگہ خون کے ساتھ انسانی سر کے کچھ حصے بھی تھے۔ جسم ثابت تھے ان پر کوئی تشدد یا خراش کے نشان نہیں تھے۔‘

یہ تصویر کشی کی پولیس انسپکٹر طارق خان نے جو سوات کے انتہائی پسماندہ اور دور دراز پہاڑ پر ایک مکان میں دو خواتین اور ایک بچی کے قتل کی ابتدائی تفتیش کے لیے پہنچے تھے۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل مٹہ کے ایک گاؤں اونڑ میں جمعرات کو ایک مکان سے ایک معمر خاتون اور جواں سال خاتون سمیت ایک بچی کی لاشیں ملی ہیں اور ان تینوں کے سروں پر شدید ضربیں آئی ہیں۔

پولیس کے مطابق اس مکان میں جھولے میں ایک بچی زندہ سلامت ملی ہے۔ مقامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جنگلی جانور گھر میں داخل ہوئے اور ان خواتین کو مار دیا لیکن انسپکٹر طارق خان نے ابتدائی تفتیش میں اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ یہ کام کسی جنگلی جانور کا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہمراہ ڈاکٹر اور وائلڈ لائف کے محکمے کے افسر گئے تھے اور سب نے کہا ہے کہ ’یہ قتل ہے، جنگلی جانور کا حملہ ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اب اس بارے میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوگا اور قاتلوں کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

انسپکٹر طارق خان نے بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہے کہ سر پر تیز دھار آلے یا بھاری چیز سے حملہ کیا گیا جس سے ان کی کھوپڑیاں پر شدید چوٹیں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے سروں پر شدید ضربیں آئیں لیکن جسم پر کوئی چوٹ یا زخم کے نشان نہیں ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق معمر خاتون کی عمر 80 برس، ان کی جواں سال بہو کی عمر 25 سے 27 سال جبکہ بچی کی عمر چھ سال بتائی گئی ہے۔

اس گھرانے کے مرد صوبہ پنجاب میں مزدوری کرتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد اس گھرانے کے افراد موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

انسپکٹر طارق خان نے بتایا کہ یہ لوگ انتہائی غریب ہیں۔ پولیس جب مکان میں داخل ہوئی اور مکان میں موجود چیزوں کا جائزہ لیا تو گھر میں آٹا یا گھی وغیر کچھ نہیں تھا۔

’چند برتن اور چٹائی اور ضرورت کا کچھ دیگر سامان تھا۔ کھانے پینے کی دیگر اشیا بھی گھر میں نہیں تھیں۔ موقع سے لی گئی تصاویر سے ایسا لگتا ہے کہ ایک قتل وہاں کیا گیا جہاں چائے کے برتن اور پیالیاں پڑی تھیں۔ یہاں سب سے زیادہ خون پڑا تھا۔ دوسرا قتل کچن میں جہاں تندور اور انگیٹھی لگی ہوئی تھی، وہاں قدرے کم خون نظر آیا جبکہ ایک قتل علیحدہ ہوا تھا، وہاں سب سے کم خون تھا۔‘

واضح رہے کہ یہ مکان پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے اور مٹہ تحصیل سے اس گاؤں تک پہنچنے کے لیے تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں اور یہاں گھنا جنگل ہے جبکہ مکان ایک دوسرے سے دور دور واقع ہیں۔

انسپکٹر طارق خان نے بتایا کہ ’اس علاقے میں جنگلی جانور ضرور ہیں لیکن یہ حملہ جنگلی جانوروں کا نہیں بلکہ یہ سراسر قتل ہے۔‘

خیبر پختونخوا میں سوات پولیس کے لیے یہ قتل چیلنج بن گئے ہیں اور تحقیقات مختلف زاویوں سے کرنی ہوگی۔ پولیس کے مطابق وہ اس کا باقاعدہ مقدمہ درج کر کے اس کی تفتیش شروع کریں گے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ لواحقین پوسٹ مارٹم کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے، اب اس تفتیش کے لیے وہ دائرہ وسیع کریں گے تاکہ اصل قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا یہ لوگ غریب ہیں اور بظاہر کوئی ایسے شواہد بھی نہیں ملے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی وغیرہ تھی۔