میڈیکل کالج مظفرآباد: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین کو ’ہراساں اور بلیک میل‘ کرنے کے الزام میں کالج انتظامیہ کا سابق اہلکار پولیس کی حراست میں

،تصویر کا ذریعہAJKMC
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جہاں کہا جاتا ہے کہ لگ بھگ ہر شخص ایک دوسرے کو جانتا ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات زبان زد عام ہو جاتی ہے۔ شہر کی ہر گلی ہر زبان پر اس وقت ڈھکے چھپے یا مشتعل انداز میں ایک ہی ذکر ہے، وہ ہے یہاں حال ہی میں سامنے آنے والا جنسی ہراسانی سکینڈل۔
کچھ دن پہلے آزاد جموں کشمیر میڈیکل کالج مظفرآباد کے ایک سابق اہلکار کی مبینہ طور پر مختلف خواتین کے ساتھ نازیبا تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔
ان ویڈیوز میں اہلکار کو ان خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر نہ صرف چار دیواری بلکہ گاڑی میں بھی جنسی عمل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ ویڈیوز اور تصاویر میں یہ ویڈیو کال پر خود بھی برہنہ ہو کر خواتین سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہتے دیکھا گیا۔
مظفرآباد میں عوامی سطح پر ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ملزم پر کالج کی طالبات کو بلیک میل کرنے اور ان کا جنسی استحصال کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ اس معاملے میں اس شخص سے ساتھ مزید لوگ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس مبینہ نیٹ ورک کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مطالبات احتجاج میں بدل گئے۔ احتجاجی مظاہروں کے بعد پولیس کو خود آگے بڑھ کر ویڈیو میں قابل شناخت ملزم کے خلاف مقدمہ درجہ کرنا پڑا۔
پولیس نے مقامی میڈیکل کالج کے ایک سابق ایڈمن افسر کے خلاف ہراسانی اور بلیک میلنگ کا مقدمہ دائر کر کے اسے حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس کی مدعیت میں درج کیے جانے والے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انھیں بلیک میلنگ کی غرض سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون میں محفوظ کرتا رہا۔ جو کہ اب سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں نظر آنے والی خواتین کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ تصاویر کس طرح وائرل ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملزم کی لڑکیوں کے ساتھ نازیبا تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد مظفرآباد شہر میں سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس کے بعد ملزم کے خلاف پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کی تحقیقات میں اب تک کیا سامنے آیا؟
مظفرآباد مقامی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او راشد حبیب کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے مقامی میڈیکل کالج سے اس کی داخلی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے جس میں اس واقعے کے متعلق حقائق موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں پولیس اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے گی۔
ایس ایچ او راشد حبیب کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں متاثرہ خواتین کی شناخت کرنے میں مدد ملے گی اور اس مقدمے کے حوالے سے مزید شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے مواد کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ایک دو دن میں مزید تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔'
ملزم کے وکیل کا کیا کہنا ہے؟
مقدمے کے مرکزی ملزم کے وکیل وقار عباسی کا کہنا تھا کہ اب تک ان کی گرفتار ملزم سے براہ راست ملاقات نہیں کروائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'سماجی دباؤ کے باعث ان کے مؤکل کا مؤقف نہیں سنا جا رہا۔'
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر لگایا جانے والا یہ الزام کہ انھوں نے کالج کی طالبات کو بلیک میل کیا یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ کالج کی کسی طالبہ کی جانب سے ان کے موکل کے خلاف شکایت سامنے نہیں آئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایف آئی آر میں جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ان خواتین کو بلیک میل کر رہا تھا تو ت اب تک کوئی بھی متاثرہ خاتون اس دعوے کی توثیق کے لیے سامنے نہیں آئی۔'

،تصویر کا ذریعہCourtesy Shahid Awan
میڈیکل کالج کی انتظامیہ کا کیا موقف ہے؟
میڈیکل کالج مظفرآباد کے پرنسپل ملازم حسین بخاری کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے کالج کی کسی بھی طالبہ نے ہراسانی یا بلیک میلنگ کی شکایت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ حال ہی میں لگ بھگ پانچ ماہ قبل اس کالج میں پرنسپل تعینات کیے گئے ہیں تاہم ان پانچ ماہ یا اس سے قبل ان کے علم میں ہراسانی کا کوئی واقعہ نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں ملزم سے متعلق شکایات ملیں تو اس کے بعد اس کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں کی گئی۔
کالج کے پرنسپل ملازم حسین بخاری کا کہنا تھا کہ 'ویڈیوز اور تصاویر میں نظر آنے والی خواتین ہمارے کالج کی طالبات ہرگز نہیں تھیں بلکہ ان میں تو بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالج کے طلبہ سے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے ہفتہ وار سروے کے ذریعے تعلیمی نظام اور اساتذہ کے رویوں سے متعلق رائے لی جاتی ہے اور شکایات کی صورت میں ان کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول سروے کے نتائج سے کالج کی اعلیٰ انتظامیہ کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کالج کے طلبا کو یہ اعتماد دیا گیا ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں وہ نہ صرف سادہ بلکہ پرنسپل کو بھی صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
میڈیکل کالج کے پرنسپل نے دعویٰ کیا کہ کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصاویر حالیہ نہیں ہیں بلکہ یہ ملزم کی چار سال قبل مختلف خواتین کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز ہیں جو ان کی اہلیہ کے ساتھ ذاتی رنجش کے سبب لیک کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے جب اس شخص کے بارے میں کالج کے پروفیسر نے بتایا کہ ان کی شہرت اچھی نہیں تو میں نے ان کے خلاف تحریری شکایت درج کروانے کو کہا تاکہ میں ایکشن لے سکوں تاہم جب کا ملازمت کا کنٹریکٹ 30 جون کو ختم ہوا تو اسے رینیو نہیں کیا گیا۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ملزم کے خلاف مقدمہ آٹھ ستمبر کو درج کیا گیا جبکہ وہ 30 جون کے بعد سے ادارے کے ملازم نہیں ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کالج کے پرنسپل ملازم حسین بخاری کا کہنا تھا کہ 'اگر یہ ویڈیو کالج کی حدود کے اندر بنی ہوتیں یا اس میں کالج کی طالبات کو نشانہ بنایا گیا ہوتا تو وہ خود اس مقدمے کے مدعی بنتے۔'
سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد کالج کا انسداد ہراسانی سیل کا قیام
مظفرآباد میڈیکل کالج نے اس واقعے کے بعد سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج اور مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے کالج میں پہلے سے موجود ایک انکوائری کمیٹی کو اب انسداد ہراسانی سیل میں تبدیل کر دیا ہے جس میں تین سینیئر خواتین اور ایک مرد رکن شامل ہیں۔
کالج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'اس سیل کا مقصد مستقبل میں اس قسم کی سرگرمی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو فوری طور پر بے نقاب کرنا اور اسے روکنا ہے۔'
کالج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'کالج انتظامیہ ملزم کے غیر اخلاقی اور غیر مہذب فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ تمام قانونی کارروائی کے دوران کالج انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔'
انسداد ہراسانی سیل کیا کرے گا؟
انسداد ہراسانی سیل کی رکن ڈاکٹر شفق حنیف کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالج میں پہلے انکوائری کمیٹی کے نام سے موجود ایک کمیٹی ٹی وی طلبا میں تعلیمی سرگرمیوں اور اساتذہ کے رویوں سے متعلق کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں پر پر کام کرتی تھی۔
ان کے بقول یہ کمیٹی سروے کے نتائج پر رپورٹ تیار کر کے کالج کی اعلیٰ انتظامیہ تک پہنچاتی تھی۔
ڈاکٹر شفق حنیف سن 2011 سے اس کالج کے ساتھ بطور استاد منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سارے عرصے میں انھوں نے ہراسانی کی کوئی شکایت نہیں سنی تاہم ان کا کہنا تھا کہ طلبا اپنے نفسیاتی مسائل تعلیم کے دباؤ، ہاسٹل کے مسائل یا کبھی کبھار ذاتی مسائل سے متعلق ماہرین نفسیات اور نفسیات کے اساتذہ سے کونسلنگ ضرور لیا کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میرے ذاتی خیال میں اگر بچے ذاتی اور گھریلو مسائل نفسیات کی اساتذہ کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں تو کالج کے مسائل بھی یقیناً شیئر کر سکتے ہوں گے۔'
انسداد ہراسانی سیل کس طرح کام کرے گا اس حوالے سے شفق حنیف کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ پہلے طلبا سے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے سروے فارم پُر کروائے جاتے تھے تاہم اب ہر ہفتے چند طلبا سے انٹرویوز کیے جائیں گے اور کالج کے ماحول اور اساتذہ اور انتظامیہ کے رویوں سے متعلق سوالات کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر شفق حنیف کا کہنا تھا کہ 'آج کل ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ تصاویر ویڈیوز یا شواہد کے فرانزک جانچ بہت ضروری ہو گئی ہے اس لیے کسی بھی معاملے میں اس پہلو سے تحقیقات ضروری ہیں۔
حالیہ واقعے میں سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'ان کی فرانزک جانچ کے بعد اگر یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ کالج کی حدود میں ہوا ہے تو اس صورت میں کالج ذمہ دار ہے لیکن اگر یہ سب کچھ کالج سے باہر ہوا ہے تو اس کے لیے ان افراد کے خاندان ذمہ دار ہیں یا وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اس واقعے سے متعلق ہونے والی پہلی تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ نہیں تھیں لیکن ان کے علم میں آنے والی تفصیلات کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں موجود خواتین کالج کی طالبات نہیں تھیں۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ہراسانی سے متعلق کالج کی طالبات سے کبھی ابھی انتظامیہ یا استاتذہ نے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ہراسانی کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تھا اس لیے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی گئی تاہم اب یہ مسئلہ انسدادِ ہراسانی سیل کی توجہ کا مرکز رہے گا۔


























