محمد زادہ آگرہ: تحریکِ انصاف کے حامی اور مالاکنڈ کے سماجی کارکن کے قتل کے الزام میں دو افراد گرفتار

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے سخاکوٹ میں انتظامیہ نے گذشتہ دنوں قتل ہونے والے سیاسی و سماجی کارکن محمد زادہ آگرہ کے مبینہ قاتلوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مالاکنڈ محب اللہ یوسفزئی نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا ہے کہ قتل کی اس واردات میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار ملزمان سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا موٹر سائیکل بھی برآمد ہوا ہے۔

یاد رہے کہ آٹھ نومبر کی شب نامعلوم افراد نے محمد زادہ آگرہ کو ان کے گھر کے سامنے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد لواحقین اور مقامی افراد کے احتجاج کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔

محمد زادہ مالاکنڈ اور سخاکوٹ میں سیاسی و سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ زمانہ طالب علمی میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن مالاکنڈ کے صدر اور وزیر اعظم عمران خان کے چاہنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر محب اللہ یوسفزئی کے دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اس قتل کو لین دین کا تنازع بتایا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ ملزماں کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

محب اللہ یوسفزئی کے مطابق امید ہے کہ محمد زادہ آگرہ کے قتل کے بعد شروع ہونے والا احتجاج ختم ہوجائے گا۔ 'ہمارے امن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ہم نے ملزموں کی گرفتاری سمیت احتجاج کرنے والوں کے تقریباً تمام مطالبات منظور کر لیے ہیں۔

عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد بھی محمد زادہ تحریک انصاف کے ساتھ منسلک رہے مگر انھیں زیادہ شہرت علاقے میں منشیات فروشی اور جرائم کے خلاف آواز اٹھانے پر ملی تھی۔ وہ نہ صرف سوشل میڈیا کا استعمال کرتے تھے بلکہ عوامی اجتماعات میں بھی مقامی انتظامیہ اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے تھے۔

محمد زادہ آگرہ کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا اور قتل کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ عہدے سے فارغ

واضح رہے کہ سخاکوٹ میں واردات کے بعد محمد زادہ کے عزیز و قارب کی جانب سے ان کی میت کے ہمراہ احتجاج کیا گیا تھا اور مظاہرین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسٹنٹ کمشنر کے خلاف اس قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس مطالبے کو سوشل میڈیا پر حمایت ملی تھی۔

تاہم انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد محمد زادہ کی تدفین کر دی گئی تھی تاہم مظاہرین کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رشید احمد کے مطابق احتجاج ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ میت کو بیحرمتی سے بچانے کے لیے دفن کر کے حکومت اور انتظامیہ کو قاتلوں کو گرفتار کرنے کی تین دن کی مہلت دی گئی تھی۔

اس احتجاج کی ایک بڑی وجہ مقتول کی وہ سوشل میڈیا پوسٹ تھی جو انھوں نے 12 اکتوبر کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی تھی۔ اس میں محمد زادہ نے الزام لگایا تھا کہ ’ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ میرے مخالفین اور سیاسی مداریوں کی منصوبہ بندی اور سازش کے تحت مجھے ہراساں کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔‘

پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’اگر اس منصوبہ بندی اور ’ناپاک سازش‘ پر ناجائز عمل درآمد کے نتیجے میں مجھے کچھ ہوا تو میرے خاندان کی تمام تر دعویداری ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ پر ہو گی۔‘

ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے ایسے تمام الزامات کی اُس وقت بھی تردید کی گئی تھی۔

تاہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دو مقامی افسران کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ گذشتہ منگل کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ محمد الطاف شیخ اور اسسٹنٹ کمشنر درگئی فواد خٹک کو عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

موٹرسائیکل اور دو مسلح افراد

ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محمد زادہ آگرہ کو کالج کالونی، سخاکوٹ میں قتل کیا گیا تھا اور واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی عبدالجلال کی مدعیت میں نامعلوم افراد پر درج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے

ابتدائی تفتیش کے دوران جائے واردات کے قریب واقع سکول سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ محمد زادہ آگرہ گاڑی میں ایک شخص کے ساتھ تقریباً آدھا گھنٹہ اپنے مکان کے باہر بیٹھے رہے۔

جب محمد زادہ گاڑی سے اتر کر گھر کی جانب بڑھے تو اس کے چند لمحوں بعد سخاکوٹ بازار کی جانب سے موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان نے قریب آ کر اُن پر فائرنگ کر دی اور پھر فرار ہو گئے۔

تفتیش کاروں کے مطابق جس فرد کے ساتھ گاڑی میں محمد زادہ آدھے گھنٹے تک بیٹھے رہے تھے، وہ مقتول کے دوست ہیں جن کی شناخت کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈرائیور کی جانب سے دیا جانے والا بیان اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مطابقت نہیں رکھتا جس سے شکوک و شہبات پیدا ہورہے ہیں اور پولیس اس شخص کو گرفتار کر چکی ہے۔

منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اٹھنے والی آواز خاموش

محمد زادہ کا قتل بہت روز سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہا تھا۔ ایک جانب سیاسی اور سماجی رہنماوں کی جانب سے حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا تو دوسری جانب یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک مضبوط مقامی آواز کو کیسے خاموش کرا دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے رکن اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ایک سماجی رہنما اور تحریک انصاف کے کارکن محمد زادہ منشیات، جرائم اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔

جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخواہ کے امیر اور سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ اس قتل کے خلاف سینٹ میں آواز بلند کریں گے۔ محمد زادہ کے قتل سے علاقے میں سوگ کا سماں ہے۔

صحافی سائر علی شاہ نے محمد زادہ کی ایک تقریر کی ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو قتل کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک مضبوط آواز تھے۔

خیبر پختونخواہ سے صحافی بلال یاسر کہتے ہیں کہ محمد زادہ نے منشیات کے خلاف علم بلند کر رکھا تھا۔ کیونکہ ان کے دو جوان سالہ کزن منشیات کے سبب زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس صوبہ خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹر جاوید خان محمد زادہ کے پڑوسی بھی ہیں۔ ان کے مطابق محمد زادہ کی سخاکوٹ میں منشیات کے خلاف مہم کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے اپنے خاندان کے کچھ افراد آئس اور ہیروئن کے نشے میں مبتلا ہو گئے تھے۔

جاوید خان کے مطابق محمد زادہ آگرہ اکثر کہتے تھے کہ ہمارے علاقے کے لوگ اور نوجوان بہت باصلاحیت ہیں، اگر یہ دھندے بند ہو جائیں تو ہمارے لوگ بہت ترقی کر سکتے ہیں۔