ڈاکٹر امجد ثاقب: اخوّت فاؤنڈیشن کے بانی کے لیے رامون مگسیسے ایوارڈ پر وزیراعظم عمران خان کی تعریف

،تصویر کا ذریعہFacebook/@AkhuwatOfficial
پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک، رامون مگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی ان کی تعریف کی ہے۔
ٹوئٹر پر ایک پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے ماڈل پر فلاحی ریاست بنانے کے سفر میں ہمیں ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کامیابی پر فخر ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب وزیراعظم عمران خان ڈاکٹر امجد ثاقب اور اخوّت فاؤنڈیشن کے کام سے متاثر ہوئے ہوں۔
گذشتہ سال بھی وزیراعظم عمران خان کی توجہ اخوت فاؤنڈیشن کی کامیابی کی جانب مبذول ہوئی تھی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی وزیراعظم سے ان کے دفتر میں ذاتی طور پر ملاقات کے بعد حکومت سے اپنے گھروں کی تعمیر کے لیے دیے جانے والے بلاسود قرضہ جات پروگرام کی مد میں پانچ ارب کی رقم اس کے لیے مختص کی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ڈاکٹر امجد کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ان کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے ڈاکٹر امجد کو پاکستان کے لیے قابلِ فخر قرار دیا۔ ایوارڈ کے اعلان کے بعد سے پاکستان میں ’رامون مگسیسے ایوارڈ‘ بھی ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
رامون مگسیسے ایوارڈ کیا ہے؟
رامون مگسیسے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئیرو مگسیسے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سہرانا جو دوسروں کی فلاح اور بہود کے لیے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں۔
اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔
رامون دلفیئیرو مگسیسے فلپائن کے ساتویں صدر تھے جو دسمبر 1953 میں برسرِ اقتدار آئے تاہم 1957 میں ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگسیسے کی حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فلپائن میں بدعنوانی کے حوالے سے شفاف ترین حکومتوں میں سے ایک تھی۔ صدر بننے سے پہلے رامون دلفیئیرو مگسیسے دوسری جنگِ عظیم میں ایک کامیاب گوریلا جنگجو بھی رہے جنھوں نے بعد میں صدر ایلپیدیو کوئرینو کے دور میں وزیرِ دفاع کا عہدہ بھی سنبھالا۔
رامون مگسیسے ایوارڈ دنیا کے معروف ترین اعزازت میں سے ایک ہے۔ ماضی میں یہ ایوارڈ نو پاکستانیوں کو دیا جا چکا ہے جس میں عبد الستار ایدھی، ان کی اہلیہ بلقیس بانو ایدھی، اور عاصمہ جہانگیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایوارڈ تین مرتبہ غیر ملکیوں کو پاکستان میں فلاحی کاموں کے لیے دیا گیا ہے۔
یہ ایوارڈ 1958 میں شروع کیا گیا تھا اور 2008 تک یہ چھ مختلف کیٹیگریوں میں دیا جاتا تھا۔ تاہم 2009 سے یہ صرف ایک کیٹیگری ’ابھرتے رہنما‘ کے طور پر دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اخوّت فاؤنڈیشن کیا ہے؟
امجد ثاقب صاحب، جو تعلیم کے لحاظ سے ڈاکٹر اور پیشے کے لحاظ سے ایک سرکاری ملازم تھے، نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 2001 میں اخوت کی بنیاد رکھی۔
یہ تنظیم غریب لوگوں میں بلاسود پیسے بطور قرِضِ حسنہ تقسیم کرتی ہے اور اس کے قرضوں کی متعدد اقسام ہیں جن میں گھر بنانے کے لیے ، بچوں کی شادی کرنے کے لیے، تعلیم کے لیے، کشی اور کا قرض اتارنے کے لیے، چھوٹی رقوم کے قرضے دیے جاتے ہیں۔
ادارے کے ابتدائی دنوں میں ڈاکٹر امجد 10 ہزار روپے تک کی رقم ہی قرض کی مد میں فراہم کر سکتے تھے اور ان کی پہلی قرض خواہ چند خواتین تھیں جو لاہور کی ایک چھوٹی سی آبادی سے تعلق رکھتی تھیں اور اکثر اپنے سینے پرونے کا کام شروع کرنے کے لیے پیسوں کی تلاش میں تھیں۔
ڈاکٹر امجد نے چند ماہ قبل صحافی بینظیر شاہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ابتدائی دنوں میں بھی ہم اس رقم کو بطور خیرات استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے بلا سود قرض حسنہ کے طور پر دینا چاہتے تھے۔'
اپنے سفر کے بارے میں انھوںنے کہا کہ وقت کے ساتھ اس بلا سود چھوٹے قرضے فراہم کرنے والے ادارے میں غربت کے خاتمے کے مزید منصوبے بھی شامل ہوتے گئے۔
اس کی ایک مثال اخوت صحت سہولت ہے جس کے تحت ضرورتمند لوگوں کو رعایتی نرخوں پر ادویات کی فراہمی، بنیادی صحت سہولیات کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ڈاکٹر سے مفت مشورہ ورہنمائی دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کے لیے تعلیمی میدان میں اخوت سکول و کالج پروگرام ہے جبکہ اخوت خواجہ سرا سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں دو ہزار سے زائد خواجہ سراؤں کو مالی امداد ، تعلیم، صحت کی سہولیات اور نفسیاتی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
دو بچوں کے باپ ڈاکٹر صاحب نے 2003 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو اس ادارے کے لیے ہمہ وقت مختص کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
دو دہائیوں بعد آج اس ادارے کے 826 سے زائد دفاتر ملک کے 400 چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ہیں اور اس ادارے کے اپنے 7000 ملازمین ہیں۔
'اخوت' اس وقت تک تقریباً 30 لاکھ لوگوں کو قرض فراہم کر چکا ہے۔ یہ قرضہ جات صرف گھروں کی تعمیر ہی کے لیے نہیں بلکہ تعلیم اور اسکے علاوہ مرد، خواتین اور خواجہ سراؤں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی بھی مد میں ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ثاقب کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والے عطیات میں سے محض پانچ سے چھ فیصد ادارے کے انتظامی معاملات چلانے کی مد میں جاتے ہیں جبکہ باقی غریب لوگوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اگر کوئی قرض واپس نہیں کر پاتا تو ہم اسے وعدہ یاد دلاتے ہیں‘
ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ جو لوگ ماہانہ صرف 30000 روپے کماتے ہیں وہ اس آمدنی کی بدولت اپنے گھر کی تعمیر کے لیے بنک سے قرض حاصل نہیں کر پاتے تھے۔
'ہم نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اس منصوبے کو پیش کیا تو وہ پہلے ہی سے کسی اچھے منصوبے کی تلاش میں تھے اس لیے انھوں نے فوراً اس پر حامی بھرلی اور متعلقہ حکومتی محکمے کو اس کی تقسیم کے حوالے سے سکیم کی تیاری کی ہدایات جاری کیں۔'
اخوت کو ملنے والے یہ حکومتی فنڈز وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ملے جس کا مقصد ذاتی مکانات کو نچلے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ میں لانا ہے۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کو اس وقت مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زیادہ گھروں کی قلت کا سامنا ہے جبکہ ویب سائٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ رہائشی صنعت زیادہ تر متوسط اور اپر مڈل کلاس کی ضروریات پوری کرتی ہے۔
ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ 'وہ لوگ جو اس تکون کے نچلی سطح پر ہیں، وہ کُل آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ ہیں اور یہ لوگ زیادہ ترغیر قانونی آبادکاریوں، تجاوزات اور کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔'
حکومتی فنڈ ملنے کے ساتھ ہی اخوت نے 11 ہزار لوگوں کی نشاندہی کر کے ان کو چار سے پانچ لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کیا۔ یہ ایسے لوگ تھے جن کے پاس اپنا دو یا تین مرلے کا ذاتی پلاٹ تو تھا مگر اس پر گھر کی تعمیر کے لیے رقم موجود نہیں تھی۔
قرض کی فراہمی سے قبل ادارہ بنیادی جانچ پڑتال بھی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/@AkhuwatOfficial
ڈاکٹر ثاقب کا کہنا تھا کہ قرض کی فراہمی کے لیے ’ہماری چند شرائط ہوتی ہیں مثلاً قرض خواہ ڈیفالٹر، جرائم پیشہ اور نشے کا عادی نہ ہو اور وہ اس علاقے میں ہی رہائش پذیر ہو۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ اخوت میں صارفین کی جانب سے ’قرض واپسی کی شرح 99 فیصد ہے اور بہت شاذو نادر ہی کوئی ڈیفالٹ کرتا ہے۔‘
'اور اگر کوئی قرض واپس نہیں بھی کر پاتا، تب بھی ہم صرف اسے اس کا وعدہ یاد دلاتے ہیں۔ قرض واپس نہ کرنے والوں کو عدالت لے کر نہیں جاتے۔'
ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ کسی بھی معتبر مالیاتی نظام کی طرح اخوت کے پیچھے کارفرما سوچ اعتماد کی ہے۔
'ہم نے اس معاشرے میں اس احساس کو جنم دینے کی کوشش کی ہے لوگ ایماندار ہوتے ہیں، لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور لوگ جھوٹے نہیں ہوتے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: 'ہم معاشرے کا ایک مثبت چہرہ سامنے لانا چاہتے ہیں۔ ہمیں لوگوں پر اعتماد کرنا سیکھنا ہو گا۔ میں کیوں خود سے یہ فرض کر لوں کہ لوگ ذمہ دار نہیں ہیں یا وہ ہمیں دھوکہ دیں گے۔'
'اخوت ایک چھوٹا سا تجربہ ہے۔ ہم تمام مسائل تو حل نہیں کر سکتے لیکن دوسروں کے لیے قابل تقلید نمونہ شاید بن سکتے ہیں۔'



























