پولیس کا صحافی عنبرین فاطمہ پر حملہ کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ صحافی عنبرین فاطمہ پر حملہ کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی شب صوبائی دارالحکومت لاہور میں تھانہ غازی آباد کی حدود میں پیش ایا۔

’معزز خاتون کی گاڑی پر نامعلوم شخص نے آہنی چیز سے حملہ کیا جس سے گاڑی کی سکرین ٹوٹی اور نقصان پہنچا۔ پولیس کو 15 پر کوئی اطلاع نہیں ملی، جب معزز خاتون گاڑی لے کر تھانہ پہنچی تو فوری کارروائی کی گئی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ’متعلقہ ایس پی کی سربراہی میں ٹیمیں کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری پر کام کر رہی ہیں۔‘

عنبرین فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی گاڑی پر یہ حملہ رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب لاہور میں ان کے گھر کے قریب ہوا اور نامعلوم حملہ آور انھیں ’جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔‘

عنبرین فاطمہ گذشتہ 16 برس سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں اور ان کے مطابق اس سے پہلے انھیں کبھی اس قسم کے واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

عنبرین فاطمہ معروف صحافی احمد نورانی کی اہلیہ ہیں جو چند برس قبل بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے۔ تاہم احمد نورانی نے عنبرین فاطمہ پر حملے کے واقعے کو ان کی اس حالیہ خبر سے جوڑنے کی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں نے ملک کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو پر بات کی تھی۔

ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’میڈیا کے کچھ لوگ اور دوست لاہور میں حملے کے واقعے کو میرے ساتھ اور ثاقب نثار کی (مبینہ) آڈیو سے متعلق میری حالیہ سٹوری سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ غلط ہے۔‘

’میں نے کئی بار کہا ہے اور دہراتا ہوں کہ ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن کو ثاقب نثار کے خلاف تمام الزامات کی تفتیش کرنی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ چار برس قبل احمد نورانی پر دارالحکومت اسلام آباد میں حملہ کیا گیا تھا۔ اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے قریب تین موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے زبردستی ان کی گاڑی کو روکا اور پھر اُنھیں گاڑی سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

احمد نورانی حال ہی میں ایک بار موضوع بحث اس وقت بنے جب انھوں نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب آڈیو کلپ اپ لوڈ کیا اور خبر شائع کی۔ اس آڈیو میں دو افراد کی گفتگو سنی جا سکتی ہے، گفتگو کرنے والے دونوں افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے مگر وہ گفتگو کے دوران ملک کے سابق وزیراعظم 'نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاؤں کے لیے ’دباؤ ڈالنے' کی بات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

واقعہ کیسے پیش آیا؟

عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ وہ اپنے ایک سالہ بیٹے اور ڈھائی سالہ بیٹی اور بہن کے ہمراہ گھر سے گاڑی پر نکلی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’معمول میں تو اس وقت میں روزانہ واک کر رہی ہوتی ہوں لیکن بچوں کو بہلانے کے لیے میں نے انھیں قریبی ریسٹورنٹ میں لے جانے کا سوچا۔ ابھی میں اپنے گھر کی گلی جو کہ تاج پورہ سکیم میں موجود ہے کی ساتھ والی گلی کی جانب مڑی ہی تھی کہ ایک نامعلوم شخص نے دائیں جانب سے آکر میری گاڑی کی وِنڈ سکرین کو ہٹ کیا۔‘

عنبرین نے بتایا کہ نامعلوم شخص نے تین سے چار بار کسی چیز سے ’میری گاڑی کو ہِٹ کیا اور ونڈ سکرین کی کرچیاں ٹوٹ کر اندر آ گریں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے دونوں بچے اور بہن پیچھے بیٹھے تھے اور جیسے ہی یہ واقعہ پیش آیا۔ ’میں نے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھے اور بہن اور بچوں کو پکارا جنھیں ان کی بہن نے نیچے جھکا لیا تھا۔‘

عنبرین فاطمہ بتاتی ہیں کہ اس موڑ پر ’میں نے اپنی گاڑی کو بالکل آہستہ کر دیا تھا تاکہ میری بیٹی آگے آ کر بیٹھ سکے لیکن یہ حملہ آور کہاں سے آیا اور پھر کہاں چلا گیا مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔‘

بچوں کو گھر چھوڑنے کے بعد عنبرین فاطمہ اپنے والد کے ہمراہ پولیس سٹیشن گئیں۔

پولیس نے ان کی گاڑی کا جائزہ لینے کے بعد ایف آئی آر درج کی اور پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

عنبرین کی جانب سے درج ایف آئی آر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی کسی سے کوئی رنجش نہیں اور نہ ہی کسی پر کوئی شبہ ہے۔ عنبرین فاطمہ معروف اخبار روزنامہ نوائے وقت اور ویب سائٹ ’ہم سب‘ کے لیے کالم لکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے ان کے ساتھ ایسا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس ابھی ان سے پوچھ گچھ ہی کر رہی ہے تاہم انھیں کچھ یاد نہیں کہ حملہ آور کا حلیہ کیا تھا اور دھمکیاں دیتے ہوئے اس کا لہجہ کس علاقے کے لوگوں سے ملتا تھا۔