بلدیہ ٹاؤن میں بم دھماکہ: ٹرک پر ’دستی بم حملہ‘، خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک، نو افراد زخمی

کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے بلدیہ میں ہفتے کی شب ایک اپ ٹرک پر 'گرینیڈ' حملے میں چھ خواتین اور چار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نو افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

واقعے کی خبر آنے کے بعد پہلے کہا گیا کہ سلنڈر پھٹنے کے باعث دھماکہ ہوا ہے تاہم کراچی پولیس کے کاؤنٹ ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے افسر راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ 'سلنڈر وغیرہ کا کوئی امکان نہیں ہے' اور انھوں نے کہا کہ گرینیڈ یعنی دستی بم کے شواہد ملے ہیں اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جو گرینیڈ میں استعمال ہوتی ہیں۔

انھوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'دھشت گردی کی کارروائی ہے، ممکنہ طور پر چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے گرینیڈ پھینکا گیا ہے۔'

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے سے ٹرک کی باڈی پر چھروں اور نٹ بولٹ کے کافی نشانات پائے گئے ہیں جو بم میں استعمال کیے گئے جبکہ دھماکا مقامی طور پر تیار کیے گئے بم سے کیا گیا۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے سے ٹرک کی باڈی پر چھروں اور نٹ بولٹ کے کافی نشانات پائے گئے ہیں جو بم میں استعمال کیے گئے جبکہ دھماکا مقامی طور پر تیار کیے گئے بم سے کیا گیا۔

اس سے قبل ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جس ٹرک میں دھماکا ہوا اس میں 20 سے 25 افراد سوار تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مواچھ گوٹھ میں دھماکے کا نشانہ بننے والا خاندان شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اس پر بم سے حملہ کیا گیا۔

رات گئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنی ٹویٹ میں تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہے جبکہ نو افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت کافی نازک ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتطامیہ کو تاکید کی کہ متاثرین کی مکمل دیکھ بھال کی جائے۔

انھوں نے وزیر ٹرانسپورٹ سے گاڑی کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا پتا لگایا جائے کہ گاڑی صوبہ سندھ کی ہے یا کسی اور صوبے کی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی بلدیہ ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے اور کہا کہ وفاقی ادارے سندھ حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرینگے اور اس کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔