موٹروے پولیس اہلکار پر فوجی اہلکار کا مبینہ تشدد: ’فریقین میں تصفیہ ہو گیا ہے‘

موٹروے

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں موٹر وے ٹول پلازہ کے قریب موٹر وے پولیس اور فوجی افسر کے درمیان تنازع کے بعد سکیورٹی فورسز کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فریقین کے درمیان تھانہ چمکنی میں باہمی رضامندی سے تصفیہ ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ موٹروے پولیس کے ایک اہلکار نے پشاور کے تھانہ چمکنی میں درخواست دی تھی جس میں کہا گیا کہ پشاور ٹول پلازہ کے قریب اپنے آپ کو فوج کا کیپٹن ظاہر کرنے والے شخص کے ساتھیوں نے مار پیٹ کی اور کار سرکار میں مداخلت کی۔

یہ درخواست چند روز پہلے دائر کی گئی ہے جس میں مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس درخواست میں ان تمام افراد کے نام درج ہیں جن سے رابطہ کیا گیا اور جو لوگ گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے اور سکواڈ کے جن افسران نے موقع پر پہنچ کر حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے ۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب تک اس بارے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

’موٹر وے پولیس اہلکار کے رویے سے حالات خراب ہوئے‘

اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ چارسدہ میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد افسر پشاور واپس جا رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ چالان ہونے کے بعد افسر کی جانب سے رقم ادا کی جا رہی تھی لیکن حالات موٹر وے پولیس کے اہلکار کے رویے کی وجہ سے خراب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسر کے ساتھ ان کے اہلخانہ بھی موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر چار گاڑیاں تھیں اور یہ کہنا بلکل غلط ہو گا کہ کوئی گاڑی بعد میں موقع پر خصوصی طور پر بھیجی گئی۔

سیکیورٹی فورسز کے عہدیدار کے مطابق افسر کی گاڑی میں اسلحہ لائسنس یافتہ تھا۔

سیکیورٹی فورسز کے عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے اس واقعے کے بعد چمکنی تھانے میں فریقین کے درمیان رضامندی سے تصفیہ ہو چکا ہے۔

’موٹروے پولیس اہلکار کو لاتوں، گھونسوں سے مارا گیا‘

موٹر وے پولیس کے اہلکار نے تحریری درخواست میں تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او کو لکھا ہے کہ وہ موٹر وے پر پشاور ٹول پلازہ کے قریب ڈیوٹی پر موجود تھا کہ اس دوران ایک گاڑی آئی جس کا چالان کیا گیا۔

اس کے بعد ایک سفید گاڑی آئی جس کی سپیڈ 131 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور وائرلیس سیٹ پر اس گاڑی کے بارے میں بتایا گیا تھا ۔ اس گاڑی کو روکا اور اس کے ڈرائیور سے لائسنس طلب کیا گیا اور ڈرائیور کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا بتایا گیا اور اسے بتایا گیا کہ ان کا چالان ہوگا۔

گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ وہ فوج میں کیپٹن ہے۔ اس بارے میں پشاور میں ملٹری پولیس کے ہیڈکوارٹر فون پر معلومات حاصل کی گئیں جہاں سے جواب دیا گیا کہ وہ ’بعد میں بتاتے ہیں‘۔ اس کے بعد ایک فون آیا جس میں بتایا گیا کہ وہ کیپٹن بول رہے ہیں اور وہ خود موقع پر آ رہے ہیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ دو گاڑیوں میں آئے اور موٹروے پولیس کے ایک اہلکار کو لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کر دیا اور ایک ایس ایم جی رائفل کو لوڈ کرکے نشانہ باندھا لیکن اس دوران وہاں موجود سکواڈ کے افسران وہاں پہنچے اور حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ گاڑیوں میں آنے والے افراد کا تعلق پشاور کے حیات آباد کے علاقے سے بتایا گیا ہے ۔

افسران نے ان لوگوں کو گرفتار کیا اور حسب ضابطہ گاڑیوں کی تلاشی لی جن سے مختلف قسم کا اسلحہ برآمد ہوا جس میں پسٹل، رائفل اور کلاشنکوف شامل ہیں ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد ، کار سرکار میں مداخلت ، موٹر وے جیسی اہم شاہراہ کو بلاک کرنے ، پولیس پر رائفل سے نشانہ باندھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے جرائم میں ملوث ہیں۔ اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام صورتحال موٹر وے پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہیں اس لیے اس درخواست پر ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

اس بارے میں بی بی سی نے جب پشاور میں چکمنی تھانے سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ایسی درخواست موصول ہوئی ہے لیکن اب تک اس پر کوئی ایف آئی آر یا کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے اور اس کا حل نکالا جا رہا ہے تاکہ معاملہ سلجھایا جا سکے۔

موٹروے

،تصویر کا ذریعہA MAJEED

جب موٹر وے پولیس کے اہلکار سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سے بات نہیں کر سکتے اس کے لیے اعلی حکام سے رابطہ کیا جائے ۔ اس بارے میں موٹر وے پولیس کے انسپکٹر جنرل کو بھی پیغام بھیجا گیا ہے لیکن ان کا کوئی جواب اب تک موصول نہیں ہوا۔

موٹر وے ٹول پلازہ پر اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں ۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں تیز رفتار گاڑی کو اہلکار نے روکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی نے اہلکار کو کچل دیا تھا جس سے موٹر وے پولیس کا اہلکار شدید زخمی ہوگیا تھا اور بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا

موٹر وے پولیس ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لیے سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اوور سپیڈنگ پر جرمانوں کی تعداد میں اضافہ بتایا جا رہا ہے ۔