کنٹونمنٹ علاقوں سے نجی تعلیمی اداروں کی منتقلی: سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈز کو سکول سیل کرنے سے روک دیا

    • مصنف, کاشان اکمل
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

’بچوں کا نئے سکولوں میں داخلہ، فیسیں، نئے یونیفارم، نئی کتابیں۔۔۔ یہ سب تو والدین شاید کر ہی لیں، مگر سکول بدلنے پر بچے جس ذہنی اذیت سے گزریں گے، اس کا کیا ہے؟‘

یہ کہنا ہے کراچی کے فیصل کنٹونمنٹ کی رہائشی جوریہ شاہ کا جو پاکستان کے 42 کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں نجی سکولوں کو سیل کرنے کی انتظامی کارروائیوں پر پریشان ہیں۔ اس انتظامی کارروائی کی بنیاد سپریم کورٹ کے تین برس قبل جاری ہونے والے ایک حکم نامے کو قرار دیا جا رہا ہے جس میں کینٹ کے علاقوں میں تمام کاروباری سرگرمیوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکول اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ نے نظر ثانی کی ان درخواستوں پر مختصر سماعت کے دوران سکولوں کی منتقلی کا عمل فی الحال روکنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ ڈی جی کنٹونمنٹ بورڈ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

مگر سپریم کورٹ کے اس حالیہ حکم سے قبل کنٹونمنٹ میں واقع کئی سکولوں کو یا تو سیل کر دیا گیا ہے یا پھر انھیں بند کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں جس نے یہاں زیر تعلیم طلبہ، اُن کے والدین اور استاتذہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

کینٹ کے علاقوں میں نجی تعلیمی ادارے سیل کیوں کیے جا رہے تھے؟

آل پاکستان پرائیویٹ سکول اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج کے مطابق ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے اس فیصلے سے کم از کم آٹھ ہزار تعلیمی ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل سے ان اداروں میں زیر تعلیم تیس لاکھ سے زیادہ طلبہ براہ راست متاثر ہوں گے۔ ’شعبہ تعلیم سے وابستہ متاثرہ ملازمین کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے، ان میں اساتذہ، کلرکس، معاون، آیا اور گارڈز وغیرہ شامل ہیں۔‘

دوسری جانب ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن فہیم ظفر خان ان اعداد و شمار کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'تعلیمی اداروں کے انخلا کے فیصلے سے محض دو ہزار سکول متاثر ہوں گے۔' تاہم ان سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان سے وابستہ ملازمین کے اعداد و شمار کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اشرف ہراج نے اعتراض اٹھایا ہے کہ نجی سکولوں کی بندش کے فیصلے سے قبل طلبہ کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے، اور نہ ہی انھیں کوئی ایسا راستہ فراہم کیا گیا ہے جس سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔

دوسری جانب کنٹونمنٹس علاقوں میں جن تعلیمی اداروں پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا اُن میں آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) اور فوج یا وفاقی حکومت کے زیر انتظام دوسرے تعلیمی ادارے ہیں۔ تاہم ان میں داخلہ لینا ایک عام شہری کے لیے آسان نہیں جبکہ اُن کی فیس اور دیگر اخراجات بھی متاثرہ تعلیمی اداروں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔

بی بی سی کو ایک ایسا نوٹس موصول ہوا ہے جو چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ نے اپنے زیر انتظام علاقے میں قائم ایک نجی سکول کو بھیجا ہے۔

اس نوٹس میں سکول انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ ان کا سکول رہائشی علاقے میں غیرقانونی طور پر قائم کیا گیا ہے۔ جو کہ نہ صرف کنٹونمنٹ کی لیز سے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ماسٹر پلان اور دیگر قواعد و ضوابط سے بھی متصادم ہے، لہذا ادارے کو 31 دسمبر 2021 تک کنٹونمنٹ کی حدود سے باہر منتقل یا بند کر دیا جائے۔

نوٹس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جون 2018 میں ایک کیس کے فیصلے کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔ اس میں ہدایات دی گئی ہیں کہ متعلقہ حکام کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام علاقوں سے سکولوں اور دیگر ہر طرح کی تجارتی سرگرمیوں کو ختم کریں۔

نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات اور وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق تمام متعلقہ تعلیمی اداروں کو 2019 سے اب تک تین مرتبہ انخلا کا نوٹس دیا گیا تاکہ وہ موزوں وقت میں سکول کی منتقلی کا عمل مکمل کر سکیں۔

بچے جس ذہنی اذیت سے گزریں گے، اس کا کیا ہے؟

عثمان رشید، راولپنڈی شہر میں اڈیالہ روڈ کے رہائشی ہیں وہ کہتے ہیں کہ 'میرے چار میں سے تین بچے سکول جاتے ہیں، سب سے بڑا بچہ کلاس ون میں ہے، جبکہ چھوٹے دونوں نرسری میں پڑھتے ہیں۔ بچوں کا سکول میرے گھر سے پانچ منٹ کی مسافت پر ہے۔ پیدل یا موٹر سائیکل پر میں صبح ان کو سکول ڈراپ کر دیتا ہوں جبکہ انھیں سکول سے لانے کے لیے میری اہلیہ یا گھر کا کوئی بھی فرد چلا جاتا ہے۔'

عثمان کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ابھی موسم سرما کی تعطیلات سے قبل بچوں کے سکول کے پرنسپل نے ملنے کا کہا، ملاقات میں انھوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کے فیصلے اور حتمی نوٹس سے متعلق آگاہ کیا، اور کہا کہ وہ قریبی علاقے میں ہی جو کنٹونمنٹ کی حدود سے باہر ہے، وہاں بلڈنگ ڈھونڈ رہے ہیں، اگر ہم چاہیں تو سکول کے وہاں منتقل ہو جانے کا انتظار کر لیں، یا پھر اپنی سہولت کے مطابق کوئی انتظام کر لیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر مجھے کنٹونمنٹ سے باہر تعلیمی اعتبار سے مناسب معیار کے سکول کا انتخاب بھی کرنا پڑے تو میرا سکول کا سفر پانچ منٹ سے پچاس منٹ تک پہنچ جائے گا، اور پھر بچوں کو لانا لے جانا الگ ذمہ داری ہے۔ میرا تو ذاتی کاروبار ہے، مگر ان لوگوں کا سوچیں جو نوکری پیشہ ہیں۔ وہ کیا کریں، کیا اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلوائیں۔‘

عثمان کا کہنا ہے کہ بچوں کے سکول کی تبدیلی کا فیصلہ ان کے لیے نہ صرف مالی طور بھاری ثابت ہو گا بلکہ وقت نکالنا بھی ایک بڑی ذمہ داری ہو گی۔ لیکن اس سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ جس ملک میں آرمی پبلک سکول، پشاور جیسا افسوسناک واقعہ ہو چکا ہو، وہاں والدین کیسے بچوں کو دور رکھیں گے، چلیں یہ میرا بُرا گمان ہے، مگر کیا بچہ سکول میں بیمار نہیں ہو سکتا، یا کوئی اور ایسی ایمرجنسی نہیں ہو سکتی ہے کہ والدین کے فوراً سکول پہنچنا ضروری ہو۔‘

جوریہ شاہ کراچی شہر کے فیصل کنٹونمنٹ کی رہائشی ہیں، گلستان جوہر کے علاقے میں ان کے بچے گھر کے قریبی سکول میں پڑھتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ 'سکول کے انتخاب میں کم از کم ہم لوگ معیار تعلیم کے بعد اُس کا قریب ہونا اہم سمجھتے ہیں، بچے سال ہا سال سے گھر سے پیدل ہی سکول جاتے ہیں، دو تین منٹ کا راستہ ہے۔ نہ ہمیں پک اینڈ ڈراپ وین کی ضرورت ہے اور نہ ہی کبھی فکر لاحق ہوتی ہے کہ بچے گھر سے دور ہیں۔'

جوریہ کے بقول 'میرے بچے اساتذہ سے بہت اُنسیت رکھتے ہیں، سکول میں بھی برسوں سے وہی ٹیچرز پڑھا رہے ہیں۔ سکولوں سے متعلق کنٹونمنٹ بورڈز کے فیصلے نے ایک سے زیادہ پہلوؤں پر فکر مند کر دیا ہے۔ مالی بوجھ بھی بڑا ہے، داخلہ ملنا، فیسیں بھر پانا، نئے یونیفارم، نئی کتابیں۔۔۔ یہ سب تو والدین شاید کر ہی لیں، مگر بچے جس ذہنی اذیت سے گزریں گے، اس کا کیا ہے؟ یہ صرف والدین ہی نہیں، بچے بھی سوچتے ہیں کہ وہ گھر کے پاس ہیں، وہ بھی دور جا کر والدین کی طرح ہی فکر مند ہوں گے۔ تو پڑھائی اور اچھی کارکردگی پر سوچنے کی باری کب آئے گی۔'

سپریم کورٹ کا کنٹونمنٹ بورڈز میں قائم سکولوں سے متعلق فیصلہ

ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے مطابق 'نجی تعلیمی اداروں کے انخلا کا فیصلہ سپریم کورٹ کے دوہزار اٹھارہ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ جس میں ان تعلیمی اداروں کو تین سال کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ سکولوں کو کنٹونمنٹ ایریا سے باہر منتقل کر لیں۔

’اس سارے عمل میں سپریم کورٹ کے احکامات اور ہدایات کی روشنی میں ان سکولوں اور کالجز کو ہر سال یاد دہانی کرائی جاتی رہی اور اب 31 دسمبر کے بعد انھیں سیل کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ تاہم بہت سے تعلیمی اداروں نے عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر لیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

آل پاکستان سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ نے 2018 میں نجی تعلیمی اداروں سے متعلق جو فیصلہ دیا، اس کی بنیاد اعلیٰ عدلیہ کا ہی 2017 کا ایک فیصلہ ہے۔ جو راولپنڈی میں ہارلے سٹریٹ کے علاقے میں غیر قانونی طور پر ایک سکول کی تعمیر سے متعلق تھا۔‘

’اس میں عدالت کے سامنے کنٹونمنٹ بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے بلڈنگ قوانین، ماسٹر پلان اور رہائشی پلاٹ پر کمرشل بلڈنگ کی تعمیر کی منظوری دیے جانے کا معاملہ تھا۔'

تنظیم کے صدر کے مطابق 'کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپنی بدعنوانی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے، اپنے زیر انتظام سکولوں کو کمرشل کاروبار کے طور پر پیش کیا اور عدالت کی توجہ کو اصل مدعا سے ہٹانے کی کوشش کی۔‘

’اگرچہ عدالت نے اپنے حکم نامے میں تمام کاروباری سرگرمیوں کی بندش کا حکم دیا، مگر آج بھی تمام کنٹونمنٹس میں پیٹرول پمپس سے لے کر ہر کاروبار جاری و ساری ہے، مگر تعلیمی اداروں کو بند کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ کسی نے تصدیق نہیں کی کہ جو تعلیمی ادارے موجود ہیں کیا انھوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔'

ملک ابرار حسین کے مطابق 'دنیا بھر میں سکول تجارتی منصوبوں میں شامل نہیں ہیں۔ سکول رہائشی علاقوں سے متصل ہوتے ہیں، یہ معاشرے کی بہتری کا مرکز ہیں، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں اقوام متحدہ آئندہ پانچ برسوں میں اسی ہزار سے زیادہ سکولوں کی تعمیر پر زور دے رہا ہے۔ وہاں ہم سکول و کالجز بند کر کے اپنے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کر رہے ہیں۔ دوسری جانب 2016 میں سندھ ہائی کورٹ ایک کیس کے فیصلے میں واضح طور پر یہ قرار دے چکی ہے کہ تعلیمی ادارے تجارتی سرگرمیوں میں شمار نہیں ہوتے۔'

ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کنٹونمنٹس فہیم ظفر خان کہتے ہیں کہ 'ایسے تمام سکول، کالجز جو تعلیمی ادارے کے طور پر تعمیر نہیں ہوئے، وہ تمام تجارتی سرگرمی میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انخلا کے فیصلے سے متاثرہ تعلیمی اداروں میں سے ایسے ادارے جو کنٹونمنٹس کے تمام قوانین پر پورے اُترتے ہوں، اُن کے لیے ہمیشہ سے یہ سہولت موجود تھی کہ وہ اپنے ادارے کو رہائشی لیز سے کمرشل لیز میں تبدیل کر لیتے، تاہم یہ سہولت گلی محلوں میں قائم سکولوں و کالجز کے لیے نہیں ہیں، کیونکہ ان کا قیام متعلقہ قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔'

فہیم ظفر خان کہتے ہیں کہ 'لیز کی منتقلی کا آپشن ان تعلیمی اداروں کے پاس 31 دسمبر 2021 تک موجود تھا، جس سے انھوں نے فائدہ نہیں اُٹھایا، تاہم ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ اگر مستقبل میں اس سے متعلق سپریم کورٹ کوئی نیا حکم جاری کرتی ہے، جس سے ان تعلیمی اداروں کو کسی بھی قسم کا ریلیف مل سکے، تو ہم اُس پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔'

سکولز و کالجز کی نمائندہ تنظیم کا سپریم کورٹ سے رجوع

اشرف ہراج کے مطابق کنٹونمنٹس اتھارٹی نے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جس فیصلے کو بنیاد بنا کا تعلیمی اداروں کے انخلا کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کے خلاف تنظیم نے 2019 سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔ 'اس کیس کو قابل سماعت قرار دیے جانے کے باوجود ایک بھی سماعت نہیں ہو سکی ہے۔ کبھی بینچ تحلیل ہو جاتا ہے تو کبھی کوئی اور تکنیکی نکتہ آڑے آتا رہا ہے۔‘

’تاہم اب جلد شنوائی کی درخواست بھی دی گئی ہے، اُمید ہے کہ سپریم کورٹ نوکریوں سے برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین کے کیس کی طرح تعلیمی اداروں سے متعلق اس کیس میں بھی ہزاروں خاندانوں اور لاکھوں بچوں کے مستقبل کو پیش نظر رکھے گی۔'

اشرف ہراج کہتے ہیں کہ تنظیم نے کنٹونمنٹس کی حدود کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادارے نے اپنی حیثیت میں ہی اپنی حدود کو بڑھا لیا ہے۔ جو کہ پاکستان میں ملٹری لینڈ کی تخصیص کے 1957 اور پھر 1981 کے نوٹیفیکیشن سے متصادم ہے۔ جس پر عدالت ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس سے جواب طلب کر چکی ہے۔

تاہم کنٹونمنٹس کے ڈائریکٹر ایڈمنٹسریشن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ادارے نے اپنی حدود کو خود سے بڑھایا ہے، ان کا کہنا کہ کنٹونمنٹس ایریاز کے حوالے سے تمام سرکاری نقشہ جات موجود ہیں، جبکہ ان علاقوں کی توسیع یا دائر کار بڑھانے کے نوٹیفکیشن تک بھی عوام کو رسائی حاصل ہے۔