آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نوشین کاظمی کی موت سانس گھٹنے کی وجہ سے ہوئی: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
سندھ میں ایک میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نوشین کاظمی کی ہلاکت کے بعد ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ رسے سے لٹکنے کے باعث سانس کا گھٹنا قرار دی گئی ہے تاہم یہ واقعہ خودکشی ہے یا قتل، اس کا تعین تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
پوسٹ مارٹم ٹیم میں شامل ایک ڈاکٹر کے مطابق لاش کے چار پانچ گھنٹے لٹکے رہنے کی وجہ سے گردن کا سائز دو تین انچ بڑھ گیا ہے۔
پولیس نے اس معاملے پر ابھی کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم طالبہ کے والد ہدایت اللہ کاظمی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی خودکشی نہیں کر سکتی۔
ہدایت اللہ کاظمی نے دادو میں نوشین کی تدفین کے بعد بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری بیٹی سولہ سولہ گھنٹے پڑھتی تھی، وہ تہجد گزار تھی، وہ کیسے خودکشی کرسکتی ہے؟ ہمیں اس پر یقین نہیں۔‘
واضح رہے کہ بدھ کو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں واقع شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل سے نوشین کی گلے میں پھندہ لگی ہوئی لاش ملی تھی۔
اس سے قبل کمرے سے دو نوٹ بھی ملے ہیں، پولیس ترجمان کے مطابق ایک نوٹ پیڈ کے قریب اور ایک الماری سے ملا ہے اور دونوں میں تقریباً ایک ہی طرح کا پیغام ہے۔
بیڈ سے ملنے والے نوٹ پر رومن میں تحریر ہے کہ ’میں خود اپنی مرضی سے ہینگنگ کرنے جا رہی ہوں، نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں۔‘
واضح رہے کہ نوشین کاظمی کی لاش پانچ سے چھ گھنٹے پنکھے سے ہی لٹکتی رہی جب تک کہ اس کے والدین نہیں پہنچ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہدایت کاظمی کے مطابق وہ کمرے میں داخل ہوئے تو لاش سامنے لٹکی ہوئی تھی اور دروازے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ انھوں نے دونوں نوٹس کی تصاویر لیں تاکہ نوشین کی والدہ سے جو پروفیسر ہیں، لکھائی کی شناخت کرائیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق پنکھے سے نوشین کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اور ان کی انگلیوں پر بھی مٹی کے نشان موجود تھے۔
نوشین کے والد ہدایت کاظمی کے چار بچے ہیں اور نوشین ان میں دوسرے نمبر پر تھیں۔ ایک ہفتہ قبل ان کی بڑی بیٹی کی منگنی تھی جس میں شرکت کے بعد نوشین واپس ہاسٹل گئی تھیں۔ ہدایت کاظمی کے مطابق رات کو ان کی بیٹی سے ٹیلیفون پر بات ہوئی تھی جس میں انھوں نے کسی خدشے، پریشانی وغیرہ کا اظہار نہیں کیا تھا۔
پولیس نے نوشین کا ٹیلیفون بھی برآمد کیا ہے جو الماری میں موجود تھا۔ والد کے مطابق انھوں نے کمرے میں سے موبائل پر کال کی جس کی آواز الماری سے آ رہی تھی جہاں موبائل فون موجود تھا جو پولیس نے تحویل میں لیا ہے۔
واقعہ کب پیش آیا؟
یہ واقعہ بدھ کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر 2 میں پیش آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر لاڑکانہ احمد علی سومرو کا کہنا ہے کہ نوشین کاظمی کی روم میٹ باہر گئی ہوئی تھی، وہ کمرے میں اکیلی تھی۔
’دو تین گھنٹے کے بعد روم میٹ واپس آئی تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا تو انھوں نے آواز دے کر بلایا اور جب جواب نہیں ملا تو کھڑکی میں جالی لگی ہوئی تھی اس میں سوراخ کر کے دیکھا تو اندر لاش تھی۔‘
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کی لڑکیوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن ان سے نہیں کھلا اس کے بعد وارڈن کو بتایا گیا تو کالج انتظامیہ نے دروازہ کھولا لیکن کسی چیز کو چھیڑا نہیں۔
اس کمرے کے کونے میں موجود رائیٹنگ ٹیبل کے اوپر نوشین کے دونوں پاؤں تھے، جو ہوا میں نہیں بلکہ ٹیبل کی سطح پر تھے جبکہ رسا اوپر چھت کے پنکھے میں بندھا ہوا تھا جو تھوڑا سے جھکا ہوا تھا اور رسے کا آخری سرا پھندے کی صورت میں نوشین کے گلے میں موجود تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ پولیس نے لڑکی کے والد کا انتظار کیا اور اس کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ اُن کے مطابق کمرے کے سامنے یا پیچھے ایسی کوئی جگہ نہیں جس سے اندر گھسا جا سکے۔
نوشين کاظمی کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا۔ ان کے نانا استاد بخاری سندھ کے نامور شاعر اور استاد رہے ہیں ان کے والد سید ہدایت شاہ محکمہ سوشل ویلفئیر میں چائلڈ پروٹیکشن افسر ہیں۔
یونیورسٹی کے ترجمان عبدالصمد بھٹی کا کہنا ہے کہ ’وہ سی سی ٹی فوٹج بھی محفوظ بنائیں گے اور پولیس کے علاوہ یونیورسٹی کی محکمہ جاتی تحقیقات بھی ہو گی۔`
مزید پڑھیے
نوشین کی کمرے سے لاش ملنے کی اطلاع پر بڑی تعداد میں طلبہ اور طالبات ہاسٹل کے باہر جمع ہوگئے اور انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔
سندھیانی تحریک کی رہنما مرک منان چانڈیو کا کہنا تھا کہ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں اس سے نہیں لگتا کہ یہ خودکشی کا واقعہ ہے دو سال قبل نمرتا کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اگر اس کے ساتھ انصاف ہوتا یہ لاش نہیں ملتی۔
یاد رہے کہ میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والی نمرتا چندانی لاڑکانہ میں واقع آصفہ بی بی ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں اور اسی کالج کے ہاسٹل کے کمرہ نمبر تین سے پیر کی شب ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
نمرتا کی موت کی وجہ گلے کا گھٹنا قرار دی گئی تھی تاہم ان کے خاندان نے اس توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا اس کی تحقیقات بھی ہوئی لیکن رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسٹس فار نوشین کاظمی ٹرینڈ جاری رہا جس میں صارفین نے خودکشی پر شک و شبہات کا اظہار کیا۔
ماہ سنگھ پرمار لکھتے ہیں کہ ’یہ ہی ہاسٹل دو سال قبل چوتھے سال کی طالبہ نمرتا کے قتل کا گواہ ہے یہ ادارہ کیوں کلنگ فیلڈ بنا ہوا ہے۔‘
سورٹھ سندھو لکھتی ہیں کہ ’چوتھے سال کی طالبہ روم میں مردہ حالت میں پائی گئی، تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے پیر ٹیبل پر ہیں اور رسا چھت کے پنکھے میں بندھا ہوا ہے اس کو خودکشی کا رنگ دیا جارہا ہے۔ یہ پہلا کیس نہیں اس کی شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔‘
آزاد علی لکھتے ہیں کہ ’نوشین کاظمی 4 برسوں سے ایک خواب دیکھ رہی تھیں کہ میں اپنا خواب پورا کرکے معاشرے میں ڈاکٹر بنوں گی، سوچیں ایسا فرد کیسے خودکشی کرسکتا ہے؟‘
انھوں نے مزید لکھا: ’ہر قتل کے کو خودکشی کا رنگ دیگر قتل کو ڈبونے کی کوشش کی جاتی ہے آخر کب تک ہم خودکشیں کے نام پر لاشیں اٹھائیں گے۔‘