آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ: وزیرآباد کے اللہ والا چوک، گجرات اور جہلم کے رہائشیوں کی پریشانی
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
’خوف میں جی رہے ہیں۔ بچوں کو سکول تو کیا باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے کہ پتا نہیں کس وقت لڑائی شروع ہو جائے اور پھر پتا نہیں کیا بنے۔ تقریباً دوسرا دن ہے کہ تحریک لبیک نے ہمارے سامنے ہی آبادی کے بیچوں بیچ ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ہر وقت لاوڈ سپیکر کی آوازیں سن رہے ہیں۔‘
یہ کہنا تھا پنجاب کے شہر وزیر آباد کے اللہ والا چوک کے قریب آبادی کے ایک رہائشی نعیم کا۔
تحریک لبیک کا قافلہ جو گزشتہ ہفتے لاہور سے چلا تھا گزشتہ روز جمعے کی شام وزیر آباد پہنچ گیا تھا۔ سنیچر کی شام تک انھوں نے وزیر آباد کے سب سے مصروف اور جی ٹی روڈ پر واقع چوک اللہ والا پر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور اب جماعت نے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا سنیچر کو وہیں رکیں گے۔
نعیم کہتے ہیں کہ ’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لبیک کے لوگ ہر وقت اس حالت میں کھڑے ہوتے ہیں کہ ابھی انھیں حکم ملے گا اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہوں گے جبکہ ایسی ہی صورتحال پولیس اور رینجرز کی بھی ہے۔ میں نے اپنی اہلیہ کے مشورے سے کل ہی کچھ دنوں کی ضرورت کا راشن اپنے گھر میں ڈال دیا تھا کہ پتا نہیں کیا حالات پیدا ہو جائیں۔‘
وزیر آباد کے اللہ والا چوک کے ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر بچے، خواتین اور بوڑھے ہو رہے ہیں۔ ’بچے گھر سے باہر نکلنے کی ضد کرتے ہیں مگر ہم انھیں کچھ نہ ہو جائے کہ خوف سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔ آخر کتنے دن ہم بچوں کو روک سکتے ہیں۔‘
وزیر آباد کے بعض رہائشی اپنی زندگی اور علاقے میں پہلی بار ایسے مناظر دیکھ رہے ہیں اور وہ ’دعا کر رہے ہیں کہ یہ آخری ہوں‘۔
وزیر آباد میں صورتحال کیا ہے؟
وزیر آباد کے صحافی صابر حسین بٹ بتاتے ہیں کہ سنیچر کو تحریک لیبک کے قافلے نے اللہ والا چوک سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اللہ والا چوک میں ایک کلو میٹر کے علاقے میں کوئی بھی پولیس کی رکاوٹیں نہیں ہیں اور نہ ہی پولیس اور رینجرز کی کوئی نفری تعنیات ہے۔
مقامی صحافی کے مطابق ’اللہ والا چوک سے کوئی دو کلو میٹر آگے گجرات کی طرف سبزی منڈی کے مقام کے پاس رینجرز اور پولیس کے ناکے اور رکاوٹیں ہیں۔ وہ ایسا مقام ہے جہاں پر قریب قریب زیادہ آبادی بھی موجود نہیں ہے۔‘
صابر حسین بٹ کے مطابق ’جب تحریک لبیک کا قافلہ چل پڑا تو اس بات کا غالب امکان تھا کہ قافلے کو سبزی منڈی کے مقام سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔ قافلہ اللہ والا چوک سے بہت آہستہ آہستہ چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ قافلے کے شرکا کا رویہ بھی بتا رہا تھا کہ وہ سبزی منڈی کے قریب رینجرز اور پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قافلہ کوئی ایک کلو میٹر چلا ہوگا کہ اس کے بعد سٹیج سے اعلان ہوا کہ شرکا واپس اللہ والا چوک چلے جائیں جہاں پر قائدین کی جانب سے آگلے اعلان تک رکا جائے گا۔ ہمیں قافلے کے قائدین اور شرکا نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ انھیں اسلام آباد سے تحریک کے قائدین نے واپس ہونے اور آگلے لائحہ عمل کا انتظار کرنے کو کہا ہے۔‘
صابر حسین بٹ کے مطابق ’ان کے ساتھ مقامی لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ مقامی لوگ قافلے کے شرکا کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کر رہے ہیں جبکہ شرکا نے خود بھی وزیر آباد شہر سے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدی ہیں۔‘
یاد رہے کہ کلعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے ایک ترجمان امجد رضوی کے مطابق سنیچر کو وزیرآباد میں رکنے کا اعلان مرکزی قائدین کی طرف سے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے بقول حکومت اور ان کی جماعت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور جب تک پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی حکم جاری نہیں ہوتا وہ وزیر آباد میں ہی رکیں گے۔
مقامی صحافی نے مزید بتایا کہ ’جی ٹی روڈ پر کچھ دوکانیں کھلی ہیں جبکہ وزیر آباد شہر میں ساری ہی مارکیٹیں کھلی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے سکول بند نہیں ہوئے مگر کچھ نجی سکولوں نے خود سکول بند کر دیے تھے۔‘
لاہور اور سیالکوٹ کے راستے کھلے ہیں جبکہ گجرات کو ملانے والے چناب پل کے بند ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
چناب پل ممنوعہ علاقہ قرار
تحریک لیبک کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی وجہ سے اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ گجرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گجرات سے اسلام آباد راولپنڈی اور لاہور جانے والے تمام راستے بند ہیں۔
گجرات کے رہائشی مسکین عابد نے بتایا کہ ’کئی دن ہوگئے ہیں اسلام آباد اور لاہور جانے والے راستے بند ہیں۔ کئی لوگ انتہائی ضروری کاموں کے لیے بھی گجرات سے باہر سفر نہیں کر پارہے ہیں۔ ابھی تک تو ضرورت کی اشیا کی کوئی قلت محسوس نہیں ہو رہی ہے مگر ایک دو دن اور راستے بند ہوئے تو شاید ایسا بھی ہوجائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
مسکین عابد کا کہنا تھا کہ ’بازار، مارکیٹیں، سکول و کالج تو کھلے ہیں۔ مگر میں خوف کی وجہ سے اپنی بچیوں اور بچوں کو سکول و کالج نہیں بھج رہا ہوں۔ اس طرح ہمارے کئی جاننے والے بھی اپنے بچوں کو نہیں بھج رہے ہیں۔ پہلے تو ہمارا خیال تھا کہ شاید یہ صورتحال ایک دو دن میں ختم ہو جائے مگر اب تو لگتا ہے کہ یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی لمبا ہوگا۔‘
گجرات کے صحافی عامر بٹ نے سنیچر کو گجرات کو باقی بڑے شہروں سے ملانے والے چناب پل کا دورہ کیا ہے۔ عامر بٹ کہتے ہیں کہ چناب پل پر اس وقت رینجرز اور پولیس نے سینکڑوں کنٹینرز کھڑے کر کے ان میں مٹی اور ریت بھر دی ہے اور کئی مقامات پر کھدائی بھی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی شہری کو چناب پل کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ میرا تو اندازہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مظاہرین کو کسی بھی صورت میں چناب پل کراس نہیں کرنے دینا ہے۔ جی ٹی روڈ سے گجرات آنے کے لیے چناب پل واحد راستہ ہے اس کا کوئی متبادل بھی موجود نہیں ہے۔‘
دریائے جہلم پر بھی رکاوٹیں: سنیچر کو بارات لے کر گوجرانوالہ جانا تھا
جہلم کے رہائشی زبیر میر کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگوں نے سنیچر کو بارات لے کر گوجرانوالہ جانا تھا مگر موجودہ صورتحال میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح دلہن کو لے کر آجاتے ہیں جبکہ ولیمہ اور دیگر فنکشن ملتوی کر دیے ہیں کہ حالات بہتر ہوں گے تو پھر یہ فنکشن کرلیں گے۔‘
زبیر میر کا کہنا تھا کہ ’بازار اور مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں۔ اسلام آباد راولپنڈی جانے والے راستے بھی کھلے ہیں مگر جہلم پل بند ہونے کی وجہ سے لاہور جانے والا جی ٹی روڈ بند پڑا ہے۔ جنرل بس سٹینڈ میں اسلام آباد راولپنڈی اور موٹر وے کے راستے لاہور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہے مگر جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والی گاڑیاں دستیاب نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عام ضرورت کی اشیا دستیاب ہیں مگر روز مرہ استعمال کی اشیا جن میں سبزیاں، پھل، انڈے، مرغی، گوشت وغیرہ شامل ہے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ سنیچر کو ٹماٹر ڈیڑہ سو کلو اور بیف گوشت پانچ سو روپیہ کلو فروخت ہو رہا ہے۔ دکان دار کہہ رہے تھے ان اشیا کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے جس وجہ سے یہ مہنگی ہوچکی ہیں۔‘
جہلم سے صحافی جرار حسین میر کا کہنا تھا کہ ’دریائے جہلم کے پل پر زبردست ناکہ بندی ہے۔ یہ وہ پل ہے جو لاہور اور جہلم کو ملاتا ہے۔ اس پل پر بڑی بڑی رکاوٹیں ہیں جبکہ رینجرز کے چاک و چوبند دستوں کی پولیس اہلکار مدد کر رہے ہیں۔‘
دریائے جہلم ’آخری دفاعی لائن قرار‘
بی بی سی کو پنجاب اور وفاق کے وزارت داخلہ کے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق حکومت کی جانب سے مظاہرین کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ اور پنجاب نے مظاہرین کو روکنے کی مشترکہ حکمت عملی تیار کی ہے۔
اس میں وزیرآباد کے سبزی منڈی کے علاقے کو پہلی دفاعی لائن، گجرات کو ملانے والے چناب پل کو دوسری دفاعی لائن اور دریائے جہلم کے پل کو تیسری اور آخری دفاعی لائن قرار دیا گیا ہے۔
وزیر آباد کے سبزی منڈی کے علاقے، دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ مظاہرین کو عملاً روکنے کی ذمہ داری رینجرز کی ہوگی۔
ایک حکومتی عہدیدار کے مطابق ’ہمارا نہیں خیال کہ جہلم اور چناب پل کو کراس کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ہونے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جائے گئی۔‘
تحریک لبیک کو ’امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے‘
تحریک لبیک کے مطابق وہ بھی اپنی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں لیکن ’فی الحال تو ہمیں امید ہے کہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں حکومتی وفد سے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ضرورت پڑنے پر وزیر آباد کی سبزی منڈی، چناب اور جہلم پل پر رکاوٹوں کا ہمیں اندازہ ہے اور ہمیں پتا ہے کہ کس طرح ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔‘
یاد رہے کہ کلعدم تحریکِ لبیک پاکستان نے ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی قیادت کے راولپنڈی میں حکومتی وفد سے مذاکرات ہوئے ہیں جس میں انھوں نے اپنے مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں۔
تاہم حکومت کی جانب سے تاحال ان مذاکرات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق تحریکِ لبیک کے مطابق اُن کے قائدین نے جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی قیادت میں یہ ملاقات کی جبکہ حکومتی وفد میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی اُمور علی محمد خان شامل تھے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ حکومتی وفد مطالبات لے کر وزیرِ اعظم کے پاس گیا ہے جہاں سے منظوری کے بعد سنیچر کی شام 'حتمی مذاکرات' متوقع ہیں۔