آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈاکٹر عشرت حسین کا استعفیٰ: وجہ ذاتی وجوہات یا ادارہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہونا؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
- وقت اشاعت
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سے یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ آیا وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے یا اس کی وجہ ان کی تجویز کردہ اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہونا بنی۔
تین برس قبل پاکستان تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت بنائی تو ڈاکٹر عشرت حسین کو ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سونپا گیا تھا۔
ڈاکٹر عشرت حسین کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ کے طور پر نجی شعبے سے ماہر ٹیکس امور شبر زیدی اور سرمایہ کاری بورڈ کے لیے نجی شعبے سے ہارون شریف کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ شبر زیدی اور ہارون شریف نے مختصر مدت کے لیے ان عہدوں پر فرائض سرانجام دیے اور اس کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے برسر اقتدار آنے سے پہلے اپنے انتخابی منشور میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والے اداروں میں اصلاحات لا کر ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم سرکاری شعبے کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق حکومت کے تین برسوں میں اس شعبے میں اصلاحات پر کام نہیں ہو سکا اور اگر تھوڑا بہت کام ہوا بھی تو اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق گذشتہ ادوار کے مقابلے میں سول بیورو کریسی اس حکومت کے دوران زیادہ سیاست زدہ ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر عشرت حسین کون ہیں؟
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے ڈاکٹر عشرت حسین کا پیشہ وارانہ کرئیر 50 برس سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ تاہم ان کا نام اس وقت ملکی سطح پرزیادہ نمایاں ہوا جب فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں انھیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر لگایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اس سے پہلے عالمی بینک میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ سٹیٹ بینک کے گورنر کے طور پر انھوں نے سنہ 2006 تک کام کیا اور اس کے بعد وہ کراچی میں واقع انسٹٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں ڈین کے طور پر کام کرنے لگے۔
جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر اعظم عمران خان نے اگست میں اپنے عہدے پر حلف اٹھانے کے بعد انھیں اپنا مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات مقرر کیا جس پر انھوں نے تین سال تک کام کرنے کے بعد استعفی دے دیا۔
ڈاکٹر عشرت حسین کی بطور مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات کیا ذمہ داری تھی؟
اگست 2018 میں وفاقی کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت ادارہ جاتی اصلاحات سیل قائم کیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر عشرت حسین کے حوالے کی گئی۔
ڈاکٹر عشرت حسین کے ذمے پاکستان کے سرکاری شعبے کے کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات تیار کرنے کا کام لگایا گیا اور اسی مقصد کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کا سیل وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں قائم کیا گیا۔
ان اصلاحات میں سول بیوروکریسی کی کارکردگی میں بہتری کا کام سر فہرست تھا تاکہ سرکاری شعبے کی کارکردگی خاص کر گورننس اور ڈیلیوری کو اپ گریڈ کیا جا سکے۔
اس کے تحت سول بیوروکریسی میں بھرتی، تربیت، کارکردگی، ترقی، تنخواہوں اور مراعات کے امور کو دیکھنا تھا تاکہ بیوروکریسی کی مجموعی کارکردگی کو بہتر کیا جا سکے۔
ان اصلاحات میں سب سے زیادہ اہم بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنا تھا جو تحریک انصاف کے مطابق گذشتہ ادوار میں بہت زیادہ سیاست زدہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سرکاری شعبے کی کارکردگی بہت زیادہ زوال پذیر ہوئی۔
اصلاحات کی کیا تجاویز تھیں؟
موجودہ حکومت کے دور میں ادارہ جاتی اصلاحات کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر عشرت حسین کے ماتحت چلنے والے ادارہ جاتی اصلاحات سیل نے اس پر کام شروع کیا۔
ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے گذشتہ برس پیش کی گئی اصلاحات کے تحت گورننس کی بہتری کے لیے حکومتی اداروں کی ری سٹرکچرنگ کی تجاویز سامنے آئیں۔
اس کے ساتھ سول بیوروکریسی میں اصلاحات کی تجاویز بھی پیش کی گئیں جو اس شعبے میں بہتر افرادی قوت کی شمولیت پر زور دیتا ہے تاکہ گورننس کے امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کی پیش کردہ اصلاحات کے تحت بیوروکریسی میں آنے والے افراد کی تربیت پر زور دیا گیا جس میں سب سے زیادہ ان کی ترقی کے مسئلے پر توجہ دی گئی۔
اس بارے میں ماضی میں بہت زیادہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ جو حکومت کی گڈ بک میں شامل ہوتے ہیں انھیں ترقی دی جاتی ہے تو دوسری جانب جن سے حکومت ناراض ہوتی ہے ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔
ڈاکٹر عشرت حسین کی تجاویز کے تحت ایک سلیکشن بورڈ کے ذریعے جو درجن سے زائد سینیئر افسران پر مشتمل ہو وہ بیوروکریسی میں ترقی کے عمل کو دیکھے اور اس کی نگرانی کرے۔
ان تجاویز کے تحت بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنا تھا کیونکہ یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ماضی میں سیاسی حکومت ان ترقیوں پر اثرانداز ہو کر ترقی و تبادلے کرواتی رہی ہیں۔
صحافی انصار عباسی نے اس سلسلے میں کہا کہ بیوروکریسی بہت زیادہ سیاست زدہ ہو گئی ہے اور اسے غیر سیاسی بنانے کے لیے ایک سیاسی عزم کی ضرورت تھی تاکہ گورننس کو بہتر بنایا جائے۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے اسی پر کام کیا تاہم انصار عباسی کے مطابق ان کا بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کا کام پورا نہیں ہو سکا۔ انصار عباسی کے مطابق ’آج بیوروکریسی گذشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ سیاست زدہ ہو چکی ہے۔‘
سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین کے طور پر تحریک انصاف کی حکومت میں کام کرنے والے ہارون شریف نے بعد میں استعفیٰ دے دیا تھا۔
ان کے مطابق ’ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے پیش کی جانے والی اصلاحات کی مخالفت میں ایک تو ایلیٹ کلچر رکاوٹ بنا جو ان اصلاحات پر عمل درآمد نہیں چاہتا تو اس کے ساتھ خود بیوروکریسی نے بھی اس پر مزاحمت کی اور ساتھ ساتھ وہ افراد جو پاور کوریڈور میں اثر رکھتے ہیں اور حکام اعلیٰ کے دوست اور ان سے قربت رکھتے ہیں وہ بھی اس کام میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں۔‘
تاہم انصار عباسی کے مطابق ’بیوروکریسی کا ایک چھوٹا حصہ تو مزاحمت کر رہا تھا لیکن عمومی طور پر بیوروکریسی کو اس سے زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔‘
اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونا کیا ڈاکٹر عشرت حسین کے استعفیٰ کی وجہ بنا؟
ڈاکٹر عشرت حسین نے ملکی میڈیا کو اپنے استعفیٰ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’80 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد وہ مزید ذمہ داری انجام نہیں دینا چاہتے اور اب وہ اس ذمہ داری کو خدا حافظ کہنا چاہتے ہیں۔‘ انھوں نے اصلاحات پر اپنی کاوشوں اور اس کے نتائج کا بھی ذکر کیا۔
ان کے استعفے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہارون شریف نے کہا ان کی سمجھ کے مطابق ڈاکٹر عشرت حسین اپنی پیش کردہ اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی شاید مستعفی ہوئے ہوں کیونکہ وہ وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے جس کے پاس عمل درآمد کا اختیار نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا ’بظاہر یہی لگتا ہے کہ عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ میں نے بھی یہی کیا کہ جب میری تجویز کردہ پالییسوں اور تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا گیا تو میں سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو گیا۔’
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اصلاحات کے خلاف بہت مزاحمت ہو رہی تھی اور بیوروکریسی اپنا روایتی کام کرنے کا طریقہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ میرا بھی خیال تھا کہ اسے تبدیل کرنا پڑے گا تاہم بہت زیادہ مزاحمت ہوئی۔‘ شبر زیدی کے مطابق ڈاکٹر عشرت حسین کے استعفیٰ کے پس پردہ بھی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کی اصلاحات پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا تھا۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے پریشان ہو کر استعفیٰ دیا یا نہیں دیا اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم وہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیوروکریسی اضطراب کا شکار ہے کیونکہ سوائے ان بیوروکریٹ کے جو سیاسی روابط کے ذریعے ترقی و تبادلہ پاتے ہیں دوسرے لوگ اصلاحات کے مخالف نہیں تھے۔
انصارعباسی نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ڈاکڑ عشرت بیوروکریسی کو نیب کی کارروائی سے محفوظ بنانا چاہتے تھے تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔