کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج: کوئٹہ میں ڈاکٹروں کے احتجاج پر آنے والے اسسٹنٹ کمشنر کو پولیس نے ڈاکٹر سمجھ کر گرفتار کرنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کے احتجاج کے دوران اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب پولیس نے کوئٹہ سٹی کے نئے اسسٹنٹ کمشنر محمد علی درانی کو پکڑ کر جیل کی وین میں لے جانے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کو ریڈ زون کی جانب جانے سے روکا جا رہا تھا اور ان پر لاٹھی چارج کے علاوہ ان کی پکڑ دھکڑ جاری تھی۔
اسی دوران بنائی گئی ایک ویڈیو میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر محمد علی درانی کو ان کے محافظ پولیس اہلکاروں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سول لائنز پولیس نے مجموعی طور پر 24 ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے اراکین کو گرفتار کیا ہے۔
بلوچستان میں نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج کر رہا ہے۔ ان کی جانب سے 12 جنوری بروز بدھ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس اعلان کے تحت نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس نے جب دوپہر کو سول ہسپتال سے وزیر اعلیٰ ہاﺅس کی جانب نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے پہلے ڈاکٹروں کو ہسپتال کے اندر ہی روکنے کی کوشش کی۔
تاہم نوجوان ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس ہسپتال سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن انسکمب روڈ پر سول ہسپتال کے آخری کونے پر پولیس کی بھاری نفری کھڑی تھی۔
جب نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس میں سے دس کے قریب پولیس کی حصار کی جانب بڑھے تو پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ارے یہ صاحب ہیں، یہ صاحب ہیں‘
زخمی ڈاکٹروں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم پولیس اہلکاروں نے یہاں ڈاکٹروں کی گرفتاری شروع کر دی اور ان کو ریڈ زون کی جانب نہیں جانے دیا۔
ان گرفتاریوں کی ایک ویڈیو میں یہ نظر آ رہا ہے کہ چند پولیس اہلکاروں نے کوئٹہ سٹی کے نئے اسسٹنٹ کمشنر کو ڈاکٹر سمجھ کر پکڑ لیا۔
انھیں پکڑنے کے بعد اس وین کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی جس میں گرفتار کیے جانے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو بند کیا گیا تھا۔
تاہم اس دوران اسسٹنٹ کمشنر کے محافظوں نے پولیس اہلکاروں کو روک لیا۔ ویڈیو میں اسسٹنٹ کمشنر کے محافظوں کو واضح طور پر یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ صاحب ہیں، یہ صاحب ہیں۔‘
اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی حیثیت سے محمد علی درانی کی تعیناتی چند روز قبل ہی ہوئی تھی۔ شاید انھیں بعض پولیس اہلکار پہچان نہیں سکے جس پر انھیں بھی ڈاکٹر سمجھ کر پکڑنے کی کوشش کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy YDA Balochistan
مجموعی طور پر کتنے پیرامیڈیکس اور ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا؟
سول لائنز پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مجموعی طور پر 24 نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے گرفتاری اور لاٹھی چارج کے بعد ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس پر بھی تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔
تاہم ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کی گرفتاری کے دوران ان پر نہ صرف لاٹھی چارج کیا گیا بلکہ ان کو گھسیٹا بھی گیا۔ پولیس کی بھاری نفری اور لاٹھی چارج کے بعد ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس ریڈ زون کی جانب نہیں جاسکے اور انسکمب روڈ پر احتجاج اور نعرے بازی کے بعد واپس سول ہسپتال پہنچے۔
انھوں نے پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف ہسپتال میں ایمرجنسی سروسز کو بھی بند کر دیا ہے۔
اس سے قبل بھی 19 ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو ریڈ زون میں دھرنا دینے پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے تاہم بعد میں ان کے خلاف حکومت نے مقدامات واپس لیکر ان کو رہا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
نوجوان ڈاکٹروں نے حالیہ احتجاج کیوں شروع کیا؟
ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو جو چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا گیا تھا وہ 24 نکات پر مشتمل ہے۔
ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن بلوچستان کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ارسلان کا کہنا ہے کہ ان 24 مطالبات میں سے دو تین کے سوا باقی تمام مطالبات مریضوں کی بھلائی کے لیے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے بتایا کہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے بلوچستان میں سرکاری ہسپتال کھنڈرات بنے ہوئے ہیں اور ان میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جب مریض ہسپتال آتے ہیں تو ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے پر وہ اپنا سارا غصہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے پر نکالتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہسپتالوں میں ادویات اور جدید مشینری کی موجودگی کو یقینی بنانا ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا کام نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ کام حکومت کا ہے لیکن چونکہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے سامنے ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ ہوتا ہے اس لیے انھیں لوگوں کے اشتعال اور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اگر حکومت سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنائے تو وہ اپنا احتجاج فوری طور پر ختم کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy YDA Balochistan
محکمہ صحت کے حکام کا کیا کہنا ہے؟
چاغی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر صحت سید احسان شاہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات جاری تھے اور کل ان کے ساتھ میٹنگ بھی رکھی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بدھ کے روز ریڈ زون میں احتجاج مناسب نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات مان لیے گئے تھے لیکن تنخواہ بڑھانے پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹروں کی تنخواہ اب بھی گریڈ 17 کے دیگر ملازمین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ وزیر صحت کے مطابق ڈاکٹروں کی تنخواہ بڑھانے سے سالانہ خزانے پر بہت بوجھ پڑے گا، ہمارے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے، لیکن درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ڈاکٹروں کے احتجاج سے مریض پریشان ہیں۔‘



























