لیلیٰ پروین: تحریک انصاف کی رکن کا سابق شوہر پر ’منصوبہ بندی‘ کے ذریعے کراچی کی عدالت میں تشدد کروانے کا الزام

لیلی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Laila Parveen

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

’ایک طرف دیوار تھی۔ دوسری جانب وکلا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور دھکے دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم خود کو بچانے کے لیے دوسری عدالت کے کمرے میں چلے گئے لیکن وہاں بھی وکلا گھس آئے اور انھوں نے لاتوں اور گھونسوں سے ہمیں مارا اور عدالت کے اندر بالوں سے گھسیٹا۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رہنما لیلیٰ پروین کا جن پر کراچی میں ملیر کی مقامی عدالت میں وکلا کی جانب سے تشدد کیے جانے کی ویڈیو گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

کراچی کی مقامی عدالت میں پی ٹی آئی کی رہنما لیلیٰ پروین اور ان کے بھائی پر تشدد کرنے کے الزام میں 22 وکلا پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ملیر سٹی تھانے میں دائر مقدمے میں لیلیٰ پروین نے مؤقف اختیار کیا کہ پانچ سال قبل ان کی ایک شخص کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی ہے۔ تاہم رواں سال جون میں اُن کی طلاق ہو گئی تھی۔

لیلیٰ کے شوہر ایک وکیل ہیں اور کراچی بار کونسل کے رکن بھی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق لیلیٰ کے سابق شوہر نے اُن (لیلیٰ) کے بھائی سے 65 لاکھ روپے قرضہ لیا تھا اور اس قرضے کی مد میں ایک چیک دیا تھا۔

چیک باؤنس ہونے کے بعد اُن کے بھائی نے لیلیٰ کے سابق شوہر کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ درج کروایا اور 21 نومبر کو پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

لیلیٰ پروین بتاتی ہیں کہ 22 نومبر کو تفتیشی افسر ملزم کو ملیر کورٹ میں لے کر آئے اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ ملیر کورٹ میں مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں آئی تھیں۔

لیلیٰ کا دعویٰ ہے کہ جب وہ عدالت پہنچیں تو صبح پونے گیارہ بجے کورٹ میں موجود ملزم (ان کے سابقہ شوہر) کے کہنے پر ان کے چند ساتھی وکلا نے انھیں پستول دکھاتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور مقدمے کی پیروی نہ کرنے کو کہا جس پر انھوں نے انکار کیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایف آئی آر کے مطابق اس انکار کے بعد 25 وکلا نے لیلیٰ اور ان کے بھائی پر حملہ کر دیا اور انھیں اور ان کے بھائی کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

’یہ ملزمان مجھے کورٹ میں بالوں سے گھسیٹتے رہے۔ اس کے دوران میرے چہرے پر اور آنکھ کے دائیں جانب زخم آئے جبکہ پاؤں کی درمیانی انگلی ٹوٹ گئی۔‘

ملیر سٹی پولیس نے لیلیٰ کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

لیلیٰ پروین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وکلا نے ان پر تشدد کرنے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’عدالت کے گیٹ پر سیاہ کوٹ اوپر کر کے ہمیں اسلحہ دکھا کر ڈرایا دھمکایا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے میرے بھائی کے ساتھ بدتمیزی کرنی شروع کی اور کہا کہ وکلا کو گالی دی گئی ہے۔ میں نے بھائی کو پیچھے کیا کہ میں ایک عورت ہوں تو وہ مجھ سے تمیز سے پیش آئیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلا نے ان پر الزام لگایا کہ وہ انھیں گالیاں دے رہی ہیں۔

لیلیٰ کے مطابق ’میں نے کہا کہ میں وکیل کے ساتھ آئی ہوں۔ انصاف کے لیے آئی ہوں۔ وکلا کو کیوں گالی دوں گی۔ انھوں نے انتہائی بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ میں ایک عورت ہوں۔ میں ایک پڑھی لکھی بااثر سیاسی خاتون ہوں۔ اب یہ سوچیں کہ ایک عام عورت کے ساتھ کیا ہوتا گا۔‘

لیلیٰ پروین کا ماضی میں سیاسی تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا۔ تاہم انھوں نے سنہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ رواں سال جنوری میں پولیس نے مبینہ طور پر اُن کے ڈرائیور کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ملیر بار کے صدر لطف اللہ سیلرو کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے وکلا برادری کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور اس واقعے میں ملوث وکلا کے لائسنس منسوخ ہونے چاہییں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کراچی بار کونسل کے رکن ہیں اور کراچی بار اور سندھ بار کونسل ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

دوسری جانب لیلیٰ پروین کے سابق شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی سابق اہلیہ گذشتہ روز گاڑی بھر کر باہر کے لوگوں کو سیاہ کوٹ پہنا کر عدالت میں لائی تھیں اور انھوں نے سارا ڈرامہ رچایا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ تو پولیس تحویل میں تھے اور اُن کی تو دو بجے کے بعد ضمانت ہوئی ہے جبکہ یہ واقعہ پہلے پیش آیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب سے ان کی لیلیٰ پروین سے علیحدگی ہوئی ہے وہ مسلسل جعلی ایف آئی آر درج کروا رہی ہیں جو مختلف شہروں میں دائر کی گئی ہیں۔

لیلی کے سابق شوہر نے دعویٰ کیا کہ جب انھوں نے گھر چھوڑا تو ان کے چیک بکس وہیں رہ گئی تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ لیلٰی نے اُن پر جعلی دستخط کرائے اور اس کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کروایا۔