آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نمرتا چندانی کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ سندھ میں وزارتِ داخلہ نے لاڑکانہ میں ہندو طالبہ نمرتا چندانی کی ہلاکت کے سلسلے میں عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں دو افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والی نمرتا چندانی لاڑکانہ میں واقع آصفہ بی بی ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں اور اسی کالج کے ہاسٹل کے کمرہ نمبر تین سے پیر کی شب ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
نمرتا کی موت کی وجہ گلے کا گھٹنا قرار دی گئی تھی تاہم ان کے خاندان نے اس توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نمرتا چندانی کے گلے پر نشانات موجود ہیں لیکن ان کی موت کی وجہ اس حوالے سے مکمل اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے وقت نمرتا کے بھائی موجود تھے جبکہ واقعے کے وقت کمرہ اندر سے بند تھا لیکن اس کے باوجود پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ خودکشی تھی یا قتل۔‘ انھوں نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے میں دو تین دن لگ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافی علی حسن کے مطابق لاڑکانہ پولیس نے نمرتا کی ہلاکت کے سلسلے میں بدھ کو دو طالبعلموں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں افراد کو اس کیس کے حوالے سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔
نمرتا کے اہلخانہ کی درخواست کے بعد سندھ حکومت نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یہ تحقیقات کریں گے۔
یہ عدالتی تحقیقات ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کو ان تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے بھی کہا گیا ہے۔
اس سے قبل سندھ کے وزیرِ اطلاعات سعید غنی نے کہا تھا کہ حکومت نمرتا کیس کی تحقیقات ورثا کے نامزد پولیس افسر سے کروانے کے لیے تیار ہے۔
ادوسری جانب نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال چندانی نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو مسترد کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے حکام نے جو فائنڈنگ لکھی تھیں اس میں دونوں ہاتھوں اور ٹانگوں پر زخم پر نشانات تھے لیکن ابتدائی رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
’انھوں نے کہا کہ گیارہ، بارہ بجے رپورٹ دیں گے لیکن پانچ بجے کے بعد ہمیں رپورٹ بھیجی ہے اس میں کہا کہ وی شیپ نشان ہے میرے پاس ایکسرے موجود ہے جس میں ظاہر ہے کہ بلیک کلر کا نشان واضح ہے، لہذا اس رپورٹ سے ہم بلکل مطمئن نہیں ہیں واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔‘
منگل کی شب کراچی میں تین تلوار پر ہندو کمیونٹی کی جانب سے نمرتا کے قتل کی شفاف تحقیقات کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیر مکیش چاولہ پہنچے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ان سے مذاکرات نہیں کرتے اور انصاف کی یقین دہانی نہیں کراتے احتجاج جاری رہے گا۔
مکیش چاولہ کے ہمراہ بعد میں صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب بھی پہنچے انھوں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ہاسٹل وارڈن کو معطل کیا جائے گا جبکہ وائس چانسلر کو شو کاز نوٹس جاری ہوگا کیونکہ بغیر شو کاز کے وائس چانسلر کو ہٹایا نہیں جاسکتا، انھوں نے مظاہرین کی جانب سے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے مطالبے کو بھی قبول کیا۔
اس سے قبل شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمان نے منگل کو نمرتا کے لواحقین کے پاس جاکر تعزیت کی اور کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں تاہم لواحقین نے ان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں صرف عدالتی تحقیقات منظور ہے۔