آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افغان شہریوں کو علاج فراہم کرنے والا پشاور کا ٹیلی کلینک: ‘کسی کا نام یاد نہیں رہتا یہاں تک کہ شکلیں بھول جاتا ہوں‘
- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
اس وقت جب پشاور میں لوگ کسی پریشانی یا دباؤ کی بدولت ذہنی بیماریوں کا علاج کرانے کو انتہائی شرمناک تصور کرتے تھے تو اس وقت شہر کے علاقے نشتر آباد میں معروف معالج ڈاکٹر خالد مفتی کا کلینک آباد ہوا تھا۔
اس وقت دور و نزدیک شہروں اور افغانستان کے لوگ اپنے مریضوں کا چوری چھپے ان سے علاج کروانے آتے تھے لیکن اس وقت شاید ہی کسی کو معلوم رہا ہو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جگہ کی اہمیت بڑھ جائے گی۔
آج اس مقام پر ڈاکٹر خالد کا بنایا ہوا عبادت ہسپتال افغانستان میں پریشان حال مریضوں کی امیدوں کا ایک مرکز بنا ہوا ہے۔
پاکستان کا ویزا ملنے کے بعد پشاور پہنچنے والے افغان مریض بھی یہاں سے علاج کراتے ہیں لیکن اب اس ہسپتال سے انٹرنیٹ کے ذریعے بھی افغانستان کے شہر خوست میں ایسے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے جو اپنے شہر میں ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹروں اور اس علاج کے لیے درکار ادویات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔
اس ہسپتال کا ایک ہال انٹرنیٹ اور ویڈیو کالنگ کی سہولیات سے آراستہ باقاعدہ کانفرنس روم کی شکل میں موجود ہے جہاں سے ڈاکٹر خالد مفتی اور ان کے ہسپتال کا عملہ افغانستان کے شہر خوست کے ساتھ ہفتہ وار سیشنز کر رہا ہے۔
گذشتہ کئی دہائیوں سے ذہنی امراض کے علاج سے وابستہ ڈاکٹر خالد مفتی کہتے ہیں کہ فی الحال یہ سیشن خوست کے مریضوں کے ساتھ ہو رہے ہیں لیکن افغانستان بھر سے کوئی بھی مریض کہیں سے بھی ان سے رابطہ کرے تو وہ ان کی مدد کریں گے۔
انھوں نے یہ سلسلہ ورلڈ سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افضل جاوید کی خصوصی اپیل پر شروع کیا ہے جنھیں افغانستان میں سائیکاٹری ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے ملنے والے ایک خط کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ان کی مدد کریں۔
‘کسی کا نام یاد نہیں رہتا یہاں تک کہ شکلیں بھول جاتا ہوں‘
اس ٹیلی کلینک میں افغانستان کے اندر سے اپنے حالات بتانے والے مریضوں کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک مریض محمد علی (فرضی نام) ماضی میں جہاد سے وابستہ رہے اور کچھ وقت بعد ایک سکول کے استاد بن گئے۔ امریکی حملے کے بعد ان کا کبھی روزگار اور کبھی بے روزگاری میں وقت گزرا مگر جب سے طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے تو وہ اب بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انھیں کچھ نہیں معلوم کہ ان کا مستقبل کیا ہے اور وہ رات کو سوتے ہیں تو ماضی کے حالات پر خواب آتے ہیں اور جب ایک بار آنکھ کھل جائے تو پھر نیند نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں جہازوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
ادھر عبد الرقیب (فرضی نام) افغانستان کے مشرقی صوبے خوست کے رہائشی ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جن کے لیے اقتدار اشرف غنی سے طالبان کو منتقل ہونے کے بعد بے یقینی نے مزید مشکلات پیدا کی ہیں۔
عبد الرقیب کو لگتا ہے کہ جیسے کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ بھی یہی شکایت کرتے ہیں کہ آنکھ کھلتی ہے تو پھر گھنٹوں نیند نہیں آتی۔
دیگر مریض بھی کچھ ایسی ہی کہانیاں سناتے ہیں۔ ایک اور مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ ‘سارا دن فارغ رہتا ہوں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں جاؤں کس سے بات کروں اور کیا کام کروں۔ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آتا ہے، زبان ایسے سوکھ جاتی ہے کہ آدھا حصہ سوکھا اور آدھا گیلا ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عرصہ جیل میں رہے، وہاں سے رہا ہوئے تو دوائی بھی لی تاہم جب دل میں تکلیف ہوئی اور نسوار وغیرہ بھی چھوڑ دی تو برداشت بھی ختم ہو گئی۔
جیل کے بعد ان کی ذہنی تکالیف میں بہت اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے ان کے معدے میں بہت تکلیف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی یاد آتا ہے تو بہت پریشان ہو جاتا ہوں اور جب طبیعت خراب ہوتی ہے تو جسم پر لرزہ طاری ہوتا ہے۔ بہت کوشش کرتا ہوں لیکن کسی کا نام یاد نہیں رہتا یہاں تک کہ شکلیں بھول جاتا ہوں۔‘
‘پورا معاشرہ ذہنی مریض بن جائے گا‘
ڈاکٹر مفتی کہتے ہیں کہ افغانستان میں عرصہ دراز سے ہر قسم کے امراض کے ماہر موجود ہیں لیکن سائیکاٹری کے ماہر ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جو افغان اس شعبے میں بین الاقوامی سطح کے ماہر ہیں بھی، وہ بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔
‘افغانستان میں پختون مریضوں کا سارا دارومدار پشاور اور اسلام آباد جبکہ شمالی صوبوں کے مریضوں کا ایران پر ہوتا ہے۔ یہی سوچ کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ نائن الیون کے بعد وہاں کے ڈاکٹروں کو تربیت دی تھی اور ان سے ہمارا رابطہ ہے۔ جب یہ کلینک کھولنے کا فیصلہ ہوا تو خوست کے لوگ بہت خوش ہوئے۔‘
ڈاکٹر خالد مفتی کا کہنا ہے کہ افغانستان پچھلے تیس سال سے ٹراما کا شکار ہے، خصوصاً نائن الیون کے بعد اس بیس برس کی جنگ نے بہت شدید اثرات ڈالے ہیں۔
’عام شہریوں کو تباہی اورصدمہ دیکھنا پڑا ہے۔ لوگوں کو پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر ہو چکا ہے اور جن لوگوں نے دھماکے اورخود کش حملے دیکھے یا خود قید کاٹی، وہ سب اس میں مبتلا ہیں۔ بہت لوگ بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں کہ کل کیا ہو گا۔ ایک اندازے کے مطابق ستر فیصد افغان نائن الیون کے بعد نفسیاتی بیماریوں کا شکار تھے۔‘
کابل سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہیلتھ کابل ڈاکٹر احمد خطاب کاکڑم نے بتایا کہ دنیا بھر کی مدد ہونے کے باوجود تبدیلی سے پہلے بھی افغانستان میں کچھ مشکلات تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتے ہیں کہ ‘بیس سال کے دور میں ورلڈ بینک اور یورپی یونین کی جانب سے تکنیکی اور مالی مدد حاصل تھی، وہ ہماری استعداد بڑھانے کا کام کرتے تھے وہ ہیلتھ پروفیشنلز کی ٹریننگ کراتے تھے، پاکستان میں بھی، یورپ، کابل اور ہر جگہ تربیت کا عمل چلتا تھا۔ بعض ادویات اورتشخیصی مواد دیتے تھے لیکن بدقسمتی کے ساتھ جب حکومت بدل گئی تو یہ سب کچھ ختم ہو گیا۔‘
‘جن لوگوں کے ساتھ ہمارے غذائی مواد، ادویات یا آلات کی فراہمی کے معاہدے تھے وہ اچانک ختم ہو گئے۔ نئی حکومت کے پاس پیسے نہیں۔ اس وقت ہمیں ادویات، غذا، کپڑوں اور مریضوں کے لیے درکار سامان دستیاب نہیں۔ سردی آ گئی ہے اور اگر یہ سامان نہ ملا تو ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ ہمارے پاس افغان سٹاف سارا کا سارا موجود ہے لیکن سامان دستیاب نہیں۔‘
ذہنی امراض کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ان مریضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چالیس سال کی جنگ نے ہم سے سب کچھ لے لیا۔ یہ نظام آیا تو لوگوں کے روزگار رک گئے ہیں، تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ لوگ بے روزگار ہیں، معیشت جمود کا شکار ہے۔‘
’امن تو ہے لیکن لوگ تنخواہ نہیں لے رہے، اس وجہ سے اپنے خاندانوں کی بقا کے لیے کوئی وسیلہ نہیں۔ پشاور کا یہ سینٹر بہت اہم ہے۔ ہم بہت خوش ہیں کہ یہ سینٹر بنا ہے یہاں سے آن لائن ہمارے سٹاف اور مریضوں کی مدد ہو گی اس کا بڑا فائدہ ہو گا۔‘
افغانستان میں صحت کی موجودہ عمومی حالت
اطلاعات کے مطابق افغانستان میں رواں سال طالبان حکومت کے قیام کے بعد ملک میں ذہنی صحت کے لیے درکار فنڈز معطل ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں 2300 سے زیادہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ذہنی امراض کے لیے ضروری ادویات کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔
افغانستان سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنے ایک خط میں ذہنی صحت کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ورلڈ سائیکاٹرک ایسوسی ایشن سے مدد طلب کی جس کے بعد پشاور کے عبادت ہسپتال میں ورچوئل یا ٹیلی کلینک قائم کیا گیا ہے۔
پشاور میں اس ٹیلی کلینک کے افتتاح کے دوران خطاب کرتے ہوئے ورلڈ سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افضل جاوید کا کہنا تھا کہ افغانستان کی پختون آبادی کے لیے پشاور کا یہ کلینک کام کرے گا جبکہ شمالی صوبوں کے فارسی بولنے والے لوگوں کے لیے ایران میں کلینک کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈاکٹر گوہر شاہ کا تعلق بھی خوست افغانستان سے ہے۔ وہ دانتوں کے ڈاکٹر ہیں مگر اپنا علاج کروانے کے لیے عبادت کلینک آئے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں خود مریض ہوں، علاج کے لیے پشاور آیا ہوں۔ وہاں پر جو دوائی دس روپے کی ملتی تھی وہ اب چالیس کی ہو گئی ہے، لوگوں کے پاس راستے کا کرایہ تک نہیں۔ ہسپتالوں اور کلینکس میں دوائیاں نہیں اور لوگوں کے پاس بازار سے دوائیاں خریدنے کے لیے پیسے بھی نہیں۔‘
مگر دوائیوں کی کمی کی وجہ کیا؟
ڈاکٹر گوہر شاہ بتاتے ہیں کہ ‘مشکل یہ ہے کہ اب ادویات بیرونِ ملک سے نہیں آتیں۔ پہلے یہ پوری دنیا خصوصاً پاکستان، انڈیا اور ترکی سے آتی تھیں لیکن اب بند ہیں۔‘
ڈاکٹر گوہر شاہ کہتے ہیں کہ جن بیماروں کا علاج ہو رہا تھا وہ ادھورا رہ گیا ہے۔ ‘لوگ پاکستان نہیں آ سکتے، بارڈر پر بہت مشکل ہے، وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔ میں خود بیس سال سے اپنا علاج کرا رہا ہوں، ذہنی دباو کا شکار ہوں اور افغانستان کے سب لوگوں کو یہی مسئلہ ہے جبکہ اب مریض بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔‘
’لوگ پریشان ہیں کھانے کو نہیں، معیشت خراب ہے۔ مہنگائی بڑھی ہے اور حکومت کوشش کررہی ہے لیکن اب دنیا کو ہماری مدد کرنی چاہیے۔ پہلے یہ تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن اب بہت زیادہ لوگ ذہنی مریض ہیں۔ اب ہر گھر میں دو سے تین مریض ہیں۔ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ سب پریشان ہیں۔ معاش اور روزگار بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے میں پاکستان سرحد کے راستے شدید بیمار لوگوں کو چھوڑتا ہے لیکن مشکلات کافی ہیں۔‘