حدیقہ کیانی کے ڈرامے، شائستہ پرویز کی الیکشن مہم پر اعتراض اور عدت پر بحث

،تصویر کا ذریعہHUM TV
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
’ہدایت اللہ کی بیوی کے تو ذہن پر اثر ہو گیا ہے۔ تمہارا شوہر مرا ہے، تم رو نہیں رہی؟ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بالکل پاگل ہو گئی ہیں۔‘
یہ ایک ڈرامے کے ڈائیلاگ ہیں جو اس وقت ادا کیے جاتے ہیں جب شوہر کی وفات کے بعد بیوہ مختلف مواقع پر سوگ منانے کا وہ طریقہ اختیار نہیں کرتی جو معاشرے میں رائج ہے یا جس کی توقع کی جاتی ہے۔
لیکن یہ جملے حقیقی زندگی میں ادا ہوئے کہ ’عدت میں یوں لوگوں کے سامنے آنا کیسا ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ یہ عدت میں انتخابات کیسے لڑیں گی؟‘
یہ اور ان جیسی کئی باتیں پاکستان کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک سے متعلق یہ خبر سامنے آنے کے بعد دیکھنے کو ملے جب مسلم لیگ ن نے ان کے شوہر پرویز ملک کی وفات کے بعد اس حلقے سے شائستہ پرویز کو ہی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
اس دوران ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر ’سعدی‘ نامی ایک اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی جس میں وہ تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کے ساتھ بیٹھی ہیں۔ ان میں معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل بھی شامل ہیں۔
کئی لوگوں نے ان کی تصویر کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ دوران عدت مردوں کے سامنے بیٹھی ہیں۔
اس تنقید کے بعد مسلم لیگ نوں کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شائستہ پرویز ملک ’اسلامی احکامات کے مطابق عدت پوری کریں گی اور اپنی انتخابی مہم وہ خود نہیں بلکہ مسلم لیگ نوں اور ان کا خاندان چلائیں گے۔‘
تاہم اسی پر کئی ایسی آرا بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عدت سے متعلق معاشرے میں غلط معلومات اور روایات کی کمی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے لکھا کہ ’عدت میں نکاح کی اجازت نہیں جبکہ دیگر معمولات زندگی جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔‘
اسی طرح ایک اور صارف ناجیہ احتشام نے لکھا کہ ’اپنے گھر کی چاردیواری میں دیگر اہلخانہ کے ساتھ رہتے ہوئے تعزیت کے لیے آنے والوں سے ملاقات میں کوئی ممانعت نہیں۔‘
’ان کو شوہر یاد آتا ہے نہ اس کی محبت، عجیب خود غرض عورت ہے‘
پاکستان کے نجی ڈرامہ چینل ’ہم ٹی وی‘ پر حال ہی میں شروع ہونے والے ڈرامے ’دوبارہ‘ میں حدیقہ کیانی ایک ایسی بیوہ مہرالنسا کا کردار ادا کر رہی ہیں، جن کی شادی لگ بھگ پندرہ برس کی عمر میں ہوئی اور ان کے شوہر ہدایت اللہ (نعمان اعجاز) ان سے بیس سال بڑے تھے۔
یہ ڈرامہ بعض معاشرتی رویوں کے مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ کمر عمری کی شادی نے کیسے مہرو (مہرالنسا) کے خواب اور شخصیت کو متاثر کیا اور دوسرا یہ کہ شوہر کی وفات کے بعد ایک بیوہ سے معاشرے کی وابستہ توقعات کس قسم کی ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ مہرالنسا اپنے شوہر کی موت کا سوگ منانے کی بجائے ماضی کے ان دنوں کو یاد کر رہی ہیں جب ان کے شوہر ان پر مختلف پابندیاں عائد کرتے ہیں یا انھیں بتاتے ہیں کہ انھیں کیسا نظر آنا چاہیے۔
اور پھر مہرالنسا کے اردگرد موجود لوگ انھیں یہ بتاتے ہیں کہ شوہر کے مرنے پر ان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔
اس ڈرامے کی اب تک دو اقساط ریلیز ہوئی ہیں مگر اس میں شامل دونوں ہی عناصر یعنی کمر عمری کی شادی اور شوہر کی موت کے بعد ردعمل پر بات کی جا رہی ہے۔
ایک صارف نے یوٹیوب پر رائے دیتے ہوئے لکھا کہ ’ان کو شوہر یاد آتا ہے نہ اس کی محبت۔ عجیب خود غرض عورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/Hadiqa_Kiani
مریم نواز نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس کو کہتے ہیں احسان فراموش عورت‘ جبکہ متعدد صارفین نے کہا کہ ڈرامے میں ’عدت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔‘
مگر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس اہم معاملے کو سامنے لانے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے کہا کہ ’مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ مہرالنسا کو لوگ پاگل کیوں کہہ رہے ہیں۔ وہ پاگل نہیں ہیں۔ وہ پریشان ہیں اور انھیں اپنے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔ ہمارا کلچر زہریلا ہے۔‘
ریما شعیب نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’یہ ایک مختلف ایشو پر لکھا گیا ہے یعنی ان خواتین کے بارے میں جن کی شادی کم عمری میں ہو اور وہ کم عمری میں بیوہ بھی ہو جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہYouTube
مہرین منصور نامی ایک صارف نے لکھا: بالآخر کسی نے مہرو (مہرالنسا) کے کردار میں میری کہانی بیان کی یعنی ایک ایسی لڑکی جو وہ زندگی گزار رہی ہے جو اسے پسند ہی نہیں مگر اسی بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شوبز تجزیہ کار مہوش اعجاز کہتی ہیں کہ یہ ڈرامہ اس معاملے پر بات کر رہا ہے کہ ایک بیوہ خاتون کس اذیت سے گزر سکتی ہیں۔
’اس ڈرامے میں سکینہ سمو، مہرالنسا کی نند کا کردار نبھا رہی ہیں اور وہ ان رسوم و رواج کی آڑ میں ایسا لگتا ہے کہ ان کی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مہرالنسا پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ تم رو، سر پر دوپٹہ لو، تم پاگل کیوں ہو گئی ہو۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’شوہر کی موت عام طور پر ایک ٹراما اور تباہ کرنے والا مرحلہ ہوتا ہے مگر مہرالنسا کے کردار میں یہ تجربہ بھی مختلف ہے۔ وہ طویل مدت تک ایک گھٹن والے رشتے میں رہی ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ صرف خود کو آزاد محسوس کر رہی ہیں بلکہ وہ تو کنفیوژ نظر آتی ہیں کہ اب وہ کیا کریں۔‘
’انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اب وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیا کریں کیونکہ انھوں نے چھوٹی عمر میں ایک بڑے آدمی کے احکامات لے کر زندگی گزاری۔‘
























