آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل: گوا سے کراچی آ کے بسنے والی مسیحی برادری کی تاریخی عبادت گاہ
- مصنف, نعیم اکبر
- عہدہ, صحافی، کراچی
- وقت اشاعت
بلندوبالا گنبد نماں دیواروں میں لگے رنگین شیشوں والی کھڑکیوں سے چھن چھن کر آتی ہوئی سورج کی کرنیں آلٹر ٹیبل پر پڑ رہی ہیں۔
آلٹرٹیبل یعنی ایک بڑے سائز کی میز ہے جو گرجا گھر میں تین فٹ اونچے چبوترے کے درمیان رکھی گئی ہے۔
اس پر اجلی سفید اور جامنی رنگ کی شیٹ بچھی ہوئی ہے۔ آلٹر ٹیبل کے ساتھ ایک طرف جامنی رنگ کی ہی بڑے سائز کی شمع روشن ہے۔
یہ منظر ہے کراچی کے سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل کا جہاں دنیا بھر کی طرح دسمبر کے پہلے اتوار کی صبح کو عبادت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
لیکن 12 سال کی آشیتہ ڈی سوزا کے لیے اس سال چرچ میں کچھ انوکھا دیکھنے کو مل رہا ہے۔
وہ انگری زبان میں کہتی ہیں کہ 'سب کچھ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ دیواروں پر نیا رنگ کیا گیا ہے۔ کھڑکیوں پر رنگین شیشے لگائے گئے ہیں اور چرچ میں ایل ای ڈیز بھی لگائی گئی ہیں۔‘
سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل شہر کے قدیمی علاقے صدر میں ’کلارک سٹریٹ‘ پر واقع ہے جس کا نام اب شاہراہ عراق ہے۔
سینٹ پیٹرکس گرجا گھر کی عمارت لگ بھگ 178 سال پرانی ہے اور اس کا شمار شہر کے تاریخی مقامات میں ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی حکومت نے اس چرچ کو قدیم تاریخی حیثیت رکھنے والی عمارات کی فہرست میں شامل کر کے قومی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔
رقبے کے لحاظ سے سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل کراچی میں بسنے والے مسیحیوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ سندھ میں برطانوی انگریزوں کی طرف سے تعمیر کیا جانے والا پہلا گرجا گھر ہے۔
سنہ 1881 میں تعمیر کیے گئے اس گرجا گھر کی چوڑائی 22 میٹر اور لمبائی 52 میٹر ہے۔ اور اس میں تقریباً 1500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
یہ عمارت پتھر کی بنی ہوئی ہے جو دنیا بھر میں قائم گرجا گھروں کی طرح گوتھک طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے۔
گرجا گھر کی چھت ڈھلوان شکل کی بنی ہے۔ داخلی دروازے کے دونوں کونوں پر چوکور شکل کی فصیلیں بنی ہوئی ہیں جن کے اوپر نوکیلے مینار ہیں جن پر صلیبیں لگی ہوئی ہیں۔
اسی طرح پچھلے حصے میں آلٹر ٹیبل کے عین اوپر بھی ایک گلابی رنگ کی نوکیلی شکل کا مینار ہے جس کے درمیان انتہائی مہارت کے ساتھ ایک بالکونی بنی ہوئی ہے جبکہ گنبد کے اوپر ایک صلیب لگی ہوئی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چرچ کی عمارت بوسیدہ ہونے لگی تھی۔
لہٰذا چرچ انتظامیہ کی درخواست پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی طرف سے 25 کروڑ روپے کی خطیر رقم اس عبادت گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے صوبائی حکومت نے دی۔
چرچ کے سابق بشپ اورکارڈینل جوزف کوٹس کہتے ہیں کہ 'بارشوں کے موسم میں چرچ کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا تھا جبکہ سیوریج کا نظام بوسیدہ ہو جانے کے باعث فرش میں بھی نمی بڑھ رہی تھی۔ اس لیے ہم نے یہ کام شروع کروایا۔'
چرچ کی عمارت کی تزئین و آرائش کے کام کو صوبائی محکمہ ثقافت کے انجینیئرز نے اڑھائی سال کے عرصے میں مکمل کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ کام مشکل تھا لیکن انجینیئرز نے محکمہ ثقافت کے افسران کی نگرانی میں یہ کام بہت خوش اسلوبی سے مکمل کیا۔ چرچ کی پرانی عمارت کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا ایک چیلنج تھا۔‘
چرچ کی دیواروں پر بنی لکڑی کی کھڑکیوں میں ایسے شیشے لگائے گئے ہیں جن پر مختلف رنگوں سے پینٹنگز بنی ہوئی ہیں جو مختلف مذہبی واقعات اور کرداروں پر مبنی ہیں۔
یہ شیشے جرمنی کی ایک شیشہ ساز کمپنی سے خریدے گئے ہیں جن سے یہ دہائیوں پہلے خریدے گئے تھے جبکہ اسی کمپنی کے انجینیئرز نے کراچی آ کر یہ شیشے خود نصب کیے تھے۔
اس عرصہ میں معمول کی عبادات چرچ کی عمارت کے اندر منعقد ہوتی تھیں جبکہ کرسمس اور ایسٹر جیسے تہواروں پر عبادت گزاروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر عقب میں ایک بڑے میدان میں انتظامات کیے جاتے تھے۔ اس طرح عبادت گزار اڑھائی سال تک سردی اورسخت گرمی کو برداشت کرتے رہے۔
تاہم اس سال اکتوبر کے مہینے میں یہ انتظار ختم ہوا اور بشپ آف کراچی ڈائیوسز بینی ماریوٹراوس نے چرچ کی عمارت کو پاک پانی سے مسح کر کے عبادت گزاروں کے لیے کھولا۔
'کرائسٹ دی کنگ'
زرد رنگ کے پتھر سے بنی اس عمارت کے اوپر گلابی رنگ کے نوکیلے مینار اسے خوبصورت بناتے ہیں۔
لیکن جو چیزسینٹ پیٹرکس کیتھڈرل کو پاکستان بھر میں قائم رومن کیتھولک فرقے کے گرجا گھروں سے منفرد بناتی ہے وہ ہے اس کی زرد اور گلابی رنگوں والی عمارت کے عین سامنے سفید سنگ مرمر سے بنا ہوا بڑا سا چبوترا۔
جس کے عین وسط میں ایک مینار پر 'کرائسٹ دی کنگ' کا مجسمہ ہے جس کے دائیں اور بائیں جانب دو فرشتوں کے مجسمے ہیں۔
گول شکل میں تعمیر کردہ چبوترے کے زینوں پر بھی سنگ مرمر لگایا گیا ہے جبکہ اطراف میں چھوٹی دیوار اور اس کے درمیان چھوٹے چھوٹے میناروں پر رکھے ہوئے پنکھڑیوں والے فرشتوں کے مجمسے ہیں۔
'گوان مسیحیوں کا چرچ'
سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل کے ارد گرد کے علاقوں میں گوان مسیحی رہتے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد دہائیوں قبل کاروبار کی غرض سے انڈیا کی جنوبی ریاست گوا سے کراچی آئے تھے اورپھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گوان مسیحی سینٹ پیٹرکس میں دہائیوں سے عبادات کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔ اسی لیے اسے گوانز کا چرچ بھی کہا جاتا ہے۔
گوان مسیحی خاتون شرل ڈی سوزا کینٹ سٹیشن کے قریب ایک اپارٹمنٹ میں اپنے فیملی البم دکھاتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کی نانی اور نانا گوا میں پیدا ہوئے تھے لیکن شادی کے بعد کراچی آ گئے۔ ان کے والدین کراچی میں ہی پیدا ہوئے جبکہ وہ خود بھی یہیں پیدا ہوئیں۔
'ہماری تین نسلیں اسی (سینٹ پیٹرکس) چرچ میں عبادت کرتی آ رہی ہیں۔ اور اب ہماری بیٹی بھی ہمارے ساتھ اسی چرچ میں عبادت کے لیے جاتی ہے۔‘
تاریخی طور پر گوا کی ریاست ساڑھے چار سو سال تک پرتگال کے زیر انتظام رہی اور 1961 میں آزاد ہو کر انڈیا کے زیر انتظام ہو گئی۔
اتنے لمبے عرصے تک پرتگالیوں کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے وہاں کے ہندوؤں نے یہاں موجود مشنریز سے عیسائی مذہب کو قبول کر لیا جس کی وجہ سے انھیں اعلیٰ تعلیم تک رسائی مل سکی۔
شرل ڈی سوزا کہتی ہیں کہ 'کراچی آنے والے گوان مسیحی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں بہت قابل تھے۔ اسی وجہ سے ان کو کراچی آ کر مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور مشنری اداروں میں نوکریاں آسانی سے مل گئیں۔'
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'گوان مسیحیوں کا کراچی کی انتظامی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ انھوں نے کئی شاہکار عمارتیں ڈیزائن اور تعمیر کیں جبکہ مشنری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار کو بہت اوپر لے گئے۔'
چونکہ گوا ساحلی علاقہ ہے اس لیے موسمی اثرات کی وجہ سے اکثر لوگوں کی رنگت سانولی ہے۔
جبکہ گرمیوں کے موسم میں یہ لوگ بڑے بڑے پھول پتیوں کے ڈیزائن اور بھڑکیلے رنگوں میں قمیضیں اور پتلون یا سکرٹ میں چرچ آتے جاتے نظر آتے ہیں۔
'کراچی میں گوا'
گوا سے کراچی آنے والے مسیحی لوگ اپنے ساتھ پرتگالی کلچر بھی ساتھ لائے۔
سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل میں دہائیوں سے گوان پادری (راہب) یا ننز (راہبان) اپنی مذہبی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔
حال ہی میں بشپ آف کراچی مقرر ہونے والے بینی ماریوٹراوس بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہراتوار کو سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل میں شام کے وقت گوان مسیحیوں کے لیے خاص طور پر انگریزی زبان میں عبادت ہوتی ہے اور الگ ہی ماحول ہوتا ہے۔
کیونکہ گوان جو رہن سہن کے لحاظ سے بہت ماڈرن اور آزاد خیال ہیں، ان کے نوجوان لڑکے پتلون شرٹس جبکہ لڑکیاں سکرٹس اور جینز میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے گویا یہ پاکستان نہیں بلکہ کوئی مغربی ملک ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گوان کرسمس کیسے مناتے ہیں؟
گوان مسیحیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ہی شریف النفس اور تنہائی پسند ہیں جو اپنی ہی برادری کے لوگوں سے تعلق اور واسطہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر جہاں سینٹ پیٹرکس چرچ میں گوان مسیحی دن رات عبادات میں امن کی دعائیں مانگتے ہیں تو وہیں چرچ اور ان کے گھروں کے گرد آتشیں اسلحہ بیچنے کی ایک بڑی مارکیٹ دہائیوں سے چل رہی ہے۔
اتفاق ہے کہ اسلحہ بیچنے والی دو دکانوں کے درمیان ایک چھوٹی سی بیکری قائم ہے جسے گوان خاتون سٹیفنی اور ان کی والدہ کئی برسوں سے چلا رہی ہیں۔
کرسمس کی آمد کے پیش نظر یہاں بچوں لیے مخصوص گوان طریقے سے بنائی گئی ٹافیاں، چاکلیٹس اورایسی دیگر چیزیں دستایب ہیں۔ جبکہ کرسمس کے موقع پر روایتی انداز میں پکائے جانے والے پکوان بھی آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں۔
میری نظر کونے میں پڑے ایک بڑے لال رنگ کے گفٹ پیک پر پڑی جس میں مٹھائیاں مختلف رنگوں والے کاغذوں سے اس طرح پیک کی ہوئی ہیں کہ بہت دلکش لگیں۔ سامنے روایتی کھانوں کی ایک لسٹ لگی ہوئی ہے جس پر کھانوں کے نام اور دام لکھے ہوئے ہیں۔
کھانوں میں چنا ڈوسہ، بیبنکا، کلکل، نیورس، باتیچا، فروٹ کیک، روسٹ بیف، سور پوٹل ہیں۔
بیکری کی مالک سٹیفنی کہتی ہیں کہ 'سورپوٹل (بڑے گوشت سے بنائی جانے والی) ایک ڈش ہے جو ہر گوان مسیحی کے گھر میں کرسمس کے موقع پر پکائی جاتی ہے۔ اس میں گائے کا دل، گردے اور پھیپھڑے ہوتے ہیں۔ جسے رائس کیک کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کرسمس پر یہ ڈش ہر گھرمیں آپ کو ملے گی۔ سورپوٹل تو جیسے کرسمس کی جان ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ کرسمس کے موقع پر روایتی ’رچ پلم‘ کیک تیار کیا جاتا ہے۔ جبکہ بچوں کے لیے مخصوص مٹھائیاں تیار کی جاتی ہیں۔
گوان مسیحی کم کیوں ہورہے ہیں؟
گوان مسیحی برادری کی تعداد پہلے ہی بہت محدود تھی لیکن حالیہ برسوں میں یہ مزید کم ہو گئی ہے۔
بیزل اینڈریوز ایک نوجوان صحافی ہیں جن کا تعلق گوان کمیونٹی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ملک کے معاشی حالات سے تنگ اور پھر دہائیوں تک جاری رہنے والی دہشت گردی اور شدت پسندی کی لہر سے خوف کے باعث ایک بڑی تعداد میں لوگ دیگر ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ چونکہ گوان عموماً اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اس لیے انھیں دیگر ممالک میں آسانی سے نوکریاں مل جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باقی بچ جانے والے لوگ یا توضعیف العمر ہیں یا زیرتعلیم نوجوان ہیں۔‘
دوسری طرف روزگار کی غرض سے پنجاب سے آنے والی مسیحیوں کی تعداد گذشتہ دہائیوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
بیزل اینڈریوز کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ ہر اتوار کے روز ایک عبادت پنجابیوں کے لیے اردو زبان میں کی جاتی ہے جبکہ کرسمس اور ایسٹر کے مواقع پر دونوں زبانوں میں بیک وقت ادا کی جاتی ہیں۔‘
دو مختلف معاشی طبقوں سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں، یعنی گوان اور پنجابی، کے ایک جگہ اکٹھے ہونے سے کچھ مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں جن پر کھل کر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
گوان کمیونٹی کے ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے لیکن یہ سچ ہے کہ گوان کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے چرچ میں پنجاب سے آنے والے مسیحیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جو عموماً کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کا طرز زندگی بھی ہم سے مختلف ہے۔ وہ رکھ رکھاؤ کو اس طرح نہیں سمجھتے جیسے گوان۔‘
اگرچہ گوان لوگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے لیکن ان کی تیسری نسل کے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ہی ملک میں روشن مستقبل کی خواہش لیے رہ رہے ہیں۔