لاہور: چھ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں سوتیلا باپ گرفتار

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور کے علاقے شاہدرہ میں پولیس نے ایک شخص کو اپنی چھ سالہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی اہلیہ پر تشدد کرنے کے بعد انھیں فائرنگ کر کے زخمی بھی کر دیا تھا۔

لاہور کی رہائشی خاتون نے شاہدرہ پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کروائی کہ ان کے دوسرے خاوند نے مبینہ طور پر ان کی چھ سالہ بچی اور اپنی سوتیلی بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ملزم کئی مرتبہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا تھا۔

خاتون نے ملزم کو 'بچی کے ساتھ غلط حرکات کرتے ہوئے پکڑ لیا اور اس بارے میں ان سے بات کی تو ملزم نے ان پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔' اس دوران ملزم نے پستول سے فائرنگ کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کو زخمی بھی کر دیا۔

شاہدرہ تھانے میں درج مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد ملزم نے انھیں گھر سے نکال دیا تھا تاہم بچی کو اپنے پاس رکھ لیا تھا اور اگلے کئی روز تک اپنے چند نا معلوم دوستوں کے ساتھ مل کر اس کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

انچارج انویسٹیگیشن سٹی ڈویژن لنگڑیال نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزم بچی کو غلط طریقے سے چھوتا تھا۔ 'وہ بچی کو موبائل پر پورن فلمیں بھی دکھاتا رہا اور اس کے بعد اس نے بچی کر ریپ کرنے کی کوشش کی۔'

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے سامنے یہ واقعات اس وقت آئے جب گولی لگنے کے بعد بچی کی والدہ ہسپتال پہنچیں۔ 'بچی کی والدہ نے اسے بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اس پر ان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد ملزم نے اپنی اہلیہ پر فائرنگ کر دی تھی۔'

تھانے میں درج مقدمے کے مطابق والدہ نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے لگ بھگ آٹھ برس قبل پاکپتن میں ایک شخص سے شادی کی تھی جو صرف دو یا تین سال چل سکی جس کے بعد ان کے خاوند نے انھیں طلاق دے دی تھی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی بچی ان کے پہلے خاوند کی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے شاہدرہ کے رہائشی (ملزم) سے دوسری شادی کر لی تھی اور بچی ان کے ساتھ رہتی تھی۔

پولیس کے صنف کی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے محمکے کی تحقیقاتی آفیسر سب انسپکٹر شفق نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی میڈیکل رپورٹ میں ریپ ثابت ہو گیا تھا جس کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

'میڈیکل رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا تھا کہ بچی کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا تاہم تاحال یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ ریپ کس نے کیا جو فرانزک تجزیے اور دیگر شواہد کی مدد سے کیا جائے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے ساتھ ان کے دو ساتھیوں کو بھی بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جنسی تشدد کرنے کے الزام میں جیل بھجوا دیا گیا تھا۔ ملزم کے خلاف گولی چلا کر اپنی اہلیہ کو زخمی کرنے کے خلاف بھی مقدمی درج کیا گیا ہے۔