پاکستانی فضائیہ کا فیلکن مال ’کالج‘ میں تبدیل: ’جدید مسائل کے لیے جدید حل چاہیے ہوتے ہیں‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پاکستان فضائیہ نے اپنے شاپنگ مال کو کالج میں تبدیل کردیا ہے۔ یہ تبدیلی سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دفاعی مقاصد کے لیے دی گئی زمین کسی اور کام میں استعمال نہیں کیا جاسکتی ہے۔

پاکستان ایئرفورس کے ادارے شاہین فاؤنڈیشن کا یہ منصوبہ کراچی کی مصروف اور مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر 'فیلکن مال' کے نام سے زیر تعمیر تھا، جس کی گراؤنڈ بریکنگ اکتوبر 2010 میں کی گئی تھی۔

کراچی میں پاکستان ایئر فورس کے ترجمان سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ اس عمارت پر کالج کا بورڈ لگایا گیا ہے تاہم اس بارے میں ان کے پاس مزید تفصیلات موجود نہیں تھیں۔

شاہین فاؤنڈیشن کے سیکریٹری رٹایئرڈ ایئر کموڈر خلیل رحمان شیرانی سے جب ٹیلیفون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس پر تبصرہ نہیں کیا اور مشورہ دیا کہ وہاں سائٹ پر جاکر دیکھ لیں۔

فیلکن مال کی اراضی دو لاکھ پانچ ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہے جس میں 21000 اسکوائٹر فٹ ریسٹورانٹس ، 11000 اسکوائر فٹ سئنیما ہال، 9000 اسکوائر فٹ انٹرٹینمنٹ ایریا،5000 اسکوائر فٹ فوڈ کورٹ کے لیے مختص ہے، یہ عمارت گراونڈ کے علاوہ تین منزلوں پر مجوزہ تھی۔

اس منصوبے کے لیے فیس بک پیج، ٹوئٹر اکاونٹ اور ویب سائٹ بھی بنائی گئی تھی لیکن اس وقت ویب سائٹ بند ہے جبکہ جو لینڈ لائن نمبر دیا گیا ہے وہ بھی کسی کے استعمال میں نہیں ہے۔

شاہین فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے لیے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں خود کو لیڈر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ اور ان کے کسٹمرز کو بہترین سروس اور دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔

اس ادارے کے کراچی اور لاہور میں شاہین کامپلیکس اور پشاور میں ہاؤسنگ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں گذشتہ ماہ نے کنٹونمنٹ کی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی اور اس موقعے پر قرار دیا تھا کہ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کا کہنا تھا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرائیں گے۔

انھوں نے واضح کیا تھا کہ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا اور فوج جن قوانین کا سہارا لے کر کنٹونمٹ کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کرتی ہے، وہ غیر آئینی ہیں۔

اس سے قبل سیکریٹری دفاع نے عدالت میں پیش ہوکر یقین دہانی کرائی تھی کہ مستقبل میں کنٹونمنٹ کی زمینیں دفاعی مقاصد کے علاوہ کسی کام کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے مسلح افواج کے سربراہان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس سماعت کے بعد انھوں نے اسلام آباد میں عدالت کے روبرو ایک رپورٹ پیش کی تھی جس کو مسترد کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شاہراہ فیصل پر ہی واقع نسلہ ٹاور کی تعمیر کو بھی حال ہی میں سپریم کورٹ نے غیر قانونی دیگر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر کمشنر کراچی کی نگرانی میں عملدرآمد جاری ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

سوشل میڈیا پر صارفین کیا کہہ رہے ہیں؟

کراچی میں مقیم وکیل عبدالمعیز جعفری نے منگل کو تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ فضائیہ نے ائیر بیس کے مقام پر کمرشل شاپنگ مال قائم کر دیا اور جب سپریم کورٹ نے کہا کہ عسکری ضروریات کے لیے استعمال نہ ہونے والی زمین واپس کریں تو اس پر پی اے ایف نے ائیر وار کالج انسٹٹیوٹ' کا نام لگا دیا۔

ایک اور صارف مدثر ضیا لکھتے ہیں کہ 'ان کی طرح ہونا چاہیے، تمام غیر قانونی کاموں کا نام بدل دیں۔'

سماجی کارکن اور محقق عمار علی جان نے بھی اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسی کرپشن کی نشاندہی کرنے پر کہا جاتا ہے کہ افواج کا مورال کم ہو جاتا ہے۔'

ایک اور صارف عبداللہ نے اس پر کہا کہ وہ کچھ دنوں سے سوچ رہے تھے کہ اس عمارت کا کیا ہوگا۔

صحافی انس ملک نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 'جدید مسائل کے لیے جدید حل چاہیے ہوتے ہیں۔'

ایک اور صارف محمد ابراہیم نے کراچی میں غیرقانونی ہونے کے باعث گرائے جانے والے نسلہ ٹاور اور الہ دین پارک کا حوالے دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ 'اگر نسلہ ٹاور اور الہ دین پارک نے نام تبدیل کر لیا ہوتا تو کیا ہوتا'۔